تیسری لہر سے پہلےہزاروں بچوں کو مہلک بیماریوں کے حفاظتی ٹیکے نہیں لگائے گئے

Updated: May 27, 2021, 2:56 PM IST | Agency | Agra

پینتیس؍ہزار بچے ٹی بی، اسہال،ٹٹنس،خسرہ، روبیلا اورروٹاوائرس جیسی بیماریوں کے ٹیکے سے محروم۔ڈبلیو ایچ او نے ضلعی ٹاسک فورس کو جنگی پیمانے پر ٹیکہ لگانے کی ہدایت دی

Agra: A scene of vaccination outside the hospital .Picture:Inquilab
آگرہ: اسپتال کے باہر ٹیکہ کاری کا ایک منظر۔ تصویر: انقلاب

 اترپردیش کے ضلع  آگرہ میں ۱۲؍سے ۲۴؍ ماہ کے ۳۵؍ہزار بچے مہلک بیماریوں کےحفاظتی ٹیکے سے محروم ہیں۔ انہیں ٹی بی، اسہال،ٹٹنس،خسرہ، روبیلا اور روٹاوائرس  جیسی بیماریوں سے بچاؤ کیلئے ٹیکہ نہیں لگایا گیا ہے۔ یہ انکشاف ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن(ڈبلیوایچ او) کے ایک سروے میں  ہوا ہے۔  ڈبلیو ایچ او نے ضلعی ٹاسک فورس کو ہدایت دی ہے کہ وہ چھوٹے ہوئےبچوں کو فوری طور پرٹیکہ لگانے کا کام شروع کردے۔ کورونا وباء کی تیسری لہر سے پہلے بچوں کے ٹیکہ کاری میں محکمہ صحت کی بڑی لاپروائی سامنے آئی ہے۔ بچوں کے ٹیکہ کاری کے لئے محکمہ صحت نے نعرہ دیاتھا:’’ایک بھی بچہ چھوٹا،سرکشا چکر ٹوٹا۔‘‘ اس طرح آگرہ کے ۳۵؍ہزار بچوں کا ’سرکشا چکر‘ ٹوٹ گیاہے۔ ایس این میڈیکل کالج، ضلع   مہیلا چکتسالیہ(لیڈی لائل) ،شاہ گنج اور نرائچ علاقے میںایک سال سے ٹیکہ کاری بند ہے۔ دوسری طرف شہر میں ۹۴۷؍اور دیہات میں ۴۵۲؍کُل ۱۳۹۹؍ٹیکہ کاری زیرالتواء  ہے۔ کہیں ٹیکہ لگانے والی اے این ایم نہیںتو کہیں ٹیکے ہی دستیاب نہیں ہوسکے ۔ایک مرحلے میں ۲۰؍سے ۲۵؍بچوں کے ٹیکے لگائے جاتے ہیں۔ ٹیکہ کاری کیمپ کیلئے آشاکارکنوں کو نوزائیدہ بچوں کی ماں کو پہلے مطلع کرنا پڑتا ہےمگر گزشتہ ایک سال سے آشا کارکن کورونا انفیکشن کی روک تھام کیلئے گھر گھرسروے،مشتبہ مریضوں کی نگرانی، دوا کی تقسیم اور علامات والے مریضوں کی فہرست بنانے میں مصروف ہیں۔انہیں بچوں کی ٹیکہ کاری کیلئے علاقے میں جانے کا وقت ہی نہیں ملا۔ کورونا انفیکشن کے سبب پولیو سے بچاؤ کے لئے ۴؍ماہ سے بچوں کو دوبوند  زندگی کی بھی نہیں پلائی گئی۔ جنوری سے شہری علاقوں میں پولیو پلانے والی آشا اور محکمہ صحت کے کارکنوں کو محنتانہ نہیں ملا۔ تقریباً ۳۵۰۰؍آشاؤں کا محنتانہ باقی ہے۔ انہیں ہرمرحلے پر ۷۵؍روپے ملتے تھے۔ فتح پور سیکری ،خیرگڑھ، باہ، پناہٹ، اچھنیرا،شمس آباد،اکولا اوربرولی اہیر میں ۳۶؍ٹیکہ کاری سینٹر ایسے ہیں جہاں اس سال بچوں کو ٹیکے نہیں لگے۔ ان سینٹروں پر ٹیکہ لگانے کے لئے اے این ایم اور اسٹاف نرس نہیں۔نوزائیدہ بچوں کے ٹیکہ کاری کے لئے سی ایم او دفتر سے ہرسال ٹریکنگ بک لیٹ چھپوائی جاتی  ہیں۔انہیں آشاؤں اور اے این ایم کو دیاجاتا ہے۔ ٹیکہ کاری کے وقت ان میں بچے کا نام،عمر، ماں باپ کی عمر اورباپ کا موبائل نمبروغیرہ درج ہوتا ہے۔گزشتہ ایک سال سے شہر اور دیہات میں ٹریکنگ بک لیٹ نہیں چھپی۔اس کی وجہ سے ٹیکہ کاری کے لئے بچوں کی ٹریکنگ بھی بند ہے۔ ۱۲؍سے ۲۴؍مہینے تک بچوں کو ۲؍ مہینے،۴؍ مہینے،۹؍ مہینے ، ۱۲؍اور ۲۴؍مہینے کے وقفے سے  ویکسین لگائی جاتی ہیں۔ ضلع مجسٹریٹ پربھو این سنگھ نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ ملی ہے۔ ٹاسک فورس کو جلد ٹیکہ کاری شروع کرانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ انہوں نے کچھ سامان اور ملازمین کی ضرورتیں بتائی ہیں، انہیں پورا کرایا جائے گا۔سبھی بچوں کا ٹیکہ کاری کرائی جائے گی۔سی ایم او ڈاکٹر آرسی پانڈے کا کہناہے کہ جنوری سے کورونا ٹیکہ کاری چل رہی ہے۔ سبھی اے این ایم اور دیگر اسٹاف اسی میں مصروف ہیں۔ بچوں کے ٹیکہ کاری کے لئے ایک الگ ٹیم بنائی جارہی ہے۔وہ شہر اور دیہات میں کیمپ لگائے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK