میٹنگ میں ٹھوس لائحہ عمل کے بجائےسانحہ کی ذمہ داری شہری انتظامیہ پر ڈالنے کی کوشش

Updated: September 27, 2020, 5:26 AM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

یہاں عمارت سانحہ کے فوراً بعد منعقدآن لائن جنرل باڈی میٹنگ نے شہریوں کو مایوس کیا۔شہریوں کو توقع تھی کہ آن لائن منعقد ہونے والی اس جنرل باڈی میٹنگ میں سیاسی لیڈران اور ایڈمنسٹریشن ایک ساتھ کھڑے ہوکر شہر کی تعمیر و ترقی کے تعلق سے کوئی ٹھوس لائحہ عمل بنائیں گے۔

Bhiwandi Building Collapsed - PIC : PTI
بھیونڈی بلڈںگ حادثہ ۔ تصویر : پی ٹی آئی

یہاں عمارت سانحہ کے فوراً بعد منعقدآن لائن جنرل باڈی میٹنگ نے شہریوں کو مایوس کیا۔شہریوں کو توقع تھی کہ آن لائن منعقد ہونے والی اس جنرل باڈی میٹنگ میں سیاسی لیڈران اور ایڈمنسٹریشن ایک ساتھ کھڑے ہوکر شہر کی تعمیر و ترقی  کے تعلق سے کوئی ٹھوس لائحہ عمل بنائیں گے۔ تاہم شہر کی تعمیر وترقی کیلئے مثبت اور ٹھوس گفتگو کے بجائے میٹنگ میں بیشترلیڈران نے عمارت سانحہ کی ساری ذمہ داری شہری انتظامیہ پر ڈال کر اپنی ذمہ داریوں سے بری الزمہ ہونے کی کوشش کی۔
 واضح رہےکہ’بسی سانحہ‘ کے بعد ’جیلانی بلڈنگ‘ حادثہ شہر کادوسرا بڑا حادثہ تھا جس کے ملبے میں ۳۸؍ افراد دفن  ہوگئے۔ اس حادثہ نے پورے شہر کو دہلا کر رکھ دیاہے۔شہریوں کو اُمید تھی کہ جمعہ کو منعقد آن لائن جنرل باڈی میٹنگ میں پورا کونسل ایک ساتھ کھڑے ہوکریہ عہد کرےگا کہ اب آئندہ شہر میں اس طرح کا کوئی واقعہ دوبارہ رونما نہیں ہوگا نیز اس پر کوئی ٹھوس لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔لیکن میٹنگ میں اس طرح کا کوئی لائحہ بنانے کے بجائے ممبران صرف میونسپل کمشنر اور انتظامیہ کو ہدف وتنقید کا نشانہ بناتے رہے۔نیز عمارت سانحہ کی ساری ذمہ داری کارپوریشن انتظامیہ کو قرار دیتے ہوئے اپنی ذمہ داریو ں سے  پلہ جھاڑنے کی کوشش کی۔
 کارپوریٹروں نے انتہائی مخدوش عمارتوں میں رہنے والے لوگوں کیلئے کارپوریشن انتظامیہ کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ عمارتوں کے تعلق سے افسران صرف نوٹس دے کر اپنا دامن بچا لیتے ہیں۔ مخدوش عمارتوں میں رہنے والے شہریوں کی بازآبادکاری کیلئے کوئی انتظام نہیں کیا جاتاہے۔ جس کے سبب مخدوش عمارتوں میں لوگ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر رہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔  
 شہر میں اس بات کی چرچا ہے کہ میونسپل کمشنر نے جس وقت چارج سنبھالا ہے اس وقت کووِڈ کی وباء اپنے شباب پر تھی۔اسے قابو میں کر کے اب  انہوںنےدوسری چیزوں کی جانب توجہ دینے کا سلسلہ شروع ہی کیا تھا کہ یہ سانحہ ہوگیا۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اگرچند ماہ قبل چارج لینے والا میونسپل کمشنر اس طرح کے سانحہ کا ذمہ دار ہے تو کیا غیر قانونی ، ناقص اشیاء سے تعمیر ہونے والی عمارت اور عمارت منہدم ہونے پر وہ سیاست داں ذمہ دار نہیں ہے جوکسی ایک وارڈ میںگزشتہ۱۵؍سے ۲۰؍برسوں سے مسلسل ’راج‘ کررہے ہیں؟
اسٹینڈنگ کمیٹی میں۸؍نئے اراکین کی شمولیت
 جمعہ کو اسٹینڈنگ کمیٹی کے ۱۶؍اراکین میں ۸؍اراکین کی میعاد مکمل ہونے پران کی جگہ کانگریس سے محمد حلیم انصاری،عارف حنیف خان،ڈاکٹر زبیر،پرشانت لاڈ اور ارون راؤت، شیوسینا کے سنجے مہاترے  اور  وندنا منوج کاٹیکر اور کونارک وکاس اگھاڑی سے ولاس پاٹل کا انتخاب عمل میں آیاہے۔ واضح ہوکہ حلیم انصاری، سنجے مہاترے اورولاس پاٹل کو دوبارہ اسٹیڈنگ کمیٹی کا رکن بنایا گیا ہے۔نیز حلیم انصاری کارپوریشن میں کانگریس کے گروپ لیڈر ہونے کے ساتھ ہی ان کے پاس اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین کا عہدہ بھی ہے۔
 سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق کانگریس کو مضبوط کرنے اور میونسپل انتخاب کے پیش نظرکسی ایک ہی شخص کو کئی عہدے دینے کے بجائے پارٹی کو طاقت فراہم کرنے کیلئے دوسرے کارپوریٹروں کو بھی ساتھ لیکر چلنا چاہئے۔معلوم ہوکہ ۱۶؍رکنی اسٹینڈنگ کمیٹی میں کانگریس کے سب سے زیادہ ۸؍، بی جے پی کے ۴؍،شیوسینا اور کونارک وکاس اگھاڑی کے ۲۔ ۲؍اراکین ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK