بھیونڈی: علاج میں غفلت اور رشوت کے مطالبے پر اندرا گاندھی اسپتال کو نوٹس

Updated: September 28, 2020, 7:43 AM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

حاملہ خاتون کے تعلق سے ملنے والی شکایت پر تھانے کے سیول سرجن نے اسپتال انتظامیہ کو نوٹس جاری کرکے فوراً جواب دینے کی ہدایت دی

Indria Gandhi Hospital - Pic : Inquilab
اندرا گاندھی اسپتال ۔ تصویر : انقلاب

یہاں اندرا گاندھی سب ڈسٹرکٹ اسپتال میں علاج کیلئے آئی ایک حاملہ خاتون کے علاج میں لاپروائی  برتنےاور رشوت کے مطالبے پر تھانے کے سیول سرجن نے اسپتال انتظامیہ کے خلاف سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے شوکاز نوٹس جاری کیا ہے۔ نوٹس میں اسپتال کے سپرنٹنڈنٹ کو انتباہ دیا گیا ہے کہ وہ نوٹس موصول ہونے کے ۱۲؍گھنٹوں کے اندر اس کی وضاحت کریں بصورت دیگر ڈسپلن شکنی کی کارروائی کی جائے گی۔ 
 موصول اطلاع کے مطابق  ۱۲؍ ستمبر کی تقریباً نصف شب کو شانتی نگر علاقے سے تعلق رکھنے والی حاملہ خاتون کو زچگی کے لئے اندرا گاندھی سب ڈسٹرکٹ اسپتال میں لایا گیا تھا۔ حاملہ خاتون کے لواحقین نے الزام عائد کیاہے کہ’’ پہلے تو درد سے تڑپتی اس خاتون کو اسپتال میں داخل کرنے میں  ٹال مٹول کا رویہ اختیار کیا گیا۔ اسپتال میں داخل کرلیا گیا تو زچگی کے لئے ڈیڑھ ہزار روپے رشوت طلب کی  گئی۔ حاملہ عورت نے جب رقم دینے سے انکار کردیا توزچگی کے عملے نے خاتون کی مدد  کے  بجائے اسے نظرانداز کردیا۔ اس کی وجہ سے عورت کے ساتھ گئی ایک دوسری خاتون نے اس کی  زچگی کرائی۔ نیز پیسوں کے مطالبے پر پہلے بچے کو ہاتھ میں نہیں دینے اور پھرزچگی کے ۲؍دن بعد جب خاتون اپنے گھر جانا چاہتی تھی تو اسے گھرجانے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔اس کی وجہ سے حاملہ خاتون کو بہت پریشانیوںکا سامنا کرنا پڑا۔
 اندرا گاندھی سب ڈسٹرکٹ اسپتال کے اس غیرانسانی رویہ کے خلاف رکن اسمبلی رئیس شیخ نے سخت ناراضگی کااظہار کرتے ہوئے ریاستی وزیر برائے صحت راجیش ٹوپے،محکمہ صحت کے ڈائریکٹر ،ڈپٹی ڈائریکٹر،تھانے کے سول سرجن اور میونسپل کمشنر کو تحریری طور پرحاملہ خاتون کے ساتھ بدسلوکی،غفلت اور رشوت طلب کرنے کے واقعہ کو ناقابل معافی اور ڈسپلن شکنی قرار دیتے ہوئے انہیں معطل کرنے کا مطالبہ کیا۔اس معاملے میں شہر کی معروف سماجی تنظیم مومنٹ فور پیس اینڈ جسٹس نامی سماجی تنظیم نے بھی اسپتال انتظامیہ کے خلاف شکایات درج کروائیں۔
 رکن اسمبلی کے  خط کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے، تھانے سول سرجن ڈاکٹر کیلاش پوار نے آئی جی ایم اسپتال کے سپرنٹنڈنٹ کووجہ بتاؤ نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ کے اسپتال کی بدانتظامی اوربدعنوانی کے معاملے میں متعدد شکایت انہیں موصول ہو رہی ہیں۔ نان کووِڈ اسپتال ہونے کے سبب دیگر امراض اور زچگی کے لئے فوری خدمات کی فراہمی ضروری ہے۔ اسپتال عملے کے ذریعہ مریضوں کے ساتھ بد سلوکی کی وجہ سے مریضوں کو بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
 سول سرجن کے نوٹس کے تعلق سے اندرا گاندھی اسپتال کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر انل تھورات نے کہا کہ وہ ابھی چھٹی پر ہیںجس کے سبب اس تعلق سے وہ پیر کو معلومات دے پائیں گے۔آئی جی ایم اسپتال کے انچارج ڈاکٹرراجو مستاور نے اس ضمن میں بتایا کہ ’’آئی جی ایم اسپتال میں کام کرنے والے بیشتر عملے ٹھیکے پر ہیں جس کی وجہ سے کبھی کبھی معاہدے پر کام کرنے والے ملازمین سے اس طرح کی حرکت سرزدہوجاتی ہے۔ اس بارے میں اطلاع ملنے پر زچگی کے شعبے میں کام کرنے والی ۲؍خالہ کی چھٹی کردی گئی ہے اور ۲؍ افراد کا وارڈ تبدیل کردیا گیا ہے۔ اس لاپروائی پر متعلقہ ٹھیکیدار کو نوٹس بھی جاری کردیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK