Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی:۲؍کروڑ کی سڑک چند ماہ میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار

Updated: June 09, 2026, 7:05 PM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

سڑک کی تعمیر میں مبینہ بدعنوانی کے خلاف پی ڈبلیوڈی دفتر پر شرم جیوی سنگٹھن کا زبردست احتجاج۔

A Large Number Of Women Were Also Present In The Protest Sit-In.Photo:INN
احتجاجی دھرنے میں بڑی تعداد میں خواتین بھی موجود تھیں۔ تصویر:آئی این این
عوامی تعمیرات محکمہ (پی ڈبلیو ڈی) کی نگرانی میں تقریباً ۲؍ کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کی گئی سڑک میں مبینہ بدعنوانی اور ناقص تعمیراتی کام کے خلاف پیر کو شرم جیوی سنگٹھن نے بھادوڑ میں واقع پی ڈبلیو ڈی دفتر پر زبردست احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دیا۔ مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ سرکاری فنڈز خرچ ہونے کے باوجود سڑک چند ہی ماہ میں جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی ہے جس سے تعمیراتی معیار پر سنگین سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔
 
 
موصولہ اطلاعات کے مطابق ضلع منصوبہ بندی کمیٹی کے تحت مالی سال ۲۳۔۲۰۲۲ءمیں شہر سے ملحق پلنجے گرام پنچایت کے حدود میں واقع دیپولی تا گومتارا قلعہ روڈ کی تعمیر کیلئے تقریباً ۲؍ کروڑ روپے کی منظوری دی گئی تھی۔ اس منصوبے کا مقصد بھورپاڑا، نمبرپاڑا اور خرمپاڑا سمیت قبائلی بستیوں کے مکینوں کو بہتر سفری سہولت فراہم کرنا تھا، لیکن تعمیر مکمل ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد سڑک میں دراڑیں پڑنے لگیں اور کئی مقامات پر کنکریٹ اکھڑنے کی شکایات سامنے آئیں۔شرم جیوی سنگٹھن کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ تعمیراتی کام کے دوران طے شدہ معیار پر عمل نہیں کیا گیا۔ سڑک کی مناسب کمپیکشن نہیں کی گئی، کنکریٹ پر ضروری مدت تک پانی کا چھڑکاؤ نہیں کیا گیا اور منصوبے کی تفصیلات ظاہر کرنے والا معلوماتی بورڈ بھی نصب نہیں کیا گیا۔
 
 
تنظیم نے یہ بھی الزام لگایا کہ سڑک کے کنارے تعمیر کی گئی نالیاں ناقص معیار کے باعث خستہ حال ہوچکی ہیں جبکہ سڑک کی موٹائی بھی منظور شدہ تخمینے سے کم رکھی گئی ہے۔تنظیم کے مطابق ۱۶؍ مارچ کو اس سلسلے میں تحریری شکایت  کی گئی تھی لیکن کوئی کارروائی نہ ہونے پر احتجاج کیا گیا۔ مظاہرین نے سڑک کی غیر جانبدار تکنیکی جانچ، ٹھیکیدار کی ادائیگی روکنے، ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی اور معیار کے مطابق سڑک کی ازسرنو تعمیر کا مطالبہ کیا۔ سنگٹھن نے متنبہ کیا ہے کہ اگر جلد کارروائی نہ کی گئی تو احتجاجی تحریک کو مزید وسیع کیا جائے گا۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK