بھیونڈی:میونسپل اسکولوں میں اردو اساتذہ کی کمی کے باوجود ٹیچروں کی ضلع بدلی جاری

Updated: October 21, 2020, 9:36 AM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

رکن اسمبلی نے اسے کھلے عام اردو دشمنی سے تعبیرکیا، میونسپل کمشنرسے کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا

Bhiwandi Edu Depart - Pic : Inquilab
بھیونڈی ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ ۔ تصویر : انقلاب

یہاں میونسپل کارپوریشن کے اردو پرائمری اسکولوں میں اساتذہ کی کمی کے باوجودبنا کسی متبادل کے اردو ٹیچروں کی ضلع بدلی پر رکن اسمبلی رئیس شیخ نے برہمی کااظہارکیا ہے۔انہوں نے اسے کھلے عام اردو دشمنی سے تعبیر کرتے ہوئے میونسپل کمشنر سے فوری مداخلت کی درخواست کی اور خاطی میونسپل افسران کیخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ رکن اسمبلی نے ’پوتر پورٹل‘ سے ان ٹیچروں کے متبادل لائے بغیرٹیچروں کی اس ضلع بدلی کو بدعنوانی سے تعبیر کرتے ہوئے اس معاملے کو ریاستی وزیر برئے تعلیم تک لے جانے کی بات کی ہے۔
 رکن اسمبلی رئیس شیخ نے میونسپل کمشنر ڈاکٹر پنکج آشیاکو تحریری طور پربتایا ہے کہ’’ میونسپل کارپوریشن کے اسکولوں میں طلبہ کی تعداد کے مطابق اساتذہ کی کمی ہے ۔انہوں نے کمشنر کو بتایا کہ اساتذہ  کی ضلع بدلی  کے تعلق سے جنرل باڈی میٹنگ میں پیش کی گئی تجویزپر اراکین نے اس تجویز پر اس وقت ہی غور کرنے کی بات منظور کی تھی جب تک ان اساتذہ کا متبادل نہیں مل جاتا ہے۔اس کے باوجود افسران بدعنوانی اور مالی فائدے کیلئے ایجوکیشن مافیا سے ساز باز کرکے بنا کسی متبادل کے ٹیچروں کی ضلع بدل کرنے کا کام جاری رکھا ہے۔
 رکن اسمبلی نے پنکج آشیا کو بتایا کہ ۲۴؍ اپریل ۲۰۱۷ء کے وزارت تعلیم کے فیصلے کے مطابق ضلع بدلی کیلئے کم سے کم۵؍سال تک نوکری کرنے کے بعد ہی کوئی استادضلع بدلی کی درخواست دے سکتاہے۔لیکن افسران وزارت تعلیم اور کارپوریشن میں منظور تجویز کی پرواہ نہ کرتے ہوئے  اپنے ’مالی فائدے‘ کوترجیح دیکراساتذہ کو بھیونڈی سے اپنے من پسند شہروں میں ٹرانسفر کرتے رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ ہی ضلع بدلی کی دوسری شرط کے مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر آف ایجوکیشن اور ڈائریکٹر آفس پونے کی اجازت ضروری ہے۔لیکن بہت سی فائلوں میں اجازت نہیں لی گئی ہے۔افسران کی لاپروائی کایہ عالم ہے کہ ضلعی تبدیلی کے لئے اساتذہ کے ذریعہ دیا گیا میڈیکل سرٹیفکیٹ کی بھی جانچ نہیں کی گئی ہے۔‘‘
 میونسپل کمشنر ڈاکٹر پنکج آشیا نے  بتایا  کہ’’اوپر سے جن اساتذہ کی فائلیں آئیں تھیں۔ان کی ضلع بدلی کردی گئی ہےلیکن اگر اس میں کسی طرح سے بھی کوئی غیرقانونی اور اصول و ضوابط کے خلاف کام کیا گیا  ہوگا تو  اس کی جانچ کی جائیگی۔‘‘
میونسپل اسکولوں کی صورت حال
 میونسپل کارپوریشن کے سابق انتظامی افسر سندیپ پاٹل کے ذریعہ فراہم کردہ معلومات کے مطابق میونسپل کارپوریشن کے زیرانتظام اردو میڈیم کے۴۸؍اسکولوں میں ۱۶؍ ہزار ۳۴۰؍ طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ان طلبہ کوزیور تعلیم سے آراستہ کرنے کیلئے۵۰۷؍اساتذہ ہیں۔اردو اسکولوں  میں طلبہ کی تعداد کے مطابق۷۹؍ٹیچروں کی کمی ہے۔ اسی کے ساتھ ہی گزشتہ کئی برسوں سے ۳۴؍ ہیڈ  ماسٹر کی پوسٹ خالی ہے اگر۳۴؍ٹیچروں کو ترقی  دے کر ہیڈ ماسٹر بنادیا گیا تو ۱۱۳؍ٹیچر اردو اسکولوں میں کم ہوجائیں گے۔اسی کے ساتھ ہی اس برس کئی ٹیچرس سبکدوش بھی ہورہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK