معیشت میں عالمی جنگ کے بعد کی سب سے بڑی گراوٹ

Updated: July 10, 2020, 11:33 AM IST | Agency | New Delhi

کورونا وائرس کے بڑھتے معاملات کو دیکھتے ہوئے عالمی معیشت میں ۲۰۲۰ء میں ۵ء۲؍ فیصد کی گراوٹ آنے کا اندیشہ ہے

Lockdown - Pic : INN
لاک ڈاؤن ۔ تصویر : آئی این این

 کورونا وائرس کے بڑھتے معاملات کو دیکھتے ہوئے عالمی معیشت میں ۲۰۲۰ء میں ۵ء۲؍ فیصد کی گراوٹ آنے کا اندیشہ ہے۔اور دنیا کے تقریباً سبھی ملکوں کی معاشی صورتحال دھندلی ہوتی نظر آرہی ہے۔ ڈن اینڈ براڈ اسٹریٹ کی ایک رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد کی سب سے بڑی گراوٹ
 رپورٹ کے مطابق، تجارت کے معاملے میں عالمی منظر نامہ دھندلا ہے اور عالمی معیشت ۲۰۲۲ء سے پہلے کووڈ ۱۹؍ سے قبل کی سطح پر نہیں آسکے گی۔ اس رپورٹ میں ۱۳۲؍ممالک کو شامل کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’ڈن اینڈ برانڈ اسٹریٹ کے مطابق عالمی معیشت میں ۲۰۲۰ء میں ۵ء۲؍فیصد کی گراوٹ آئے گی۔ یہ دوسری عالمی جنگ کےبعد سب سے بڑی گراوٹ ہے اور ۲۰۰۹ء میں ۱ء۹؍فیصد کی گراوٹ کے مقابلے کہیں زیادہ بڑی گراوٹ ہے۔‘‘
شدید کساد بازاری کا اندیشہ
 ایشیا بحر الکاہل کے خطہ کا۲۰۲۰ءختم ہونے سے پہلےمعاشی مندی کے اثرات سے باہر آنے کا امکان کم ہے۔ اس تناظر میں ، ڈن اینڈ براڈ اسٹریٹ کے چیف ماہر معاشیات ارون سنگھ نے کہا ، `بہت سے ممالک لاک ڈاؤن کوڈھیل دے رہے ہیں۔ لیکن ترقی اور زوال کی مزید مختلف تصاویرسامنے آرہی ہیں۔شدید مندی کااندیشہ ہے اور ہم پیش گوئی کرتے ہیں کہ۲۰۲۲ء سے پہلے عالمی معیشت وبا سے پہلے کی سطح پر واپس نہیں آسکے گی۔ `‘‘رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر ۲۰۲۱ء میں یہ بحال ہوتی ہے تودیگربہت سارے عوامل پر منفی  اثر پڑے گا۔اس میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے باوجودسوشل ڈسٹینسنگ پر عمل درآمد اور بڑی تعداد میں بے روزگاری اور غریبتی شامل ہیں۔
ہندوستان کی معیشت کے زوال کی پیش گوئی ہے
 سنگھ نےکہا کہ توقع ہے کہ موجودہ مالی سال میں ہندوستان کی معیشت میں مندی واقع ہوگی۔ ۴؍ دہائیوں کی مستحکم شرح نموکےبعد یہ پہلا موقع ہوگا جب ہندوستانی معیشت میں زوال آئے گا۔ انہوں نے کہا ، `مارچ میں ہم نےہندوستان کی درجہ بندی کوڈی بی ۴؍ڈی سے ڈی بی ۵؍ سی کردیا۔ یہ معیشت کے گرنے اور ۱۹۹۴ءکےبعد سب سے اونچا ہونے کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ ڈی بی ۵؍ کا مطلب ہے کہ زیادہ خطرہ اور ریٹرن پر نمایاں غیر یقینی۔
اکائونٹنٹ اسوسی ایشن نے بھی انتباہ دیا
 اسی طری اسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائڈ اکائونٹنٹ (اے سی سی اے) اور انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ اکائونٹنٹ(آئی ایم اے) نے بھی یہی پیش گوئی کی ہے کہ عالمی معیشت دوسری عالمی جنگ کے بعد کی صورتحال میں پہنچ جائے گی۔لیکن انہوں نے دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے امریکہ کےاس معاشی مندی سے جلد باہرنکلنے کی پیش گوئی کی ہے۔سروے میں مزید کہا گیا ہے کہ عالمی اعتماد میں کچھ حد تک بحالی ہوئی ہے جو کہ انتہائی نیچے پہنچ گیا تھاجبکہ دنیا کے کئی ممالک اب بھی معاشی اعتبار سے سخت حالات کا سامنا کررہے ہیں۔
 دنیا کے زیادہ تر ممالک میں عالمی معیشت کے اشاریہ یعنی عوام کے خرچ کرنے کی صلاحیت اور ملازمتیں اب بھی ریکارڈ سطح تک کم ہیں جس میں ۱۵؍ پوائنٹ تک کی کمی درج کی گئی ہےجو کہ گزشتہ سب سے بڑی کمی کے مقابلے دگنا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK