بورس جانسن کے والد کی فرانس کی شہریت کیلئے درخواست

Updated: January 02, 2021, 1:05 PM IST | Agency | London

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے والد جو بریگزٹ سے ناراض ہیں، فرانس کی شہریت اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ بورس کے والد اسٹینلے جانسن کا کہنا ہے کہ بریگزٹ کے تحت برطانیہ کی یورپی یونین سے علاحدگی کے بعد وہ فرانسیسی شہریت کیلئے درخواست دے رہے ہیں۔

Stainly Johnson
اسٹینلے جانسن

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے والد جو بریگزٹ  سے ناراض ہیں، فرانس کی شہریت اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ بورس کے والد اسٹینلے جانسن کا کہنا ہے کہ بریگزٹ کے تحت برطانیہ کی یورپی یونین سے علاحدگی کے بعد وہ فرانسیسی شہریت کیلئے درخواست دے رہے ہیں۔ا سٹینلے جانسن نے فرانس کے آر ٹی ایل ریڈیو کو بتایا کہ وہ ہمیشہ سے خود کو ایک فرانسیسی تصور کرتے ہیں کیونکہ ان کی والدہ وہاں پیدا ہوئی تھیں۔یورپی پارلیمنٹ کے ۸۰؍ سالہ کنزرویٹیو پارٹی کے سابق رکن نے ۲۰۱۶ء  کے ریفرنڈم میںبریگزٹ کے خلاف  ووٹ دیا تھا۔جبکہ ان کے بیٹے بورس جانسن نے بریگزٹ معاہدے کے تحت برطانیہ کو علاحدہ کرنے کی مہم کی سربراہی کی تھی اور بعدازاں بطور وزیر اعظم برطانیہ کو یورپی یونین سے باہر نکال  لیا تھا۔اسٹینلے جانسن نے برطانیہ کی جانب سے بریگزٹ معاہدے کے تحت یورپی یونین کے تجارتی قواعد سے علاحدگی سے چند گھنٹے قبل جمعرات کو نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں فرانسیسی شہریت کے حصول کی اپنی وجوہات کی وضاحت کی تھی۔انھوں نے آر ٹی ایل کو بتایا `اس کا مقصد  فرانسیسی شہری بننا نہیں ہے بلکہ اسے واپس حاصل کرنا ہے جو میرے پاس پہلے تھا۔‘انھوں نے کہا کہ ان کی والدہ بھی فرانس میں ایک فرانسیسی خاتون کے یہاں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ `میں ہمیشہ یورپی ہی رہوں گا۔اسٹینلے جانسن نے ۱۹۷۹ءمیں ہونے والے پہلے براہ راست انتخابات میں یورپی پارلیمنٹ کی نشست جیتی تھی اور بعدازاں انھوں نے یورپین کمیشن کیلئے بھی خدمات انجام دیں جس کے نتیجے میں بورس جانسن نے اپنے بچپن کا ایک حصہ برسلز میں گزارا۔
 بریگزٹ کے معاملات نے جانسن خاندان میں تقسیم پیدا کر دی ہے۔بریگزٹ پر احتجاج کرتے ہوئے وزیر اعظم کی بہن اور صحافی ریچل جانسن نے  ۲۰۱۷ءکے انتخابات سے کچھ عرصہ قبل ہی کنزرویٹیو پارٹی چھوڑ کر لبرل ڈیموکریٹس میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ان کے بھائی، جو جانسن نے ۲۰۱۸ء میں کابینہ سے استعفیٰ دے دیا تھا تاکہ یورپی یونین کے ساتھ قریبی روابط کیلئے ان کی حمایت کو اجاگر کیا جاسکے۔ وہ کنزرویٹیو پارٹی کے رکن پارلیمنٹ تھے۔ واضح رہے کہ بریگزٹ کیلئے برطانوی حکومت پر اس قدر دبائو تھا کہ اس کو عملی جامہ پہنانے کیلئے برطانیہ کو ایک ہی سال میں ۳؍ الیکشن کروانے پڑے تھے کیونکہ پہلی دو بار حکومت کو بریگزٹ پر فیصلہ کرنے کیلئے درکار اکثریت نہیں ملی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK