آج شہریت ترمیمی قانون کے خلاف آزاد میدان میں زبردست احتجاج ، تیاریاں مکمل

Updated: February 15, 2020, 8:45 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

شرکاء میں زبردست جوش وخروش ۔سیکوریٹی کا زبردست انتظام ۔ چاروں گیٹ پرڈورفریم میٹل ڈٹیکٹرکی تنصیب ۔اسٹیج کے قریب اورمیدان میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب ۔ ۴۰۰؍خاتون رضاکار اور۸۰۰؍مرد رضاکاروں کی تعیناتی ۔چند ا ہم ہدایات پرعمل کرنے کی اپیل۔

 مہامورچہ کی تیاریوں اور دیگر امور پر منتظمین آزادمیدان میں تبادلۂ خیال کرتے ہوئے۔ تصویر: انقلاب
مہامورچہ کی تیاریوں اور دیگر امور پر منتظمین آزادمیدان میں تبادلۂ خیال کرتے ہوئے۔ تصویر: انقلاب

ممبئی : شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) ،این پی آر اور این آرسی کے خلاف آج (سنیچر)آزاد میدان میں دوپہر ۲؍بجے سے شام ۵؍بجے تک مہامورچے کا انعقاد ہوگا جس کی تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں ۔ اس مورچے میں شہر و مضافات سے بڑی تعداد میں مردو خواتین کی شرکت کے پیش نظرعلاقائی سطح پرجمعہ کوجوش وخروش کے ساتھ تیاریاں کی گئیں ، مساجد میں بھی اعلانات کئے گئے اور لوگوں کو اس بات پرآمادہ کرنے کی کوشش کی گئی کہ وہ سنیچر کوپہلی فرصت میں آزادمیدان کا رخ کرکے اس سیاہ قانون کے خلاف اپنی بیداری کا ثبوت دیں ۔ سیاہ قانون کے خلاف مہامورچے میں تمام طبقات کوجوڑنے کی کوشش کی گئی ہے اورمہاراشٹر کے مختلف حصوں سے بھی لوگ آزادمیدان پہنچیں گے۔ اس سلسلے میں آزاد میدان میں ایک بڑا اسٹیج بنایا جارہا ہے اورخواتین کےلئے علاحدہ نظم کیاجارہا ہے۔ شرکاء کی سہولت کی خاطر پانی اوربسکٹ کا بھی انتظام کیا گیاہے۔
آزادمیدان میں مورچہ کی کس طرح تیاری کی گئی ہیں ؟
 مہا مورچے میں بہت بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت کے پیش نظر حفاظتی نقطۂ نظرسے خاص توجہ دی جارہی ہے۔ چنانچہ آزادمیدان کے چاروں گیٹ پرڈورفریم میٹل ڈٹیکٹر لگائےگئے ہیں اور اسٹیج کے قریب گھومنے والے کیمرےنصب کئےجارہے ہیں جبکہ میدان کے ا لگ الگ حصوں میں پولیس کی جانب سےسی سی ٹی وی کیمرے لگائے جارہے ہیں ۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ پولیس اپنے طورپرحفاظتی انتظامات تو پختہ کرہی رہی ہے ،الائنس کی جانب سے ۱۲۰۰؍ رضاکاروں کو تعینات کیا جارہا ہے ،ان میں ۴۰۰؍ خواتین ہوں گی۔ اس کے علاوہ الگ الگ علاقوں سےخواتین کی ۶۰۰؍سے زائدبسیں بھی آئیں گی جبکہ منتظمین کے مطابق مردحضرات بھی بسو ں سے آرہے ہیں لیکن زیادہ ترعلاقوں میں ان سےیہ درخواست کی گئی ہے کہ وہ بسوں کے بجائے ٹرینوں سے ہی سفر کریں تاکہ پارکنگ وغیرہ کا مسئلہ نہ ہو۔
  منتظمین ا ورپولیس کی جانب سے جمعہ کی شام کوآزادمیدا ن میں تیاریوں کاجائزہ لیا گیا اوراُن رضاکاروں کوخاص طور پربلایا گیا جو الگ الگ علاقوں کے ذمہ دار بنائے گئے ہیں تاکہ ان کو کس طرح سے اپنی خدمات انجام دینی ہیں ،احتجاج کے دوران کن باتوں پرتوجہ مرکوزکرنی ہے اور کس طرح پورے میدان میں دیکھ ریکھ کرنی ہے ،پہلے سے سمجھایا جاسکے ۔ الائنس کے کنوینرعبدالحسیب بھاٹکرنے نمائندۂ انقلاب کو اس بارے میں بتایا کہ ’’ مذکورہ بالاتمام کام پورے کرلئےگئے ہیں اور کوشش یہ کی جارہی ہے کہ مجمع بآسانی اس سیاہ قانون کے تعلق سے اہم شخصیات کی باتوں کو سن سکے ا وران کے پیغامات کوذہن نشین کرسکے۔ ‘‘ الائنس کے چیف کنوینر جسٹس بی جی کولسے پاٹل نے متعدد مرتبہ اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ اس حکومت کوزبردست عوامی طاقت کا احساس کرانا ہی ہوگا اس کےبغیر ان مسائل کاحل ممکن نہیں ہےاس کے لئے ضروری ہے کہ ہم سب اپنے گھروں سے نکلیں ۔
کون کون سی شخصیات اظہارخیال کریں گی؟
 الائنس کی جانب سے مہامورچے میں اظہارخیال کرنے والوں میں جن کے نام نمایاں کئےگئے ہیں ، ان میں بالا صاحب تھورات (کانگریس)، نتین کاشی ناتھ راؤت (وزیرتوانائی )، روی نائر (مشترکہ محاذ کے کنوینر)، مجتبیٰ فاروق (آل انڈیا کو-کنوینر)، ابوعاصم ا عظمی (سماج وادی پارٹی )، نندیتا داس ، جسٹس کولسے پاٹل ، انوبھو سنہا ، ہنسل مہتا، جاوید جعفری ، ٹیسٹا سیتلواد، سشانت سنگھ اور طلبہ لیڈر شہریار انصاری شامل ہیں ۔ 
شرکاء کیلئے ہدایات 
(۱) راستے میں اور ریلی کے دوران خالص مذہبی اور ـ اشتعال انگیز نعروں سے گریزکیا جائے۔ (۲)اگر خدانخواستہ راستے میں کوئی خلافِ مزاج بات پیش آجائے تب بھی اشتعال سے بچیں کیونکہ ـ شرپسند ایسے موقع کا فائدہ اٹھانے کی فراق میں رہتے ہیں ۔ (۳)مورچے کے دوران چھوٹی چادر اورپینے کا پانی ساتھ رکھیں ۔ (۴) خواتین قیمتی زیورات اورچھوٹے بچوں کوساتھ نہ لائیں ۔ (۵)میدان کے اندر او رباہر تعینات رضاکاروں سے تعاون کریں اور دی جانے والی ہدایات پرعمل کریں ۔( ۶) بسوں کے ذریعہ آنے والے ایک ساتھ بیٹھیں ۔(۷) آنے جانے اورمیدان میں اس طرح سے ایک دوسرے کاتعاون کریں کہ شرکاء کو سہولت ہو ا ور وہ یہاں دیئے جانے والے پیغام کو بغور سماعت کرسکیں ۔ (۸)قومی پرچم ساتھ رہے۔ (۹)جمہوری طریقوں سے آوازبلند کریں اورکوئی ایسا عمل ہرگزنہ ہونے دیں جس سے کسی کولب کشائی کا موقع ملے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK