سیاہ قانون کے خلاف احتجاج کو خواتین نے اہم موڑ پرپہنچا دیا ہے

Updated: January 13, 2020, 2:57 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

شہریت ترمیمی ایکٹ ،این پی آر اوراین آر سی کے خلاف اتوار کی سہ پہر ملت نگر(بخاری چوک) (اندھیری) میں زبردست احتجاج کیا گیا ۔اسٹیج پر لگائےگئے بینرپر ’امن مشن ‘نمایاں کرتے ہوئے بینر کےدونوں جانب گاندھی جی اور ڈاکٹر امبیڈکر کی تصویریں لگائی گئی تھیں او ر عدالت کے فیصلے کی علامت دکھاتے ہوئےلکھا گیا تھاکہ یہ شخصیات بھی سی اے اے ،این پی آراوراین آرسی کوخارج کرتی ہیں ۔ اندھیری اورجوگیشوری کی مقامی تنظیموں ،سماجی خدمت گاروں کےاشتراک سے ’ہم بھار ت کے لوگ ‘ کے بینرتلے یہ احتجاج کیا گیاتھا او راس میں بلاتفریق مذہب ہزاروں لوگوں نے شرکت کی جبکہ احتجاج میں نقاب پوش خواتین کی بھی بڑی تعداد نظرآئی ۔

سی اے اے کے خلاف اندھیری میں کیا جانے والا احتجاج۔ تصویر: انقلاب
سی اے اے کے خلاف اندھیری میں کیا جانے والا احتجاج۔ تصویر: انقلاب

اندھیری : شہریت ترمیمی ایکٹ ،این پی آر اوراین آر سی کے خلاف اتوار کی سہ پہر ملت نگر(بخاری چوک) (اندھیری) میں زبردست احتجاج کیا گیا ۔اسٹیج پر لگائےگئے بینرپر ’امن مشن ‘نمایاں کرتے ہوئے بینر کےدونوں جانب گاندھی جی اور ڈاکٹر امبیڈکر کی تصویریں لگائی گئی تھیں او ر عدالت کے فیصلے کی علامت دکھاتے ہوئےلکھا گیا تھاکہ یہ شخصیات بھی سی اے اے ،این پی آراوراین آرسی کوخارج کرتی ہیں ۔ اندھیری اورجوگیشوری کی مقامی تنظیموں ،سماجی خدمت گاروں کےاشتراک سے ’ہم بھار ت کے لوگ ‘ کے بینرتلے یہ احتجاج کیا گیاتھا او راس میں بلاتفریق مذہب ہزاروں لوگوں نے شرکت کی جبکہ احتجاج میں نقاب پوش خواتین کی بھی بڑی تعداد نظرآئی ۔  مظاہرین ہاتھوں میں’ہم سب ہندوستانی ہیں، ہم سب ایک ہیں ،ہم سب ’سی اے اے اوراین آرسی ‘ کوخارج کرتے ہیں اور آزادی والے‘نعروں والی تختیاں اٹھائے ہوئے تھے ۔ مجمع کی کثرت کودیکھتے ہوئے پولیس کا زبردست بندوبست تھا اور پولیس کےجوان قطارمیں پوری طرح سے مستعد نظرآئے ۔ 
خواتین کا اس تحریک میں اہم رول ہے
 فلم اداکار ذیشان ایوب نے حاضرین سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ آئین نے اظہارِرائے کی آزادی دی ہے اوریہ حق ہم سے کوئی چھین نہیں سکتا،اسی حق کے تحت آئین مخالف اس قانون کے خلاف ہم سب آوازبلند کررہے ہیں۔ ‘‘ انہوںنے یہ بھی کہا کہ ’’میںپورے ملک میں گھومتا ہوں ، اس تحریک کو پروان چڑھانے میںخواتین کااہم رول ہے۔‘‘ اس حوالےسے انہوںنے سخت سردی کے باوجود شاہین باغ میںایک ماہ سے دھرنا دینے والی خواتین ،جامعہ ملّیہ اسلامیہ ،جے این یواوراے ایم یوکی طالبات کا بھی حوالہ دیا کہ انہوںنے زبردست بہادری کا مظاہرہ کیااورپولیس کی سختی کے باوجود وہ روزاول سے ڈٹی ہوئی ہیں اور تفریق پرمبنی اس قانون کی پوری قوت سےمخالفت کررہی ہیں۔
 ٹی وی اورفلم اداکار ششانت سنگھ نے کہاکہ ’’ یہ کسی ذات ، دھرم ا ورمذہب کا معاملہ نہیںہے بلکہ سنویدھان کا معاملہ ہے اسی لئے ہندومسلم سبھی متحد ہوکر اس کے خلاف آواز بلند کررہے ہیں ۔ اس پورے معاملے کو اسی نظریہ سے دیکھا جانا چاہئے ا ورمل جل کراس کیخلاف آوازبلند کرنے کی ضرورت ہے۔ہم سب ایک ہیں‘کے نعرے کوسچ کردکھانا ہے ۔
یہ مظاہرے حکومت کا علاج ہوںگے 
 فہد ا حمد(ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنس ) نے کہاکہ ’’ان مظاہروں سےیہ ثابت ہوگیاہے کہ پورا ملک بیدار ہوچکا ہے اورملک میںرہنےوالے بحیثیت ہندوستانی آئین میں چھیڑچھاڑکی تمام کوششوں کو ناکام بنادیں گے۔ ‘‘ انہوںنے وزیرداخلہ امیت شاہ کوہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ’’ جس طرح کسی شخص پرجب بھوت پریت کے اثرات ہوجاتے ہیں تواسے ختم کرنے کے لئے دعاکروائی جاتی ہے اور حضرت نظام ا لدین اولیاء، خواجہ ا جمیریؒکے آستانے پر حاضری دے کرلوگ اس کا علاج کرواتے ہیں، سی اے اے ،این پی آر اوراین آرسی مخالف یہ مظاہرے حکومت کا علاج ثابت ہوں گے ۔
جواب تک نہیں نکلے ہیں وہ گھروں سے نکلیں
 بلال خان(گھربچاؤ گھربناؤ آندولن ) نے کہاکہ ’’ یہ مظاہرے اس بات کی علامت ہیںکہ ایک نہ ایک دن حکومت کواپنا فیصلہ بدلنا ہی ہوگااورعوام کی طاقت کے آگے حکومت آئین سے چھیڑ چھاڑکی اپنی کوشش میںکامیاب نہیںہوسکے گی۔‘‘ انہوںنے مجمع میںبلاتفریق لوگوں کی شرکت کی ستائش کرتے ہوئے یہ توجہ بھی دلائی کہ ’’ایک طبقہ ایسا ہے جو اب تک اس کے خلاف کھل کرمیدان میںنہیںآیا ہے جبکہ اسے بھی میدان میںآنا چاہئےکیونکہ یہ کسی ایک ذات، دھرم ، برادری یا قوم کا مسئلہ نہیںہے بلکہ یہ سمودھان کی بنیادوںکا مسئلہ ہے اوراگرحکومت ایسا کوئی قدم اٹھانے میں کامیاب ہوجاتی ہے توبحیثیت مجموعی تمام ہندوستانیوں اور بالخصوص دلت ،آدیواسی ،اوبی سی اوردیگر پسماندہ طبقات کا نقصان ہوگا 
مودی جی ہندو ستان کونعروں اورمظاہروں سے پہچانئے 
 بھارت بچاؤ آندولن کے عہدیدار فیروزمیٹھی بور والا نے کہا کہ ’’مودی جی ہندوستان کونعروں ، مظاہروں اورایکتا سے پہچانئے ۔ ‘‘ انہوںنےیہ بھی کہا کہ ’’ جب تک حکومت اس قانون کو واپس نہیںلیتی ، احتجاج اورمظاہروں کایہ سلسلہ نہ صرف جاری رہے گابلکہ اس میںشدت لائی جائےگی اور حکومت کو ایک نہ ایک دن اپنا فیصلہ تبدیل کرنا ہی ہوگا ۔‘‘ احتجاج کے دوران ایڈوکیٹ لارا جسانی ، ورشا ودیاولاس اور دیگرشخصیات نے بھی اظہارخیال کیا اورحکومت کو گھیرا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK