کیپٹل ہل حملے کی ورلڈ ٹریڈ سینٹر حملے کی طرز پر تحقیقات کا فیصلہ

Updated: February 17, 2021, 2:21 PM IST | Agency | Washington

ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے حقائق سامنے لانے کیلئے کانگریس کی عمارت پر حملے کی اعلیٰ درجے کی تحقیقات کو ضروری قرار دیا

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

امریکی ایوانِ نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی کا کہنا ہے کہ ، کیپٹل ہل پر ہونے والے ہلاکت خیز حملے کی تحقیقات کیلئے ۱۱؍۹؍ طرز کا کمیشن تشکیل دیا جائے گا۔پیلوسی نے کہا کہ کمیشن تحقیقات کرے گا اور حقائق سامنے لائے گا کہ ۶؍ جنوری کو کیپٹل ہل پر اندرونی دہشت گرد حملے اور پرامن انتقالِ اقتدار کے عمل میں رکاوٹ کی وجوہات کیا تھیں۔ڈیمو کریٹک پارٹی کے اراکین کے نام خط میں پیلوسی نے کہا کہ ایوانِ نمائندگان، کیپٹل ہل کی سیکوریٹی بڑھانے کے لئے اضافی رقوم صرف کرے گا۔
 سینیٹ سے سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحریک مسترد ہونے کے بعد ری پبلکن اور ڈیمو کریٹس کی جانب سے ۶؍ جنوری کے واقعات کی غیر جانبدرانہ تحقیقات کا مطالبہ بڑھتاجا رہا ہے۔ حملےکی تحقیقات کا منصوبہ پہلے بنایا جا چکا تھا  جس کی  اس ماہ کے آخر میں سینیٹ رولز کمیٹی کے سامنے ایک سماعت ہوگی ۔ پیلوسی نے لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) رسل آنرے کو کیپٹل ہل کی سیکوریٹی کا ازسرنو جائزہ لینے کی ذمہ داری بھی سونپی تھی۔پیر کو اپنے خط میں پیلوسی کا کہنا تھا کہ ’’ہمیں اس بارے میں سچ کا پتہ ہونا چاہئے کہ یہ سب کیسے رونما ہوا۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ’’جنرل آنرے کی عبوری رپورٹ سے بھی یہ بات واضح ہے کہ اراکین کے تحفظ اور کیپٹل ہل کی سیکوریٹی کیلئے اضافی اقدامات ضروری ہیں۔‘‘ دونوں پارٹیوںکےاراکین کانگریس نے اشارہ دیا تھا کہ اس معاملے کی مزید تحقیقات بھی ممکن ہے۔
 سینیٹ نے گزشتہ سنیچر کو ۵۷؍ کے مقابلے ۴۳؍ ووٹوں سے ڈونالڈ ٹرمپ کو مواخذے سے   بری کر دیا تھا۔  ان کے خلاف فیصلے کیلئے درکار دو تہائی ووٹوں میں سے۱۰؍ ووٹ کم تھے۔ سینیٹ کی جانب سے الزامات سے بری کئے جانے کے باوجود ۶؍ جنوری کو ہونے والے حملوں سے متعلق بحث تاحال جاری ہے۔ریاست لوزیانا سے تعلق رکھنے والے ری پبلکن سینیٹر بل کیسیڈی اُن ۷؍ ری پبلکن قانون سازوں میں شامل تھے جنہوں نے ٹرمپ کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ اُن کا کہنا ہے کہ جو کچھ ہوا اس کی مکمل تحقیقات  ضروری  ہے اور وہ سابق صدر کو جواب دہ ٹھہرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔۱۱؍ ۹؍ کے حملے کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کی طرز پر کمیشن بنانے کیلئے قانون سازی کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔ یہ کمیشن اگلے درجے کی تحقیقات کرے گا جس میں حکومت اس کی مدد کرے گی۔ لیکن اس سے دونوں   پارٹیوں میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK