کیپٹل ہل تشدد:۶۸؍ گرفتار، ۲؍ وزیر مستعفی، ٹرمپ کومواخذہ کاخطرہ، لہجہ نرم

Updated: January 09, 2021, 9:18 AM IST | Agency | Washington

اقتدار کی پُرامن منتقلی کا وعدہ کیا مگر عوام میں شدید برہمی، مزید برداشت کرنے کو تیار نہیں، سڑکوں پر اُتر کر فوری مواخذہ کی مانگ کی، اسپیکر نینسی پلوسی کی بھی تائید حاصل ، حملے اور تشدد کی سازش میں ٹرمپ کے رول کی بھی جانچ

Trump Opposition and pro-democracy protesters took to the streets on Thursday, demanding immediate Trump action.Picture :Agency
ٹرمپ مخالف اور جمہوریت حامی مظاہرین جمعرات کو سڑکوں پر اترکر ٹرمپ کے فوری مواخذہ کا مطالبہ کرتے ہوئے ۔ تصویر:ایجنسی

امریکی جمہوریت کے  مرکز کیپٹل  ہل جہاں سنیٹ اور ایوان نمائندگان واقع ہیں، پر شرپسندوں  کے حملے کے دوسرے دن بھی  امریکہ میں شدید غم وغصہ پھیلاہوا ہے۔ کیپٹل ہل پر ہزاروں افراد کے دھاوابولنے کے معاملے میں  واشنگٹن پولیس نے اس خبر کے لکھے  جانے  تک  صرف  ۶۸؍ افراد کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے جبکہ مہلوکین کی تعداد ۵؍ ہوگئی ہے۔  حملہ کیلئے  ڈونالڈ ٹرمپ کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے جہاں ان کے مواخذہ کا مطالبہ کیا جارہاہے تووہیں دوسری جانب مواخذہ کے امکانات کے پیش نظر ٹرمپ کا لہجہ نرم پڑ گیا ہے۔ جمعرات کو انہوں نے حملوں کی مذمت کی اور اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے جاری کئے گئے ویڈیو پیغام میں  ۲۰؍ جنوری کو  بلارکاوٹ اقتدار کی منتقلی کا وعدہ کیا۔ 
آئندہ ہفتے ٹرمپ کے مواخذہ پر ووٹنگ کا امکان
 امریکہ کے رخصت پزیر  صدر ڈونالڈ ٹرمپ  کو شکست کی شرمندگی کے ساتھ ہی ساتھ اب مواخذہ کی ذلت کا بھی سامنا کرنا پڑسکتاہے۔ کیپٹل ہل پر شرپسندوں کی یلغار کے دوسرے دن  ٹرمپ مخالفین  نے احتجاج کرتےہوئے  ان کے فوری مواخذہ کی مانگ کی ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی اور سنیٹ میں  اقلیتوں کے لیڈر چارلس ا ی شومر نے  اہلکاروں سے امریکی آئین کی ۲۵؍ ویں ترمیم کافوری استعمال کرتےہوئے ٹرمپ کے موخذہ کی کارروائی شروع کرنے کی مانگ کی ہے۔ انہوں  نے متنبہ کیا ہے کہ اگر کابینہ اور نائب صدر اس جانب پیش رفت نہیں کرتے تو وہ خود مواخذہ کا عمل شروع کرنے کیلئے تیار ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق حالانکہ مواخذہ کے غیر معمولی اقدام کے کامیاب ہونے کا امکان کم ہے مگر یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ڈیموکریٹس کے ساتھ ساتھ ریپبلکن اراکین کی بڑی تعداد اب صدارتی عہدہ پر ٹرمپ کی موجودگی کو خطرہ محسوس کرتی ہے۔ ڈیموکریٹ لیڈر اور  ہاؤس  کے  نائب اسپیکر  کےمطابق ٹرمپ کے مواخذہ   پر آئندہ ہفتے ووٹنگ ہوسکتی ہے۔ 
تشدد میں ٹرمپ کے رول کی بھی جانچ ممکن
 امریکی محکمہ انصاف نے واضح کیا ہے کہ  بدھ کو کیپٹل ہل بلڈنگ پر حملہ کرنےوالوںکو اُکسانے  میں  ٹرمپ کے رول کی جانچ کو بعید از قیاس نہیں قرار دیا جاسکتا۔ واشنگٹن میں  امریکی اٹارنی مائیکل شیروِن  کے مطابق’’ہم صرف ان کی جانچ نہیں کریں گےجو عمارت میں داخل ہوئے بلکہ اس  میں شامل تمام افراد کی جانچ کریںگے۔‘‘اس سوال پر کہ کیا اس میں ٹرمپ بھی شامل ہوںگے شیرون  کا جواب تھا کہ ’’ میں اپنے بیان پر قائم ہوں، ہم ہر اس شخص کی جانچ کریں گے جس کا اس میں کوئی رول ہوسکتاہے۔‘‘ واضح رہےکہ امریکی قانون کے مطابق ملک کے صدر کے خلاف  جرائم کا معاملہ درج نہیں ہوسکتا مگر  ۲۰؍ جنوری کو اقتدار کی منتقلی کے بعد ٹرمپ مراعات سے محروم ہوجائیں  گے۔ 
  زخمی پولیس افسرکی موت ،مہلوکین کی تعداد ۵؍ ہوگئی
 بدھ کو کیپٹل ہل پر ٹرمپ حامی شرپسندوں  کے حملے میں زخمی ہونے والے ایک پولیس افسر نے  دوسرے دن رات ہوتے ہوتے دم توڑدیا جس کے بعد اس تشدد میں ہلاک ہونےوالوں کی تعداد ۵؍ ہوگئی ہے۔ برائن ڈی سکنک نامی افسر نے جمعرات کو ساڑھے ۹؍ بجے آخری سانس لی۔ بدھ کوحملہ آوروں کو روکنے کی کوشش کرتےہوئے پولیس کے ۵۰؍ جوان زخمی ہوئے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK