دیہی علاقوں میں کاروں کی فروخت میں اضافہ،شہروں میں کمی

Updated: July 14, 2020, 10:35 AM IST | Agency | New Delhi

کورونا کے بڑھتے معاملات کے سبب شہروں میں لوگ شوروم کا رخ نہیں کررہے جبکہ اچھی فصل ہونے کے سبب گائوں میں گاڑیاں خریدی جارہی ہیں

Car Production - Pic : INN
کار پروڈکشن ۔ تصویر : آئی این این

کوروناکی وبا کے سبب پوری آٹو انڈسٹری ایک ایسی صورتحال میں پہنچ گئی ہے جو گاڑی بنانے والی کمپنیوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ مارچ کے آخری ہفتہ سے نافذ ہونے والے لاک ڈائون کے سبب فروخت اور پیداوار دونوںرک گئے ہیں اور سبھی منصوبے ناکام ہوگئے ہیں۔ فروخت کا عالم یہ ہے کہ اپریل کے مہینے میں ایک بھی گاڑی فروخت نہیں ہوئی۔ حالانکہ لاک ڈائون کی وجہ سے آٹو صنعت اب بھی میٹرو شہروں میں فروخت بڑھانے کیلئے جدوجہد کررہی ہیں۔ جو کہ زیادہ تر کمپنیوں کیلئے ہمیشہ سے ایک مضبوط بازار رہے ہیں۔ راحت بھری بات یہ ہے کہ زیادہ تر کمپنیوں کی گاڑیوں کی دیہی بازاروں میں فروخت ہورہی ہے۔ ہندوستان میں گاڑی بنانے والوں نے بتایا ہے کہ میٹرو شہروں کے مقابلے دیہی اور ٹیئر ۲؍ بازاروں میں انہوں نے ایک عمدہ اچھال دیکھی ہے۔ اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ ان علاقوں میں گاہک نئی گاڑی خریدنے کے تعلق سے مثبت سوچ رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ دیہی اور ٹیئر ۲؍بازاروںمیں ڈیلرشپ شہروںکے مقابلے میں زیادہ ملازمین کے ساتھ چل رہے ہیںکیوں کہ شہروں میں کنٹین منٹ زون میں آنے والے کچھ ڈیلر اب بھی بند ہیں۔ اس کے ساتھ ہی میٹرو شہروں میں انفیکشن کے بڑھنے کی وجہ سے لوگ کار خریدنے کیلئے شوروم میں جانے کے بجائے گھر کے اندر رہنا پسند کررہے ہیں۔
 ملک کی سب سے بڑی گاڑی بنانے والی کمپنی ماروتی سوزوکی نے بھی لاک ڈائون کے بعد اپنی مجموعی فروخت میں دیہی بازاروں سے زیادہ فروخت درج کی ہے۔ ماروتی سوزوکی انڈیا کے منیجنگ ڈائریکٹر ششانک شریواستو نے کہا کہ ’’گزشتہ مہینے ہمیں جو رپورٹ ملی ہے اس کی بنیاد پر شہری بازاروں کے مقابلے دیہی بازاروں میں بہترمانگ دیکھی جارہی ہے۔ اگر ہم اعدادوشمار پر نظر ڈالیں تو دیہی بازاروں کی حصہ داری لاک ڈائون کے بعد بڑھ کر ۴۰؍فیصد تک پہنچ گئی ہے جو کہ پہلے ۳۸؍فیصد تھی۔ دیہی بازار کی کارکردگی کے پیچھے کچھ مثبت پہلو ہیں جیسے ربیع کی فصل کی مناسب خرید ہوئی ہے اور خریف کی فصلوں کی اچھی بوائی ہوئی ہے۔‘‘
 ماروتی سوزوکی کی سب سے قریبی مد مقابل کمپنی ہنڈئی نے بھی دیہی بازاروں میں خریداروں کے جذبات کو مثبت پایا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ دیہی بازاروں کی مجموعی فروخت میں ۱۷؍فیصد سے زیادہ کی حصہ داری ہے۔ وینیو، آئی ۲۰؍،گرینڈ آئی ۱۰؍ نیوس، ورنا اور بالکل نئی  کریٹا جیسی کاریں ان بازاروں میں گاہکوں کے بیچ تیزی سے مقبول ہورہی ہیں۔
 کمپنی کے ترجمان نے کہا کہ گزشتہ ۳؍مہینوں میں ۵۰؍ہزار سے زیادہ لوگوںنے ہم سے پوچھ تاچھ کی ہے۔ اسی دوران نئی سیکنڈ جنریشن کریٹا کے لئے ۲۰؍فیصد بکنگ دیہی بازاروں سے ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ نیوس (این آئی او ایس) اور آئورا جیسی نئی ماڈل کی مانگ میں بھی تیزی دیکھی جارہی ہے۔ این آئی او ایس کی ۱۹؍فیصد اور آئورا کی ۹؍فیصد بکنگ انہی دیہی بازاروں سے ہوئی ہے۔ مجموعی طور پر ہم نے دیہی بازاروں سے جنوری تا جون ۲۰۲۰ءکی مدت میں ۲۷؍ہزار۹۰۰؍ سے زیادہ فروخت درج کی ہے اور اس میں گزشتہ سال اسی مدت کے مقابلے میں اضافہ ہوا ہے۔شمال،جنوب اور مغربی حلقے میں مضبوط مانگ دیکھی جارہی ہےمشرق اس سے تھوڑا ہی پیچھے ہے۔‘‘
 ان اعدادوشمار کو دیکھنے کے بعد حیرت کی بات نہیں ہے کہ رینو انڈیا جیسی کمپنی اپنی گاڑیوں کو دیہی بازاروں میں بیچنے میں دلچسپی دکھا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ سال اس نے ملک بھر میں ۳۳۰؍دیہی شہروں کے تعلق سے حدف طے کیا۔ ان کوششوںنے رنگ بھی دکھایا کیوںکہ رینو انڈیا کی مجموعی فروخت میں حصہ داری کے معاملے میں دیہی بازاروں نے لاک ڈائون کے بعد تقریباً ۲۵؍فیصد حصہ داری دی جولاک ڈائون سے پہلے ۱۹؍فیصد تھی۔یہاں تک کہ ٹاٹا موٹرس میںبھی دیہی بازاروں سے مانگ میں معمولی اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ کمپنی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’مجموعی فروخت میں ابھرتے بازار کے آئوٹ لیٹ (دیہی آئوٹ لیٹ)میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے اس سال معمولی سدھار آیا ہے۔
 ربیع اور خریف کی اچھی فصل کے بعد دیہی معیشت مضبوط ہونے کے ساتھ دیہی بازار ایک حد تک گاڑی بنانے والی کمپنیوں کو ہونے والے نقصان کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ میٹرو شہروں میں کورونا کے آسمان چھوتےمعاملات کی وجہ سے دوسرے درجے کے شہروں میں معاشی سرگرمیاں معمول پر ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK