پرینکاگاندھی کی مہم’لڑکی ہوں، لڑ سکتی ہوں سے پریشان بی جےپی نےاس کیخلاف لڑکیوں کومیدان میں اُتارا

Updated: January 25, 2022, 8:40 AM IST | new Delhi

لیکن اس کیلئے بھی بی جے پی نے سماجوادی پارٹی اور کانگریس سے آنے والوں کو ہی کمان سونپی ہے، اس فہرست میں ادیتی سنگھ، اپرنا یادو، سنگھ مترا موریہ، ریا شاکیہ اور پرینکا موریہ کے نام پیش پیش ہیں

aparna yadav
اپرنا یادو

 اترپردیش میں کانگریس بالخصوص پرینکا گاندھی کی جانب سے جاری کئے گئے نعرے ’لڑکی ہوں، لڑ سکتی ہوں‘ جو ایک مہم کی صورت اختیار کرچکی ہے، کی مقبولیت سے بی جے پی کی نیند حرام ہے۔ اس نے اس نعرے کا جواب دینے اور خواتین میں کانگریس کی مقبولیت کو کم کرنے کیلئے لڑکیوں کے خلاف لڑکیوں کو میدان میں اتارا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ایسا کرنے کیلئے بھی اسے آر ایس ایس کی تربیت یافتہ لڑکیاں نہیں ملیں بلکہ بی جے پی نے ان لڑکیوں کو سامنے کیا ہے جو کل تک کانگریس، سماجوادی یا بی ایس پی میں تھیں۔ خیال رہے کہ اتر پردیش میں امن و امان اور خواتین کی حفاظت ہمیشہ ہی سے ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ ابھی جاری انتخابی مہم میں بھی یہ ایک اہم موضوع کے طورپر اُبھر کر سامنے آرہا ہے جس نے بی جے پی کی پریشانیوں میں اضافہ کردیا ہے۔ ان پریشانیوں سے نمٹنے کیلئے بھی بی جے پی نے خواتین ہی کو آگے کیا ہے جو رائے دہندگان کو بتائیں گی کہ اترپردیش میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے اور یہاں خواتین پوری طرح سے محفوظ ہیں۔ بی جے پی کی انتخابی مہم چلانے والی یہ خواتین اُناؤ، ہاتھرس اور بدایوں کے معاملات پر پردہ ڈالنے کا کام کریں گی۔ بی جے پی ان لڑکیوں کے ذریعہ سماج وادی پارٹی، کانگریس اور بی ایس پی  کے محاصرے کا جواب دینے کیلئےمریگانکا سنگھ، ریا شاکیہ، انجولا ماہور، پرینکا سنگھ راوت، ارچنا مشرا، ادیتی سنگھ، اپرنا یادو، سنگھ مترا موریہ اور پرینکا موریہ کو آگے کیا ہے۔
 پرینکا گاندھی کےمقبول عام نعرے’لڑکی ہوں، لڑ سکتی ہوں‘ مہم کے خلاف بی جے پی نے کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں آنے والی رکن اسمبلی ادیتی سنگھ اور کانگریس کی پوسٹر گرل پرینکا موریہ کو میدان میں اتارا ہے۔ اس کے  علاوہ ملائم سنگھ یادو کی چھوٹی بہو  اپرنا یادو، جنہوں نے سماجوادی چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کی ہے اور بی جے پی چھوڑ کر سماجوادی میں جانے والے سوامی پرساد موریہ کی بیٹی سنگھ مترا موریہ جو بی جے پی کی رکن پارلیمان ہیں، کو سماج وادی پارٹی کا محاصرہ کرنے کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔   یہ لڑکیاں اپنی ذمہ داریاں کس طرح نبھائیں گی اور بی جے پی انہیں کس طرح استعمال کرے گی؟ یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔
 اترپردیش میں ودھان پریشد کی رکن ادیتی سنگھ تو خیربہت دنوں سے کانگریس کے خلاف تنقید کرتی رہی ہیں لیکن ’لڑکی ہوں، لڑ سکتی ہوں‘ مہم کی پوسٹر گرل پرینکا موریہ کیلئے اپنی ’ذمہ داری‘ نبھانا آسان نہیں ہوگا۔ انہوں نے ابھی حال ہی میں بی جے پی جوائن کی ہے ، جبکہ اس سے قبل تک وہ مسلسل بی جے پی کے خلاف بولتی رہی ہیں۔  اسی طرح  سوامی پرساد موریہ کی بیٹی سنگھ مترا موریہ کے سامنے بھی ’دھرم سنکٹ‘ ہوگا کہ وہ کس طرح اپنے باپ کے خلاف میدان میں اُتریں اورکس طرح اُس پارٹی کے خلاف مہم چلائیں ؟ 
 پرینکا سنگھ راوت کیلئے فی الحال کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ وہ بی جے پی کی ایک تیز طرار لیڈر ہیں اور بارہ بنکی سے۱۶؍ویں لوک سبھا کیلئے منتخب ہونے والی سب سے کم عمر رکن پارلیمان بھی رہی ہیں۔ اب وہ پارٹی میں تنظیم کی جنرل سیکریٹری ہیں۔ وہ خواتین کو پارٹی میں ضم کرنے کی بڑی ذمہ داری ادا کر رہی ہیں۔ پرینکا کو ریاستی حکومت کی طرف سے خواتین کی حفاظت اور بااختیار بنانے کیلئے بنائی گئی اسکیموں کو عام کرنے کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔اسی طرح ریاستی وزیر ارچنا مشرا بھی اپنی ذمہ داری بخوبی ادا کرسکتی ہیں۔ ارچنا کو گھر گھر مہم چلا کر خواتین کو حکومت کی اسکیموں سے آگاہ کر نا ہے۔ اس دوران گھر کی خواتین کیلئے مرکزی اور ریاستی حکومت کی کامیابیوں کو بتانے کے علاوہ یوگی حکومت میں خواتین کی ترجیحات کے بارے میں بھی جانکاری دیں گی اور بتائیں گی کہ یوگی اور مودی حکومتیں ہی خواتین کی سب سے بڑی علمبردار ہیں۔
 خیال رہے کہ پہلے، دوسرے اور تیسرے مرحلے کے انتخابات بی جے پی نے ۲۵؍ خواتین کو  اپنا امیدوار بنایا ہے۔ پہلی فہرست میں۱۰؍ اور دوسری میں ۱۵؍ خواتین امیدوار ہیں۔ ان میں سے کچھ ماضی میں ایم ایل اے اورکچھ وزیر بھی رہ چکی ہیں۔ سابق وزیر ارچنا پانڈے اور نیلماکٹیار کے علاوہ پارٹی نے کیرانہ سے حکم سنگھ کی بیٹی مریگانکا سنگھ اور بیدھونا سے ایم ایل اے ونے شاکیہ کی بیٹی ریا شاکیہ کو میدان میں اتارا ہے۔ ونے شاکیا جو کہ بیدھونا سے بی جے پی کے ایم ایل اے تھے، پارٹی چھوڑ کر سماجوادی میں شامل ہو گئے ہیں۔ پارٹی نے اب بیدھونا ہی سے ان کی بیٹی ریا کو میدان میں اتار کرسماجوادی کو جواب دیا ہے اور سوامی پرساد موریہ اور ان کی بیٹی سنگھ مترا موریہ کی طرح انہیں بھی دھرم سنکٹ میں ڈال دیا ہے۔ اس کے علاوہ بی جے پی نے ریاستی وزیر انجولاماہور کو  ہاتھرس کی مخصوص نشست سے امیدوار بنا کر خواتین  میں ’تحفظ‘ کا احساس پیدا کرنے کاپیغام دینے کی کوشش کی ہے۔
 اترپردیش کے الیکشن میںبی جے پی کے ان ہتھ کنڈوں کا کتنا اثر ہوتا ہے،اس کا جواب ۱۰؍ مارچ کو ہی مل سکے گا۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK