یوکرین کے۴؍ علاقوں کوروس میں ضم کرنے کی مذمت

Updated: October 14, 2022, 10:10 AM IST | New York

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں روس میں یوکرین کے ۴؍ علاقوں کو ضم کرنے کے عمل کی مذمت کیلئے قرارداد پیش کی گئی ۔ رائے شماری کے دوران اس کے حق میں۱۴۳؍ اراکین نے ووٹ دیئے ۔ ہندوستان سمیت ۳۵؍ ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا، ۵؍ممالک نے قرارداد کی مخالفت کی

Residents of Luhansk are celebrating after becoming part of Russia. (AP/PTI)
لوہانسک کے باشندے روس کاحصہ بننے کے بعد جشن منارہےہیں ۔ ( اےپی / پی ٹی آئی)

:اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی  میں  واضح اکثریت کے ساتھ روس میں یوکرین کے۴؍ علاقوں کے الحاق کی مذمت کی گئی  جبکہ ماسکو نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسی طرح کی ایک مسودہ قرارداد کو ویٹو کر دیا۔ واضح  رہے کہ۳۰؍ستمبر کو  روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین کے ۴؍علاقے روس میں ضم کئے تھے۔  میڈیارپورٹس کے مطابق جنرل اسمبلی میں بدھ کو روس  میں یوکرین کے ۴؍ علاقوں کو ضم کرنے  کے عمل کی مذمت کیلئے قرارداد  پیش کی گئی اور اس پر رائے شماری ہوئی جس کے حق میں۱۴۳؍ اراکین نے ووٹ دیئے لیکن روس کیخلاف امریکہ کی سفارتی کوششوں کے باوجود۳۵؍ ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا جن میں  ہندوستان ، پاکستان، جنوبی افریقہ اور چین شامل ہیں۔۵ ؍ ممالک نے اس کی مخالفت کی۔قرارداد میں اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ روس کی جانب سے سرحدوں میں تبدیلی کو تسلیم نہ کریں ۔ اس دوران ماسکو سے فوری اور غیرمشروط طور پر اپنے فیصلے  پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا گیا ۔
 امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ووٹنگ کے عمل کے دوران روس کے خلاف بین الاقوامی اتحاد کا مظاہرہ کیا گیا۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ واشنگٹن کبھی بھی ’جعلی‘ ریفرنڈم کو تسلیم نہیں کرے گا۔
 امریکی وزیر خارجہ نے ایک بیان میں مزید کہا کہ یہ ووٹ زیادہ تر ممالک کا یوکرین کی حمایت کرنے  نیز یوکرین اور اس کے عوام کے خلاف روس کی جاری جنگ کی پرزور مخالفت کی ایک مضبوط یقین دہانی ہے۔اقوام متحدہ میں امریکی سفیر لنڈا تھامس نے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ یہ پیغام دیں کہ بزور طاقت کسی ہمسایہ ملک کی زمین پر قبضہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔
 ان کا کہنا تھا کہ آج روس نے یوکرین پر حملہ کر دیا لیکن یہ کوئی اور ملک بھی ہو سکتا ہے جس کی علاقائی حدود کی خلاف ورزی کی گئی ہو۔ اگلا حملہ آپ پر بھی ہوسکتا ہے۔ تو آپ اس’ چیمبر‘سے کیا توقع کریں گے؟
 امریکہ نے جنوبی افریقہ اور خاص طور پر ہندوستان کا ووٹ حاصل کرنے کیلئے تگ و دو کی۔  ہندوستان اور امریکہ کے درمیان شراکت بڑھ رہی ہے لیکن اس کے روس سے تاریخی  تعلقات ہیں۔  ہندوستان نے سلامتی کونسل میں ووٹنگ  میں حصہ نہیں  لیا تھا۔ اقوام متحدہ میں اس کی غیر مستقل رکنیت ہے۔بنگلہ دیش، عراق اور سینیگال  نے مارچ میں ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا تھا لیکن بدھ کو ان ممالک نے روس کیخلاف ووٹ دیا۔ارتریا جس نے پہلے ووٹ ’نہیں‘ دیا تھا، اس مرتبہ بھی ووٹ نہیں دیا جبکہ نکاراگوا جو انسانی حقوق پر بین الاقوامی دباؤ کا سامنا کرنا پڑرہا  ہے۔ اس نے بھی ووٹ نہیں دیا۔
  ہندوستان کی سفیر روچیرا کمبوج کا کہنا ہے کہ یوکرین میں جنگ سے پوری دنیا کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرارداد میں فوری مسائل سے نمٹنے پر توجہ نہیں دی گئی۔
 اقوام متحدہ میں سعودی مشن نے کہا کہ ہم نے  روس کی مذمت کے فیصلے کی حمایت کی اور ہم بات چیت کے ذریعے یوکرین روس بحران کے پرامن حل کی حمایت کرتے ہیں۔
  قبل ازیں ماسکو اور کیف  میں  جنرل اسمبلی کے ایک ہنگامی اجلاس کے دوران الزامات کا تبادلہ ہوا جس میں ماسکو کی طرف سے یوکرین کے ۴؍ علاقوں، یعنی لوگانسک، ڈونیتسک، ژاپوریژیا اور خیرسن کے الحاق پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اقوام متحدہ میں یوکرین کے سفیر سرگئی کسلٹسیا نے روس پر دہشت گرد ریاست ہونے کا الزام لگایا۔انہوں نے یوکرین کے متعدد شہروں پر روس کے میزائل حملوں کے بعد کہا کہ روس نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ ایک دہشت گرد ریاست ہے جسے ممکنہ طور پر مضبوط  طریقے سے روکنا چاہئے۔ انہوں نے روس پر اقوام متحدہ کو تباہ کرنے اور سوویت نظریہ کو زندہ کرنے کی کوشش کرنے کا الزام بھی لگایا اور کہا کہ روسی نظریہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی مخالفت کرتا ہے۔
 دوسری جانب اقوام متحدہ میں روسی مندوب واسیلی نیبنزیا نے کیف حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ ڈونباس کے باشندوں کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں دینا چاہتی۔انہوں نے کہا کہ کیف حکومت یوکرین کی۴۰؍ فیصد روسی بولنے والی آبادی کو دباتی ہے۔

ukraine Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK