کوروناوائرس کے پیش نظرجمعہ کوبھی نماز گھر پر ادا کرنےکی اپیل

Updated: March 26, 2020, 10:12 AM IST | Kazim Shaikh | Mumbai

کورونا وائر س کے پیش نظر ریاستی حکومت اور پولیس کی اپیل پرجس طرح عام دنوںمیں شہر ومضافات کی مساجد میں عام مصلیان نماز اداکرنےنہیں آ رہے ہیں ۔ اسی طرح جمعہ کی نماز بھی مساجد ادا نہ کرتے ہوئے گھر پرظہر کی نماز ادا کرنے کی ملی تنظیموں کی جانب سے اپیل کی گئی ہے اور لاک ڈاؤن کے دوران انتظامیہ سے مکمل تعاون کی تلقین بھی کی گئی ہے۔

Prayer at Taj Mahal - Pic : INN
تاج محل احاطے میں نماز ۔ تصویر : آئی این این

کورونا وائر س کے پیش نظر  ریاستی حکومت اور پولیس کی اپیل پرجس طرح عام دنوںمیں شہر ومضافات کی مساجد میں عام مصلیان نماز اداکرنےنہیں آ رہے ہیں ۔ اسی طرح جمعہ کی نماز بھی مساجد ادا نہ کرتے ہوئے گھر پرظہر کی نماز ادا کرنے کی ملی تنظیموں کی جانب سے اپیل کی گئی ہے اور لاک ڈاؤن کے دوران انتظامیہ سے مکمل تعاون کی تلقین بھی کی گئی ہے۔واضح رہے کہ کورونا وائرس پر قابو پانے کیلئے حکومت اور پولیس کی جانب سے کرفیو ، دفعہ ۱۴۴؍ او ر ۱۴؍ اپریل تک  لاک ڈاؤن کا اعلان کیاگیا ہے ۔ اسی کے پیش نظر شہر اور مضافات کی تمام مساجد میں صرف امام ، مؤذن  اور مسجد کے خادمین  پنجوقتہ نماز ادا کررہے ہیں ۔ مسجدکے ٹرسٹیان کی جانب سے بھی مسجد میں دیگر مصلیان کو نماز کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ۔ اسی وجہ سے ملی تنظیموں کی جانب سے بھی اعلان کیا گیا ہے    جمعہ کو بھی یہی طریقہ اپنا یا جائے ۔ 
 اس سلسلے میں شہر اور مضافات کے متعدد تنظیموں کی جانب سے بھی پیغامات جاری کئے گئے ہیں کہ کورونا وائرس پر روک لگانے کیلئے  حکومت کی ہدایت  پر پورے ملک میں مکمل لاک ڈاؤن کاسختی پر عمل ہورہا ہے ۔ ــــــــــــــــــــــــــــــ    انتظامیہ اور پولیس کے اعلیٰ افسران، مسلم برانچ اور  تمام ژونل ڈی سی پی مسلم علاقوں میں کرفیو کے نفاذ اور مسجدوں میں نماز کی صورتحال پر  علماء اور دانشورانِ ،ائمہ مساجد  اور ٹرسٹیوں  سےمسلسل رابطے میں ہیں اور مکمل تعاون   چاہتے ہیں۔  اُنہیں حقیقت سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مسجدیں مقفل رہتی ہیں۔  ـ اس پر  پولیس اہلکاروں نے اطمینان کا اظہار کیا اور ہدایت دی کہ جمعہ کی نماز میں بھی  یہی طریقہ اپنایا جائے  اور صرف عملہ ہی مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کرے ۔باہر سے کسی کوآنے کی اجازت نہ دی جائے -مسجد میں نمازیں ادا کرنے والوں کیلئے ہدایت دی گئی ہے کہ انہیں ماسک، سینیٹائزروغیرہ بھی مہیا کرائے جائیں ۔   
  اس تعلق سے علماءکونسل کے مولانا محمود دریابادی نے انقلاب کو بتایاکہ ’’ــــــــــــــــــ جمعہ کی نماز کے تعلق سے محکمۂ پولیس کی مسلم برانچ اور ڈی سی پی زون- ون گنیش شندے نے فون کیاتھا۔ انہوںنے مسجدوںمیں نماز کی صورت حال دریافت کی جس پر انہیں  بتایا گیاکہ فی الحال مساجد میں امام، موذن اور عملہ ہی باجماعت نماز ادا کررہا ہے۔ مسجد میں باہر سے نماز کیلئے آنےوالے کسی فرد کوداخلے کی اجازت نہیں دی جار ہی ہے۔ـ اس پر اُنھوں نے اطمینان کا اظہار کیا اور ہدایت دی کہ جمعہ کی نماز میں بھی یہی طریقہ اپنایا جائے ۔ـ اُنھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ مسجد کے عملے کو احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت دی جائےلہٰذا  تمام مساجد کے ذمہ د اران سے اپیل ہے کہ مصلیان کی حفاظت کیلئے جمعہ کوبھی نمازگھروںپر اداکرنےکی اپیل کریں اورمسجد میں کسی کو آنے کی اجازت نہ دی جائے۔
 اس تعلق سے رضااکیڈمی کے سربراہ سعید نوری نے بتایاکہ ’’ حکومت اور پولیس کی ہدایت پر ہمیں عمل کرنا چاہئے ورنہ مساجد کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے۔ چنانچہ ا س طرح کے حالات سے بچنےکیلئے ضروری ہےکہ جمعہ کوبھی مصلیان نمازگھر پرہی ادا کریں۔ یہ بہتررہے گا۔
 اس سلسلے میں مسجد حسینیہ خیرانی روڈ کے صدر مولانا ثابت علی نقشبندی نے بتایا کہ مفتی عزیز الرحمان  کے مطابق  جمعہ کی  نماز ۴؍ افراد کے ذریعہ مسجد میں ادا کرلی جائے اور باقی تمام مصلیان سے گھر پر ہی ظہر کی نمازادا کرنے کی اپیل کی جائے ۔ اگر مسجد میں۴؍ افراد نہیں پہنچ سکتےہوں تو ان سے بھی کہا جائے کہ وہ نماز ظہر ادا کرلیں ۔ مولانا نقشبندی نے مساجد کے ذمہ داران سے درخواست کی کہ مساجد کے باہر  نمازِ جمعہ سے قبل  بورڈ لگائے جائیں تاکہ عین وقت پرکسی طرح کی  بدنظمی نہ ہو ۔ 
  تنظیموں ، مفتیان کرام ، علمائے کرام  اور دانشوران کی جانب سے اپیل کی جارہی ہے کہ شہر اور مضافات کی تمام مسجدوں کے  ذمہ داروں سے درخواست کی جاتی ہے کہ  پولیس اور انتظامیہ کی ہدایات کی پابندی کی جائے۔  شہر کی متعدد تنظیموں،  علمائے کرام ور مفتیان نے بھی جمعہ کے سلسلے میں  اسی طرح کی ہدایات جاری کی ہیں ۔   ویسے بھی منگل کی شام  وزیر اعظم نے پورے ملک میں مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کرکے۳؍  ہفتے کیلئے گھروں سے نکلنے پر پابندی عائد کردی ہے اور اسے سختی سے  نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
 ـ  واضح رہے کہ یہ لاک ڈاون ایک طرح کا سخت کرفیو ہی ہے  ایک بار پھر اپیل کی جاتی ہے کہ علمائے کرام  اور حکومت کی ہدایات کی پابندی کیجئے اور اپنے ساتھ دوسروں کو بھی مصیبت میں پڑنے سے بچائیے۔ 
 اپیل کنندگان میں مفتی عزیزالرحمان ،   حافظ اطہر علی ، مفتی محمد اشرف رضا قادری مصباجی ، جماعت اسلامی ہند ، مرکزالمعارف ، اختر علی واجدالقادری ، ڈاکٹر عظیم الدین  ، سلیم الوار ے اور دیگرکئی  افراد شامل ہیں ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK