لاک ڈائون سے ۱۲۰؍ارب ڈالرس خسارہ کا امکان

Updated: March 26, 2020, 11:25 AM IST | Agency | New Delhi

۲۱؍ دنوں کے لاک ڈائون سے ملک کی معیشت کو شدید دھچکا پہنچنے کا خدشہ ، ماہرین نے اسے معیشت کیلئے نوٹ بندی جیسا ہی زوردار جھٹکا قرار دیا ،کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں اور آئی ایم ایف نے ملک کے ساتھ ساتھ عالمی شرح نمو میں بھی گراوٹ کا اندیشہ ظاہر کیا

Lockdown in India - Pic : PTI
لاک ڈاؤن ان انڈیا ۔ تصویر : پی ٹی آئی

وزیر اعظم مودی نے جب ایک ہفتے میں دوسری مرتبہ ملک سے خطاب کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ پورا ملک ۲۱؍ دنوں کے لئے لاک ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔تو ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ اس کا ملک کی معیشت پر بہت گہرا اثر پڑے گا۔ ایسی صورت میں جبکہ ہندوستان کی معیشت پہلے سے ہی خستہ حالی کی شکار ہے، کورونا وائرس کی وجہ سے اٹھائے جا رہے اقدامات کا اثر بھی بہت زیادہ اس معیشت پر پڑتا ہوا نظر آ رہا ہے۔
ماہرین کا کیا کہنا ہے؟
  ماہرین نے ایک اندازہ لگاتے ہوئے بتایا ہے کہ ان۲۱؍ دنوں کے اندر ملک کی معیشت کو ۱۲۰؍ ارب ڈالر کا خسارہ اٹھانا پڑسکتا ہے۔ معیشت پر گہری نظر رکھنے والے کچھ ماہرین نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ لاک ڈاؤن والے ۲۱؍ دن ہندوستانی عوام کے لئے ہی مشکل نہیں گزریں گے بلکہ ملک کی معیشت پر بھی اس کا بہت گہرا اثر پڑنے والا ہے۔ اس لاک ڈاؤن کے دوران ۱۲۰؍ارب ڈالر یعنی تقریباً ۱۲ء۹؍لاکھ کروڑ روپے کا نقصان  ملک کی معیشت کو ہو سکتا ہے۔ ملک کے ایک مشہور بزنس چینل پر بھی معاشی معاملوں کے ماہرین نے اس بات کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔
جی ڈی پی پر کتنا اثر ہو گا ؟
 کچھ نیوز پورٹلس پر شائع ہونے والی خبروں کے مطابق ۱۲۰؍ارب ڈالر کے خسارے کو اگر جی ڈی پی سے جوڑ کر دیکھا جائے تو مانا جا سکتا ہے کہ جی ڈی پی ۴؍فیصد ہی رہ جائے گی  ۔ دراصل لاک ڈاؤن کے سبب ملک میں صنعتی سرگرمیاں ٹھپ ہو گئی ہیں، ٹرانسپورٹیشن خدمات پر بھی پابندی لگ گئی ہے اور پونجی حاصل کرنے کا حکومتوں کا ذریعہ بھی رک گیا ہے۔ اس وجہ سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ملک کی معاشی رفتار بے حد دھیمی ہو جائے گی۔قابل ذکر ہے کہ لاک ڈاؤن سے پہلے ہی کئی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے ہندوستان کی جی ڈی پی میں تیز گراوٹ کا امکان ظاہر کیا تھا۔ اب تو آئی ایم ایف نے بھی صاف کر دیا ہے کہ کورونا وائرس کے سبب عالمی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور یہ۲۰۰۸ء کے عالمی معاشی بحران سے بھی گہرا ہوگا۔
آئی ایم ایف کا کیا کہنا ہے ؟
 ادھر انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی صدر کرسٹینا جارجیوا نے متنبہ کیا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلائوسے دنیا بحران کی جانب بڑھ رہی ہے۔ عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن میں ان کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں ان کا کہنا تھا کہ وباء کے پھیلائو سے اب تک ۸۰؍ممالک اس کے نتائج سے نمٹنے کے لئے آئی ایم ایف سے رابطہ کرچکے ہیں۔یہ بیان جی ۲۰؍  وزرائے خارجہ اور مرکزی بینک کے گورنرس کے درمیان کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والے آن لائن اجلاس کے بعد سامنے آیا۔خیال رہے کہ جی۲۰؍  میں دنیا کے ۲۰؍ با اثر ممالک شامل ہیں۔ایک اور بیان میں کہا گیا کہ جی ۲۰؍ وزرائے خارجہ اور مرکزی بینک کے گورنرس نے بتایا ہے کہ عالمی معیشت بحران کی جانب جارہی ہے اورمشترکہ ’مالی اقدام‘ اس بحران سے نمٹنے کے لئے ضروری ہے۔
ہنگامی فائنانسنگ بڑھانے کا اعلان 
 کرسٹینا جارجیوا کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پالیسی اقدامات پر توجہ دے رہا ہے تاکہ بحران کے اثرات کو کم کیا جاسکے اور جنہیں مالی ضرورت ہے ان کی مدد کرنے کے لئے تیار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم ہنگامی فائنانسنگ کو مزید بڑھائیں گے۔ تقریباً ۸۰؍ ممالک ہم سے مدد مانگ رہے ہیں اور ہم دیگر مالیاتی اداروں کے ساتھ مل کر اس پر کام کر رہے ہیں تاکہ مضبوط  اورمشترکہ رد عمل دیا جاسکے۔ انہوں نے دنیا کے امیر ترین ممالک کو یاد دلایا کہ یہی وقت ہے یکجہتی کا اور جی۲۰؍ اجلاس کا مرکزی موضوع بھی یہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ۲۰۲۰ء میں عالمی نمو منفی ہے اور بدترین بحران کا خدشہ ہے۔ عالمی مالیاتی بحران کے وقت ہم۲۰۲۱ء  میں بحالی کی امید کرتے ہیں ۔آئی ایم ایف کی سربراہ نےجی ۲۰؍ اجلاس میں بھی اس نقطے کو نمایاں کیا تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ وبا کو روکنے کے لیے اقدامات حکومت کی پہلی ترجیح ہونی چاہیے جنہیں اپنے صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کے لئے اپنے وسائل لگانے ہوں گے۔تاہم آئی ایم ایف کی سربراہ نے خبردار کیا کہ وبا کے معاشی اثرات شدید ہوں گے اور اگر وائرس کو فور طور روک دیا گیا تو بحالی تیز اور مضبوط ہوسکے گی۔
 ریٹنگ ایجنسیوں نے بھی منفی رپورٹ دی 
 کورونا وائرس کے معیشت پر بڑھتے اثرات کی وجہ سےریٹنگ ایجنسیوں کو بھی اپنی رپورٹس میں مسلسل تبدیلیاں کرنی پڑ رہی ہیں۔ گزشتہ دنوں موڈیز نے ہندوستان کے لئے جو ریٹنگ جاری کی تھی اس میں شرح نمو ۵ء۱؍ فیصدرہنے کا امکان ظاہر کیا تھا لیکن اب ایجنسی کے مطابق شرح نمو ۴؍ فیصد تک ہی رہنے کا امکان ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK