کورونا کےسبب خواتین نے ممبئی باغ چھوڑدیا مگر احتجاج جاری رکھنے کا عزم

Updated: March 24, 2020, 8:54 AM IST | Saadat Khan | Mumbai

ناگپاڑہ کے علاقے مورلینڈ روڈ پر ممبئی باغ میں شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف ۵۶؍ دن سے متواتر احتجاج کرنے والی خواتین نے کوروناوائرس کےسبب ملک اور عوام کےحق میں روتےہوئے ممبئی باغ چھوڑدیا مگرگھر پر رہتے ہوئے اپنا احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیاہے

Mumbai Bagh Protest Postpone - Pic : Inquilab
ممبئی باغ احتجاج ملتوی ۔ تصویر : انقلاب

ناگپاڑہ کے علاقے مورلینڈ روڈ پر ممبئی باغ میں شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف ۵۶؍ دن سے  متواتر احتجاج کرنے والی خواتین نے کوروناوائرس کےسبب ملک اور عوام کےحق میں روتےہوئے ممبئی باغ   چھوڑدیا مگرگھر پر رہتے ہوئے اپنا احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیاہے۔ان میں سے بیشتر خاتون مظاہرین نےعلامتی  احتجاج جاری رکھنے کیلئے مظاہرہ گاہ  میں اپنا کچھ نہ کچھ سامان  مثلاً پرس ، چپل یا کرسی پر نام تحریر کرکے رکھ دیا۔
  اتوارکو احتجاج گاہ چھوڑنےکے باوجود پیر کو کچھ خواتین نے ممبئی باغ کے پاس پہنچیں اور وہاں سے پیغام  دیا کہ ہم یہاں موجود نہیں ہیں لیکن ہمارا احتجاج اب بھی جاری ہے۔پولیس نے بھی مظاہرین سے وعدہ کیاہےکہ وہ ممبئی باغ کی کسی چیز کو نہیں ہٹائے گی اور اس کی نگرانی پولیس اہلکار کریں گے۔
  ممبئی باغ کے منتظمین میں شامل ایک  خاتون نے انقلاب سےبات چیت کرتےہوئے کہاکہ ’’کوروناوائرس کی وجہ سے ہم  ملک اور عوام کی  بھلائی کیلئے ممبئی باغ سے ہٹ ضرور گئے  ہیں مگر وہاں نہ رہتے ہوئے بھی ہمارا احتجاج جاری ہے۔ اس لئے ہم  سب نے پولیس سے وعدہ لیاہےکہ یہاں کی کسی بھی چیز مثلاً ٹینٹ، کرسیاں، اسٹیج ، بورڈ اور  لائبریری وغیرہ کو ہاتھ نہیں لگایاجائےگا تاکہ کوروناوائر س کا اثر ختم ہونے کےبعد ہم اپنا احتجاج جاری کرسکیں۔ ہم سب نے بڑی محنت اورجدوجہد  سے اس باغ کو سینچاہے ۔ اس لئے جب تک ہمارا مطالبہ پورا نہیں ہوتا، ہم اسے اُجڑنے نہیں دیں گے۔ یہاں کی عورتوںکی جدوجہد  اور قربانی کا جذ بہ ہمیشہ یاد رکھا جائےگا۔ یہی وجہ تھی کہ یہاں سے ہٹتےوقت ہر خاتون بلک بلک کر رورہی تھی۔ ‘‘ انہوںنےیہ بھی بتایاکہ ’’یہاںکے ڈی سی پی اور دیگر پولیس اعلیٰ عہدیداران کے بھی ہم مشکور ہیں جنہوںنے ہمیں بڑی محبت اور ہمدردی سے ہٹنےکی اپیل کی  اور یہ وعدہ کیاہےکہ یہاں کی کسی چیز کونہیں ہٹایا جائے گا۔ انہوںنےخود ہم سے ہٹنے سے پہلے  دعا کرنے کی اپیل کی ۔ بعدازیں ہم نے مفتی حذیفہ   سے دعاکی اپیل کی  جن کی دعا کےبعدہم گھروںکیلئے روانہ ہوئے۔ ‘‘ 
 اس خاتون نے یہ بھی کہاکہ ’’ممبئی باغ سے ہمارا جذباتی رشتہ بن گیا ہے جب تک مذکورہ قوانین حکومت واپس نہیں لیتی،  ہم احتجاج کرتے رہیں گے۔ یہی وجہ ہےکہ پیر کوبھی ہماری کچھ خواتین ممبئی باغ پہنچی تھیں ۔ انہوںنے وہاں  تصاویر نکالیں اور ان فوٹو کے ذریعے سوشل میڈیا پر پیغام  پوسٹ کیاکہ ہم یہاں   حاضر نہیں ہیں لیکن ہمارا وجود اس وقت تک یہاں باقی رہے گا جب تک ہمیں انصاف نہیں مل جاتا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK