کورونا کی اہم دواکی کالا بازاری،کارروائی پربی جے پی برہم

Updated: April 19, 2021, 9:39 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

ریمڈیسیور انجکشن کی ذخیرہ اندوزی اور پابندی کے باوجود بیرون ملک فروخت کرنے کی کوشش پولیس نے ناکام بنادی مگر حیرت انگیز طور پر فرنویس ملزم کو بچانے پہنچ گئے

BMC officials distribute masks to the public to create awareness about prevention.Picture:PTI
کورونا سے بچاؤ سےمتعلق بیداری پیدا کرنے کیلئے بی ایم سی کا اہلکار عوام میں ماسک تقسیم کرتے ہوئے۔تصویر :پی ٹی آئی

ایسے وقت میں جبکہ مہاراشٹر کو کورونا کے علاج میں اہم رول داکرنے والےریمڈیسیور انجکشن کی قلت کا سامنا ہے، ممبئی میں اس کی ذخیرہ اندوزی اوراسے بیرون ملک فروخت کرنے کی کوششوں کا انکشاف ہوا  ہے۔ سنیچر کو دیر رات گئے  پولیس نےاس کے خلاف کارروائی کی تو  یہ سیاسی معاملہ بن گیا کیوں کہ الزام ہے کہ سابق وزیراعلیٰ  دیویندر فرنویس ملزم کو بچانے کیلئے پہنچ گئے۔ بتایا جارہاہے کہ مذکورہ دواؤں کو بیرون ملک فروخت کرنےکی کوشش بھی ہورہی تھی۔ 
چار؍ کروڑ ۷۵؍ لاکھ   کےانجکشن کی ذخیرہ اندوزی
 معتبر ذرائع کے مطابق ممبئی پولیس نے ۴؍ کروڑ ۷۵؍ لاکھ  روپے کےریمڈیسیور انجکشن کو  گجرات اور دمن  سےخفیہ طریقے سے منتقل کرنے اور  ذخیرہ کرنے کے الزام میں دوا کمپنی بروک فارما کے مالک راجیش ڈوکانیہ کو سنیچر کو دیر رات گئے حر است میں لیا۔ پولیس نے دوا کمپنی کے جس ٹرک کو  ضبط کیا ا س میں ۶۰؍ ہزار انجکشن تھے۔   راجیش کو حراست میں لینے کی اطلاع ملتے ہی سابق وزیراعلیٰ  دیویندر فرنویس اور کونسل  میں  اپوزیشن لیڈر پروین دریکر سنیچر کی دیر رات پولیس اسٹیشن پہنچ گئے۔ الزام ہے کہ ملزم کو بچانے کیلئے انہوں  نے پولیس پر دباؤ بنانے کی کوشش کی۔ بی جے پی لیڈروں کا دعویٰ تھا کہ انہوںنے مریضو ں میں تقسیم  کرنے کیلئے یہ انجکشن  دمن اور گجرات سے منگوائے ہیں  جبکہ دوسری جانب سربر اقتدار کا سوال یہ ہے کہ جب یہ انجکشن صرف حکومت کو ہی سپلائی کیا جاسکتاہے تو کوئی نجی شخص  اسے کیسے خرید سکتاہے؟   اس سلسلے میں سیاسی جنگ بھی تیز ہو گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے متعدد سوالات اٹھائے گئے ہی مثلاً اگر فرنویس  انجکشن کا یہ  اسٹاک منگوا رہے تھے تو انہوں نے حکومت  کو اس کی اطلاع کیوں نہیں دی؟ انجکشن کی شدید قلت کے دوران ۴؍ کروڑ ۷۵؍ لاکھ روپے کے ان انجکشن کو منگوا کر بی جے پی کے آفس میں کیوں ذخیرہ کیا گیا؟
 ریاست کو ریمیڈیسیورانجکشن نہ  دینے کی سازش 
 اس ضمن میں راشٹروادی کانگریس پارٹی کے قومی ترجمان نواب ملک نے کہا ہے کہ ’’اگر ایک ذخیرہ اندوز کو بچانے کیلئے رات کے وقت پولیس اسٹیشن میں دو حزبِ مخالف لیڈر اور دو ایم ایل اے جاتے ہیں تو اس کا مطلب یہی  ہوسکتا ہے کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’سچائی یہ ہے کہ بی جے پی کی کوشش ہے کہ ریاست کو ریمیڈیسیورانجکشن نہ ملے۔‘‘ 
  نواب ملک کے مطابق ریمڈیسیور انجکشن برآمد کرنے والی  اس کمپنی  کے ذریعہ ذخیرہ اندوزی کی خبر  ملتے ہی  پولیس نے کارروائی کی جس کی بنیاد پر راجیش ڈوکانیا کوپوچھ تاچھ کیلئے طلب کیاگیا۔ ابھی اس سے تفتیش جاری ہی تھی کہ رات سوا۱۱؍ بجے فرنویس، پروین دریکر،  پرساد لاڈ، اور  پراگ الوانی پولیس اسٹیشن پہنچ گئے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈوکانیا کو بچانے کیلئے ریاست کے دو حزبِ مخالف لیڈر اور دو ایم ایل اے کیوں پہنچے؟
بی جےپی میں گھبراہٹ کیوں؟
 نواب ملک نے سوال کیا ہےکہ پولیس محکمہ عوام کیلئے کام کرتا ہے، ذخیرہ اندوزی کو روکنے کا کام کرتا ہے اس لیے پولیس کی کوشش ہے کہ ذخیرے کو ضبط کرکے عوام کے استعمال  میں لایا   جائے۔  سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ راجیش ڈوکانیا کو جب پولیس نے تفتیش کے لیے طلب کیا تو ریاستی بی جے پی لیڈران کے اندر اتنی گھبراہٹ کیوں پھیل گئی کہ اس کے حزبِ مخالف لیڈر اپنے وکیل ہونے کی حیثیت سے وکالت نامہ لے کر پہنچ گئے۔
فرنویس کا ریاستی حکومت پر پر حملہ 
 دوسری جانب  اپوزیشن لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے   اس معاملے پر مہا وکاس اگھاڑی کے لیڈروں پر اوجھی سیاست کرنے کا الزام عائد کیاہے۔ فرنویس  کے مطابق ’’ ۴؍ روز قبل پروین دریکر دمن گئے تھے اور بروک فارما سے  انجکشن بھیجنے کی درخواست کی تھی۔اس وقت کمپنی نے کہا تھا کہ انہیں مہاراشٹر میںا نجکشن لانے کیلئے حکومت کی اجازت لینی ہوگی کیونکہ ان کے پاس ایکسپورٹ کا لائسنس ہے۔‘‘ اپوزیشن لیڈ رنے کہا کہ ’’ مَیں نے ذاتی طو رپر من سکھ مندویا جی سے درخواست کی تھی  اور ڈاکٹر ریڈی کی جانب سے انجکشن لانے کی اجازت دی گئی تھی۔‘‘ فرنویس کا الزام ہے کہ چونکہ  بی جےپی مذکورہ انجکشن  لانے کی اجازت حاصل کرنے میں  کامیاب ہوئی ہے اسلئے  حکومت نےیہ کارروائی کی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK