افغانستان میں امریکہ کے ۱۹؍ ارب ڈالر تعمیر نو کے بجائے بدعنوانی کی نذر، سیگار کی رپورٹ

Updated: October 23, 2020, 9:19 AM IST | Agency | Washington

امریکہ کو افغانستان میں ۲۰۰۲ءسے لے کر اب تک ، مبینہ طور پر ۱۹؍ ارب ڈالر سے محروم ہونا پڑا ہے اور یہ رقم، ایک رپورٹ کے مطابق، فراڈ اور ناجائز استعمال میں ضائع کی گئی ہے

Trump and Ghani - Pic : INN
ٹرمپ اور غنی ۔ تصویر : آئی این این

امریکہ کو افغانستان میں ۲۰۰۲ءسے لے کر اب تک ، مبینہ طور پر ۱۹؍ ارب ڈالر سے محروم ہونا پڑا ہے اور یہ رقم، ایک رپورٹ کے مطابق، فراڈ اور ناجائز استعمال میں ضائع کی گئی ہے۔یہ اعداد و شمار افغانستان میں تعمیر نو کے عمل کی نگرانی کرنے والے ادارے، سپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن (سیگار) نے ایک نئی رپورٹ میں منگل کے روز جاری کئے ہیں۔سیگار، افغانستان میں گزشتہ ۱۹؍سال سے جاری امریکہ کی طویل ترین جنگ میں واشنگٹن کی جانب سے کئے جانے والے تمام اخراجات کی نگرانی کرتا ہے۔سیگار کا کہنا ہے کہ ۲۰۰۱ء میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد، امریکی کانگریس نے افغانستان میں تعمیر نو کے پروگراموں کیلئے تقریباً ۱۳۴؍  ارب ڈالر کی منظوری دی  تھی۔سیگار کی جانچ پڑتال میں بتایا گیا ہے کہ ادارے نے جاری ہونے والے کل بجٹ کے تقریباً ۳۰؍ فیصد یعنی ۶۳؍ بلین ڈالر کے اخراجات کا جائزہ لیا ہے اور اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ کم و بیش ۱۹؍بلین ڈالر ضائع کئے گئے ہیں۔ اور  صرف جنوری ۲۰۱۸ء سے دسمبر ۲۰۱۹ء تک تقریباً۱ء۸؍ ارب ڈالر فراڈ اور ناجائز استعمال میں ضائع ہوئے۔
 نگران ادارےسیگار کو یہ کام سونپا گیا ہے کہ وہ افغانستان میں تعمیر نو کے لئے فنڈ کا جائزہ لے اور ایسی سفارشات مرتب کرے تاکہ اس رقم کو جنوبی ایشیا کے اس شورش زدہ ملک میں دیگر پروگراموں میں بہتر طور پر استعمال کیا جا سکے۔سیگار کی تازہ ترین رپورٹ ایک ایسے وقت میں جاری ہوئی ہے جب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ افغان حکومت اور طالبان باغیوں پر زور دے رہی ہے کہ وہ وہاں جاری تنازع کو مستقل طور پر ختم کرنے کیلئے براہ راست امن مذاکرات کے ذریعے کسی سیاسی حل تک پہنچیں۔افغان حکومت اور طالبان کے درمیان تاریخی بات چیت، ٹرمپ انتظامیہ اور طالبان کے درمیان اس سال فروری میں طے پانے والے امن معاہدے کا نتیجہ ہے، جس کے تحت جنگ ختم کر کے مئی ۲۰۲۱ءتک تمام امریکی افواج کو واپس لایا جائے۔
  ۱۱؍ ستمبر کو امریکہ پپر ہونے والے حملوں کے بعد، امریکہ اور اتحادی افواج نے افغانستان پر چڑھائی کی تھی، اور وہاں طالبان حکومت کا خاتمہ کر دیا تھا، جو کہ دہشت گرد تنظیم القاعدہ نیٹ ورک اور اس کے سربراہ اسامہ بن لادن کو پناہ دیئے ہوئے تھی جو امریکہ پر حملوں کے اصل منصوبہ ساز تھا۔افغان جنگ میں امریکہ کی ۲۴۰۰؍سے زیادہ جانیں ضائع ہوئی ہیں اور اس جنگ پر واشنگٹن کو تقریباً ایک کھرب ڈالر کے اخراجات اٹھانا پڑے ہیں۔سیگار نے افغانستان میں وسیع پیمانے پر جاری کرپشن کو روکنے کیلئے، افغان حکومت کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو ناکافی قرار دیتے ہوئے اس پر مسلسل تنقید کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ کرپشن، افغانستان میں عطیہ دینے والوں کے لئے سب سے بڑا مسئلہ رہا ہے۔سیگار کی جانب سے ۲۰۲۰ء کے اوائل میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی کی انتظامیہ کرپشن کو جڑ سے ختم کرنے کے بجائے بین الاقوامی برادری کیلئے کاغذی کاروائی میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے۔آئندہ ماہ جنیوا میں، جب افغان عہدیدار اور عطیہ دینے والے عالمی شراکت دار مستقبل میں افغانستان کیلئے اپنی امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیں گے تو وہاں انسدادِ بد عنوانی اور اصلاحات کے پروگرام بھی زیر غور آئیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK