• Sat, 29 November, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فضائی آلودگی پر عدالت نے ۵؍رکنی کمیٹی تشکیل دی

Updated: November 28, 2025, 10:49 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai

رہنماخطوط کی خلاف ورزی کرنے والوں پرکارروائیوں کی رپورٹ بھی طلب کی ۔ بی ایم سی نے ۶۲؍ تعمیراتی پروجیکٹوں کو کام روکنے کا نوٹس دیا

The High Court is also concerned about air pollution in the city and suburbs. (Photo: PTI)
شہرومضافات میں فضائی آلودگی پرہائی کورٹ بھی فکرمند ہے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

بامبےہائی کورٹ کی فضائی  آلودگی کے سلسلہ میں جاری کردہ فرمان اور اس ضمن میں مہاراشٹر پولیوشن کنٹرول بورڈ اور شہری انتظامیہ کے ذریعہ جاری کردہ رہنما خطوط ، ہدایات  اور کارروائی کے باوجود شہرو مضافات میں فضائی آلودگی کا مسئلہ  برقرار ہے ۔ایک طرف   ہائی کورٹ میں فضائی آلودگی کے سبب ہونے والے مسائل   کا حوالہ دیتے ہوئے مداخلت کار کی حیثیت سے ایک اور عرضداشت داخل کی گئی ہے ۔ کورٹ نے بی ایم سی اور مہاراشٹر پولیوشن کنٹرول بورڈ سے تعمیراتی پروجیکٹ کے دوران  رہنما خطوط کی خلاف ورزی کرنے والوںپر کی گئی کارروائیوں کی  رپورٹ طلب کی ہے ساتھ ہی اس مسئلہ کے حل کے لئے ۵؍ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔  دریں اثناء بی ایم سی نے فضائی آلودگی پر قابو پانے کیلئے بنائے گئے اصولوں کی خلاف ورزی پر شہر کے ۶۲؍ تعمیراتی پروجیکٹوں کوکام روکنے کا نوٹس دیاہے ۔
  اس معاملے کی سماعت کے دوران سماجی تنظیم ’ون شکتی‘ کی پیروی کرتے ہوئے سینئر وکیل جنک دوار کاداس نے بامبے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس شری چندر شیکھر اور جسٹس گوتم انکھڈکو بتایا کہ’’ فضائی آلودگی اورتعمیراتی پروجیکٹوں کے سبب سے دھول   پر قابو پانے کیلئے جو رہنما خطوط جاری کئے گئے تھے، وہ صرف کاغذ پر ہیں ، عملی طور پر نہ تو اسے اپنایا گیا ہے اور نہ ہی اس سلسلہ میں کوئی ٹھوں قدم اٹھایا گیا ہے ۔‘‘ اسی درمیان بی ایم سی کے وکیل ملند ساٹھے نے بتایا کہ تعمیراتی سائٹ پررہنما خطوط پر عمل کیا جارہا ہے یا نہیں، اس کا پتہ لگانے کیلئے ۶۴؍ خصوصی دستے بنائے گئے ہیں اور ہدایات پر عمل نہ کرنے والے ۶۲؍پروجیکٹوںکو اسٹاپ ورک نوٹس دیاگیا ہے ۔  
  اس معاملے میں مداخلت کارزورو بٹینا نے سیمنٹ کنکریٹ روڈ کی تعمیر  کے دوران شجر کاری کے تقاضوں کو نظر انداز کئے جانے کا الزام لگایا ۔اسی درمیان مذکورہ بالا مسئلہ کے خلاف درپن گپتا کی جانب سےمداخلت کار کی حیثیت سے عرضداشت داخل کی گئی اور عوامی بیداری مہم ، ہیلتھ ایڈوائزری اور ماسک لگانے کی اپیل کرنے کا مشورہ دیا گیا ۔ 
 اس پر کورٹ کے مدد گار کی حیثیت سے سینئر وکیل ڈائیورس کھمباٹا نے ۲۷؍ رہنما خطوط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’تعمیراتی جگہوں پر دھول کی پیمائش  اور اسے قابو پانے کیلئے ہر تعمیراتی جگہ پر سی سی ٹی وی کیمرہ ،سینسر پر مبنی فضائی آلودگی کا پتہ لگانے والا مانیٹر نصب کرنے  اور پانی کا چھڑکاؤ کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں لیکن شہر اور مضافات میں اگر ایک ہزار تعمیراتی پروجیکٹ جاری ہیں تو صرف چار سو نے ہی چند ہدایات پر عمل کیا ہے جبکہ لگائے گئے اکثر سینسر بھی کام نہیں کررہے ہیں۔‘‘
  کھمباٹا نے گاڑیوں سے پیدا ہونے والے دھوئیں سے بھی آلودگی کا مسئلہ ہونے کا جواز پیش کیا  ۔ سماعت کے دوران ایتھوپیا میں آتش فشاں کے پھٹنے سے شہر میں آلودگی ہونے کا بھی عذر پیش کیا گیا جس پر کورٹ نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں عدالت کسی بھی قسم کے احکامات جاری کرکے متعلقہ محکموں کو لوگوں کو ہراساں کرنے اور چالان کاٹنے کا موقع فراہم نہیں کرنا چاہتی   ساتھ ہی ایتھوپیا میں آتش فشاں کے پھٹنے سے شہر میں آلودگی ہونے  کے جواز پر برہمی کا بھی اظہار کیا ۔ بعد ازیں کورٹ نے بی ایم سی اور مہاراشٹر پولیوشن کنٹرول بورڈ کو تعمیراتی پروجیکٹوں کے دوران رہنما خطوط کی خلاف ورزی کرنے والوں پر کی جانے والی کارروائی سے متعلق   رپورٹ طلب کی ۔
  اس مسئلہ کے حل کے لئے بی ایم سی ، پولیوشن کنٹرول بورڈ ، محکمہ صحت عامہ کے افسراور ۲؍ وکلاء پر مشتمل ۵؍ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے  ۔ یہ کمیٹی  حفاظتی دستہ کے تحت تعمیراتی جگہوں کا جائزہ لے گی ، معائنہ کرے گی  اور خلاف ورزی کرنے سے متعلق رپورٹ ترتیب دے گی ۔ چیف جسٹس نےفضائی آلودگی اور دھول مٹی کے مسئلے کو ختم کرنے کو یقینی بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے معاملے کی سماعت کو ۱۵؍ دسمبر تک کے لئے ملتوی کردیا   ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK