کورٹ نے کہا کہ آپ تو ایسا برتاؤ کررہے ہیں جیسے جامع مسجد پاکستان میں ہے

Updated: January 15, 2020, 2:42 pm IST | Agency | New Delhi

چندر شیکھر آزاد ’راون‘ کی ضمانت کی عرضی پر شنوائی کے دوران پیر کو دہلی پولیس کو تیس ہزاری کورٹ میں سخت سرزنش کا سامنا کرنا پڑا۔ چندر شیکھر کی گرفتاری پر ہی سوال اٹھاتے ہوئے کورٹ نے کہا کہ انہیں احتجاج کا پورا حق حاصل ہےا ور دہلی پولیس اس طرح سے برتاؤ کررہی ہے جیسے جامع مسجد ہندوستان میں  نہیں بلکہ پاکستان میں ہے۔

 کورٹ نے کہا کہ آپ تو ایسا برتاؤ کررہے ہیں جیسے جامع مسجد پاکستان میں ہے
چندر شیکھر آزاد راون ۔ تصویر : ٹویٹر

 نئی دہلی(ایجنسی):  چندر شیکھر آزاد ’راون‘ کی ضمانت کی عرضی پر شنوائی کے دوران پیر کو دہلی پولیس کو تیس ہزاری کورٹ  میں سخت سرزنش کا سامنا کرنا پڑا۔ چندر شیکھر کی گرفتاری پر ہی  سوال اٹھاتے  ہوئے کورٹ نے کہا کہ انہیں احتجاج کا پورا حق حاصل ہےا ور دہلی پولیس اس طرح سے برتاؤ کررہی ہے جیسے جامع مسجد  ہندوستان میں  نہیں بلکہ پاکستان میں ہے۔ 
 عدالت نے وکیل استغاثہ پنکج بھاٹیہ کی  جانب سے دیئے گئے دلائل پر برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’کیا آپ نے آئین کو پڑھاہے؟‘‘ اس کے ساتھ ہی ایڈیشنل سیشن جج کامنی لاؤ نے کہا کہ آج  اگر سڑکوں پر مظاہرے ہورہے ہیں تو اس کی وجہ یہ  ہے کہ جوباتیں پارلیمنٹ میں کہی  جانی چاہئیں تھیں وہ نہیں کہی گئیں۔  یاد رہے کہ چندر شیکھر آزاد کو ۲۰؍ دسمبر کو شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف ایک مظاہرہ میں مظاہرین کو تشدد پر اکسانے کے الزام میں  گرفتار کیاگیاتھا۔ ضمانت کی درخواست میں پولیس کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہاگیا ہے کہ اس کے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ 
 شنوائی کے دوران بھاٹیہ نے اس بات پر زور دیا کہ چندر شیکھر نے ملک کی سب سے بڑی مسجد جامع مسجد میں اشتعال انگیز تقریر کی ہے۔ اس پر جج کامنی لاؤ نے کہا کہ ’’پارلیمنٹ کے اندر جوباتیں کہی جانی چاہئے تھیں وہ نہیں کہی گئیں، اسی لئے لوگ سڑکوں پر اترپڑے ہیں۔ ہمیں اپنے نظریات کے اظہار کا پورا حق حاصل ہے مگر ہم اپنے  ملک کو برباد نہیں کرسکتے اس کی سالمیت کیلئے خطرہ نہیں پیدا کرسکتے۔

 جج نے جب  پوچھا کہ ملزم پر عائد کئے گئے الزامات کا ثبوت کیا ہےتو پولیس نے چندر شیکھر کے  اس سوشل میڈیا پوسٹ کا حوالہ دیا  جس میں  انہوں نے   لوگوں کو جامع مسجد  میں  دھرنے پر بیٹھنے کیلئے آنے کی دعوت دی تھی۔ اس پر جج نے کہا کہ ’’جامع مسجد جانے میں کیا  پرابلم ہے؟ دھرنے میں کیا برائی ہے؟احتجاج تو ہر شہری کا آئینی حق ہے۔ اس میں  تشدد کہا  ہے؟کسی بھی پوسٹ میں کیا برائی ہے؟‘‘ اس کے ساتھ ہی جج نے پولیس کی پیروی کرنے والے وکیل استغاثہ سے سوال کیا کہ ’’کیا آپ نے آئین کو پڑھا ہے؟‘‘ اور مزید کہا کہ ’’آپ تو ایسے برتاؤ کررہے ہیں جیسے جامع مسجد پاکستان ہے۔ اگر وہ پاکستان  ہوتا تب بھی آپ وہاں جاکر احتجاج کرسکتے تھے، پاکستان غیر منقسم ہندوستان کا حصہ تھا۔‘‘ عدالت نے معاملے کی شنوائی بدھ تک ملتوی کرتے ہوئے تفتیشی افسر کو وہ شواہد پیش کرنے کی ہدایت دی جن سے یہ ثابت ہو کہ جامع مسجد میں  دھرنے کے دوران چندر شیکھر نے اشتعال انگیز تقریر کی تھی اور وہ قانون بھی بتائیں جس کی  رو سے یہ دھرنا غیر قانونی تھا۔ ‘‘ سرکاری وکیل کی اس دلیل پر کہ مظاہرہ کیلئے اجازت نامہ ضروری تھا، کورٹ پھر برہم ہوگیا۔ جج نے سوال کیا کہ ’’کیا پرمیشن؟ سپریم کورٹ بھی کہہ چکا ہے کہ دفعہ ۱۴۴؍ کا بار بار استعمال اس قانون کا استحصال ہے۔‘‘ جج کامنی لاؤ نے مزید کہا کہ ’’میں نے بہت سے لوگوں کو اور بہت سے ایسے کیس دیکھے ہیں جن میں پارلیمنٹ کے باہر تک احتجاج ہوا ہے۔ ان میں سے کچھ لوگ اب وزیراعلیٰ ہیں۔ آزاد ایک ابھرتے ہوئے سیاستداں ہیں،ان کے احتجاج میںپرابلم کیا ہے؟‘‘ اب اس معاملے پر شنوائی بدھ کو دوپہر ۲؍ بجے ہوگی جس میں  چندر شیکھر آزاد کی ضمانت کی درخواست پر فیصلہ سنایا جاسکتاہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK