اترپردیش میں عوامی مقامات پر بھی بیٹیاں محفوظ نہیں:اکھلیش کی یوگی حکومت پر تنقید

Updated: October 24, 2020, 6:02 AM IST | Lucknow

سماج وادی پارٹی(ایس پی) سربراہ اکھلیش یادو نےبھارتیہ جنتاپارٹی(بی جے پی) کی ریاستی حکومت پرصوبےکے امن وامان کو جنگل راج کی آگ میں جلانےکا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ریاست میں عوامی مقامات پر بھی بیٹیاں محفوظ نہیں ہیں ۔

Akhilesh Yadav. Photo: INN
اکھلیش یادو۔ تصویر: آئی این این

سماج وادی پارٹی(ایس پی) سربراہ اکھلیش یادو نےبھارتیہ جنتاپارٹی(بی جے پی) کی ریاستی حکومت پرصوبےکے امن وامان کو جنگل راج کی آگ میں جلانےکا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ریاست میں عوامی مقامات پر بھی بیٹیاں محفوظ نہیں ہیں ۔یادونےجمعہ کو یہاں جاری بیان میں کہا کہ بیٹیوں کے لئے بی جے پی حکومت تو’کال‘بن گئی ہے۔ سڑک پرچلنا تو دور اپنے گھروں ،دفاتر اور عوامی مقامات پر بھی وہ محفوظ نہیں ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی ’مشن شکتی‘کا نیا نعرہ الاپنے لگے ہیں ۔پنک بوتھ بنا رہےہیں ۔ان ٹوٹکوں سے خواتین کو کوئی راحت نہیں ملنے والی ہے اس سے پہلے ان کا رومیو اسکواڈ ناکام ہوچکا ہے۔یادونےکہا کہ وزیراعلیٰ کادعویٰ ہےکہ ان کے رہتےجرائم پیشہ افراد یاتو جیل میں ہیں یا پھر’رام نام ستیہ‘ کی راہ پر ۔ان کے رام راج کا ایسامعجزہ ہے کہ ۲؍ آئی پی ایس فرارہیں ۔ جرائم پیشہ افراد بے خوف وزیر اعلی کی ’ٹھوکو پالیسی‘ پر عمل پیرا ہیں ۔ اغوا،لوٹ،قتل کے واقعات کو انجام دینے میں انہیں ذرا بھی تذبذب نہیں ہوتا۔جب پولیس اور جرائم پیشہ افراد مل جل کر کام کریں گے تو ایسے میں عوام کا تحفظ کون کرے گا۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی اقتدار میں جرائم پیشہ افراد کے حوصلےبلندہیں ۔ اس سے ظاہر ہے کہ شاملی میں چیلنج دے کر ۱۰؍دن میں دو سرا بجلی گھر لوٹ لیاگیا۔بریلی میں نفرت کی سیاست کے تحت تھانے میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اور بدنظمی کی گئی۔جونپور سے لے کر میرٹھ تک مجرمین نےعصمت دری کے واقعات کو انجام دیا۔ مہوبہ کے پنواڑی علاقےمیں ایک ۱۹؍سالہ لڑکی جو ایک آرتی کے پروگرام سے لوٹ رہی تھی اسے اجتماعی عصمت دری کا نشانہ بنایا گیا۔ اٹاوہ میں ۵؍سال کی بیٹی کے ساتھ ماں سے عصمت کی گئی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK