دہلی پولیس کا کمال، شرجیل امام کی تھیسس کوہی ان کیخلاف ثبوت کے طور پر پیش کردیا

Updated: September 27, 2020, 5:04 AM IST | Inquilab News Network | New Delhi

پولیس پر شدید تنقیدیں ، ان الزامات کو مضحکہ خیز قرار دیا گیا ،چارج شیٹ میں پولیس نےمختلف کتابوں کو بھی شرجیل کی ذہنیت تبدیل ہونے کیلئے ذمہ دار ٹھہرایا ہے

sharjeel Imam - PIC : INN
شرجیل امام ۔ تصویر : آئی این این

شہریت ترمیمی ایکٹ  کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کو دہلی فساد کا ملزم بنا کر پیش کرنےوالی دہلی پولیس نے شرجیل امام کے خلاف ان کی ایم فل کے تھیسس کو ہی بطورثبوت پیش کردیا۔ اس کی اس حرکت پر شدید تنقیدیں ہورہی ہیں۔ شرجیل کے خلاف دہلی پولیس نے جو دیگر ثبوت پیش کئے ہیں ان میں شہریت ترمیمی ایکٹ پمفلٹ بھی  شامل ہیں۔  پولیس نے یہ  چارج شیٹ  پٹیالہ ہاؤس کورٹ کے جج دھرمیندر رانا کی عدالت میں  پیش کی ہے جو ۶۰۰؍ صفحات پر مشمل ہے۔شرجیل امام جنوری کے آخری ہفتے سے جیل میں بند  ہیں۔انہوں نے شہریت ایکٹ کے خلاف  سڑکیں جام کرنے کا نعرہ دیا تھا تاکہ حکومت مظاہرین کی بات ماننے پر مجبور ہو۔
  دہلی پولیس نے اسے نفرت انگیز اور  غداری پر اکسانے کا معاملہ قرار دیتےہوئے شرجیل کو گرفتار کرلیاتھا۔ ان پر بغاوت کاالزام بھی عائد کیاگیاہے۔ان کے خلاف آسام،اتر پردیش ،منی پور اوراروناچل پردیش میں  یو اے پی اے   کے تحت معاملات درج کئے گئےہیں ۔انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق چارج شیٹ میں پولیس نے کہا ہے کہ شرجیل امام معروف مصنف پال  براس کی  ’’ فارمس آف کلیکٹیو وائلنس، رائٹس، پوگرومس، اینڈ جینو سائیڈ ان انڈیا‘‘(ہندوستان میں  اجتماعی قتل کی قسمیں:فساد، منظم قتل عام، نسلی کشی)  جیسی کتابیں پڑھ کرشدت پسند ہوگئے ہیں۔  شرجیل امام کی’’ہٹ دھرمی‘‘ کیلئے پولیس نے ان کتابوں کو ذمہ دار ٹھہرانے کے ساتھ ،ان کی ایم فل کے تھیسس کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ان کی یہ تھیسس’’آزادی سے پہلے انخلاء: ۱۹۴۶ء میں بہار میں مسلمانوں پر حملہ‘‘ کے عنوان سےلکھی گئی ہے۔ 
 چارج شیٹ میں پولیس نے بتایاہےکہ شرجیل نے جو کتاب پڑھی ہے اس میں گزشتہ ۶؍ دہائیوں میں   ہندوستان میں ہونے والے اجتماعی  تشدد کی مختلف قسموں کااحاطہ کیاگیاہے جن میں فساد، منظم قتل عام اور نس کشی شامل ہے۔
  چارج شیٹ کے مطابق کتاب میں کہاگیا ہے کہ یہ مختلف قسم کے تشدد فوری رونما ہونے والے واقعات نہیں ہیںبلکہ منظم گروہوں کا کام ہیں۔ پولیس کے مطابق صرف اس طرح کا مطالعہ کرنے اورمتبادل ذرائع پر ریسرچ نہ کرنے کی وجہ سے ملزم  شرجیل امام’’زبردست شدت پسند اور مذہبی کٹرپنتھی بن گیا۔‘‘ چارج شیٹ کےمطابق اپنی ایم فل کی تھیسس کےدوران شرجیل امام نے ایسی بہت سی کتابیں پڑھی ہیں۔ پولیس کے مطابق ’’اس کی وجہ سے ان کا ذہن یہ بن گیا کہ مسلمان طویل عرصے سے مظلومیت کاشکار ہیں، اس نے ان کےمذہبی کٹرپن کو مزید تقویت دی جس  میں  جمہوری  اور آئینی قدروں کا فقدان ہے۔  شرجیل امام کو ’’ مذہبی شدت پسند‘‘ ثابت کرنے کیلئے ان کی برہمن مخالف ذہنیت کا بھی حوالہ بھی  دیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK