نگال میں  ریل حادثے کی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ، مہلوکین کی تعداد ۹؍ ہوگئی

Updated: January 15, 2022, 11:28 AM IST | Agency | Kolkata

ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ سوگت رائے اور کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری کے بعد بی جےپی کی رکن پارلیمان روپا گنگولی نے بھی سوالات اٹھائے

The administration removes the derailed bogies.Picture:INN
انتظامیہ پٹری سے اُتر جانے والی بوگیوں کو ہٹاتے ہوئے۔ ۔ تصویر: آئی این این

میناگوری میں بکان ایکسپریس کے حادثے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ سوگت رائے اور  کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری کی جانب سے  حادثے کی  تحقیقات کے مطالبہ کے بعد اب بی جے پی کی رکن پارلیمنٹ روپا گنگولی نے بھی اس پر سوالات اٹھائے  ہیں اور اس حادثہ کی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ روپا گنگولی نے فیس بک پوسٹ میں لکھا ہے کہ کیا ٹرین خود سے پٹری سے اُتر جاتی ہے؟ کیا غریب ریلوے ٹریک کو سمجھ میں آجاتا ہے کہ آگے الیکشن ہے؟ انہوں نے ۵؍ ریاستوں کے اسمبلی الیکشن سے قبل ہونے والے حادثے پر شبہ ظاہر کرتے ہوئے  سی بی آئی سے جانچ کی ضرورت پر زوردیا۔  انگریزی میں لکھے گئے اپنے ٹویٹ میں انہوں نے لفظ ’’گیم ‘‘(کھیل) کا بھی استعمال کیا ہے اس سے قبل ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ سوگت رائے نے اس حادثے میں ریلوے کی لاپروائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا  کہ یہ حادثہ ریلوے لائن میں دراڑ کی وجہ سے ہوا ہے۔ اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے۔  اس دوران مرکزی وزیر جان بارلا  سنیچر کی صبح جائے حادثہ پر پہنچ گئے۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے نے پہلے ہی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔  اس دوران مرکزی وزیر ریلوے اشونی ویشنو بھی   جائے حادثہ پر پہنچے۔ ان کے ہمراہ ریلوے بورڈ کے چیئرمین اور دیگر حکام بھی  تھے۔  اس دوران دوموہنی میں بیکانیر-گوہاٹی ایکسپریس حادثے میں مرنے والوں کی تعداد۹؍ ہو گئی ہے۔ حادثے کا شکار ہونے والی ٹرین کی  بوگیوں کو ہٹانے کا کام جمعہ کی صبح شروع ہوا۔ حادثےکی وجہ سے لائن کو نقصان پہنچا تو اوور ہیڈ وائر بھی پھٹ گیا تاہم ریلوے کارکن حالات کو تیزی سے معمول پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK