الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ میں اضافہ ہورہا ہے

Updated: July 27, 2021, 12:16 PM IST | Agency | New Delhi

کنسلٹنسی فرم ’ای وائے‘ کا دعویٰ ہے کہ مہنگے ایندھن کے سبب ۹۰؍ فیصد افراد الیکٹرک گاڑیاں خریدنے کے متمنی ہیں

Demand For Electric Vehicles.Picture:INN
الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی متعدد کمپنیاں ملک بھر چارجنگ اسٹیشن بنانے پر بھی توجہ مرکوز کررہی ہیں۔ ۔تصویر: آئی این این

 کورونا کی عالمی وبا کے سائے میں شدید معاشی بحران کے حالات میں ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کے دام اب تک کی تاریخی سطح پر برقرارہیں اور مستقبل میں ان کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ روز بروز بڑھتی مہنگائی کے دور میں عوام کا گزارا دوبھرہے۔ اب ایسی صورتحال میں ذرائع آمدورفت کی ضروریات کیلئے لوگ پیٹرول ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں کے متبادل کے طور الیکٹرک گاڑیوں   کے استعمال کی طرف بھی غور کرنے لگے ہیں۔  وہیں ماحولیات کے تحفظ کے پیش نظر لیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دینے کیلئے مرکزی حکومت کی ’ایف ای ایم ای ۲؍‘ سبسیڈی اور دیگر ریاستوں کی جانب سے بھی رعایات دیئے جانے کی پیشکش پر برقی گاڑیو ں کے دام میں بڑی کمی ہونے کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔
  اس  بنیاد پر نجی کنسلٹنسی فرم ’ای وائے‘ کا اپنے سروے میں کہنا ہے کہ ملک میں ۹۰؍ فیصد لوگ اب الیکٹرک گاڑیاں خریدنے کے متمنی ہیں۔ کنسلٹنسی فرم کا کہنا ہے کہ اس طرح کا سروے ہندوستان سمیت ۱۳؍ ممالک میں کروایا گیا تھا جس میں فی ملک ایک ہزار افرادشامل ہوئے تھے ۔ اس میں ہندوستان کی نمائندگی کرنے والے ایک ہزار افراد میں سے ۹۹؍ فیصد افراد نے ملک میں ایندھن کی مہنگائی کے سبب الیکٹرک گاڑیاں خریدنے  میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ ملک میں زیادہ تر  لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ ایسی الیکٹرک گاڑی خریدنا چاہتے ہیں  جو ایک بار پوری طرح چارج کرنے پر کم ازکم ۱۰۰؍  سے۲۰۰؍  میل تک یعنی ۱۶۰؍ سے ۳۲۰؍ کلو میٹر تک چلنے کے قابل ہو تاکہ یہ بجلی کی کھپت کے لحاظ سے بھی کفایتی ثابت ہو سکے۔ سروے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ  ۴۰؍ فیصد افراد برقی گاڑی  خریدنے کیلئے کیلئے ۲۰؍ فیصد تک کا پریمیم ادا کرنے کو بھی تیار ہیں۔ ہندوستان میں  اس وقت ہر ۱۰؍ میں سے ۳؍ افراد برقی گاڑی یا اسکوٹر خریدنا چاہتے ہیں۔
عالمی سطح پر فروخت میں مزید اضافہ کی توقع
 سروے کے مطابق اگلے سال تک عالمی سطح پر برقی گاڑیوں کی فروخت میں مزید اضافہ کی توقع ہے ۔  اس  بارے میں آٹو موبائل صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ فی الحال  دنیا  گاڑیوں کی صنعت میںایک  نئے انقلاب سے گزر رہی ہیں۔ اب ہم اس مرحلے سے اب گزر چکے ہیں جب  الیکٹرک گاڑیوں کو `مستقبل کی چیز قرار دیا جائے۔ اب ممکن ہے کہ ان کی خرید و فروخت بہت جلد روایتی پیٹرول اور ڈیزل کی گاڑیوں کو پیچھے چھوڑنے والی ہیں۔ ٹیسلا اور ٹویوٹا جیسی معروف الیکٹرک کار ساز کمپنیوں سمیت  چینی کمپنیاں بھی اس صنعت میں قدم رکھ چکی ہیں اور وہ جدید سہولیات والی سستی الیکٹرک گاڑیاں  تیار کرنے میں مصروف ہیں ۔  اسی طرح جیگوار نے ۲۰۲۵ءتک اور وولو نے بھی ۲۰۳۰ءتک صرف الیکٹرک گاڑیاں فروخت کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ برطانوی اسپورٹس کار کمپنی لوٹس بھی ۲۰۲۸ء سے صرف الیکٹرک کار کے ماڈل بیچنے کے منصوبے پر گامزن ہے۔
  ہندوستان  بھی کسی سے پیچھے نہیں ہے
   ہندوستان بھی اس معاملے میں کسی  پیچھے نہیں یہاں بھی ہیرو ، مہندرا، ٹاٹا موٹرز، ہنڈائی اور دیگر کمپنیاں بھی الیکٹرک گاڑیاں متعارف کرچکی ہیں ۔ اب اس معاملے میں اولا الیکٹرک اسکوٹر نے اپنے بازار میںآنے سے قبل ہی ایک نیا سنگ میل قائم کرلیا ہے۔ گزشتہ ہفتے جب اس اسکوٹر کی آن لائن بکنگ کا آغاز ہوا تو دعویٰ کیا گیا کہ محض ۲۴؍ گھنٹوں میں ایک لاکھ سے زیادہ رجسٹریشن موصول ہوئے ہیں۔  اس پر آٹو موبائل صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اولا نے مختلف رنگو ں اور جدید سہولیات سے لیس اسکوٹر کی تشہیر میںاس  کے دیدہ زیب جھلک، بہترین پرزینٹیشن اور مارکیٹنگ  سے صارفین کی  توجہ مبذول کی ہے۔ اب یہ تو وقت یہ بتائے گا کہ یہ اسکوٹرصارفین کی توقعات پر کتنا کھرا اتر تا ہے۔
  صنعتی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب بھی ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت کو ترقی کیلئے ایک لمبا سفر طے کرنا ہوگا کیونکہ اب بھی  ان گاڑیوں کو چارج کرنے اور ان کی سروسنگ  کے  وسائل مطلوبہ سطح پر دستیاب نہیں ہیں۔ اس سلسلے میں ٹھوس اقدامات کرنے کے بعد ہی ملک میں برقی گاڑیوں کی مانگ میں اضافہ کی امید کی جاسکتی ہے۔  قابلِ غور ہے کہ ہیرو نے ملک میں بھر ۵؍ ہزار سے زائد چارجنگ اسٹیشن قائم کرنے   کا اعلان کیا تھا اور کچھ اسی طرح کا منصوبہ اولا الیکٹرک نے بھی بنایا ہے۔ دیگر کمپنیاں اس  معاملے پیش رفت کررہی ہیں۔ مختلف ریاستیں بھی اس معاملے میں سرگر م ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK