آسام میں مہینے بھر میں ۳؍ مدرسوں کا انہدام، مسلمانوں میں شدید بے چینی

Updated: September 03, 2022, 12:56 PM IST | Agency | Guwahati

بونگائی گاؤں ضلع میں حکم امتناعی نافذ، ریاستی حکومت کی زیادتی کے خلاف یو ڈی ایف کے وفد کی وزیراعلیٰ  بسوا شرما سے ملاقات ، احتجاجی میمورنڈم پیش کیا، سپریم کورٹ سے رجوع کا بھی انتباہ

After the demolition of Madrasah Makar Al-Aarif Kariana, there is anxiety among the Muslims of the entire district. .Picture:INN
بدھ کوآسام کے بونگائی گاؤں ضلع میں واقع مدرسہ مرکز المعارف کریانہ میں کی گئی انہدامی کارروائی کے بعد پورے ضلع کے مسلمانوں میں بے چینی ہے۔ تصویر:آئی این این

 آسام میں  دہشت گردی کے الزام میں متعدد علمائے کرام اور مدارس کے اساتذہ کی گرفتاری کے ساتھ ہی مہینے بھر میں حکومت کے ذریعہ تین مدرسوں  کے  انہدام سے مسلمانوں میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے۔ اس بیچ رکن پارلیمنٹ بدرالدین اجمل کی پارٹی آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) کے ایک وفد نے جمعہ کو وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا شرما  سے ملاقات کر کے میمورنڈم پیش کیا جبکہ پارٹی نےا س کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا بھی انتباہ دیا ہے۔اس سے قبل بارپیٹ اور موری گاؤں  میں بھی ایک ایک مدرسے کا انہدام ہوچکا ہے۔
 بونگائی گاؤں ضلع میں حکم امتناعی نافذ
 بدھ کو بونگائی گاؤں  ضلع میں انہدامی کارروائی  کے بعد عوام میں پھیلی بے چینی اور غم وغصہ کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے  پورے ضلع  میں حکم امتناعی نافذ کردیاہے۔  مخلوط آبادی والے مغربی آسام کے اس  ضلع میں دفعہ۱۴۴؍کے تحت  بھیڑ بھاڑ  پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ بونگائی گاؤں کے  ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نبادیپ پاٹھک نے ایک اعلامیہ  میں سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بونگائی گاؤں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ملک دشمن عناصر‘‘کی گرفتاری کے بعد ضلع کے کچھ حصوں میں موجودہ صورتحال کی وجہ سے   نقض امن کا خطرہ ہے۔ اعلامیہ  میں دعویٰ کیاگیاہے کہ ایسی خفیہ اطلاعات موصول ہوئی  ہیں کہ  شدت پسند تنظیموں  کی سرگرمیوں کی وجہ سے ضلع میں  امن وامان کو خطرہ لاحق ہوسکتا  ہے اس لئے   اس سے بچنے کیلئے حکم امتناعی نافذ کردیاگیاہے۔
یوڈی ایف  نے سپریم کورٹ جانے کا اشارہ دیا
 اپوزیشن آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ ( اے آئی  یو ڈی ایف)  نے  مہینے بھر میں  ریاست کے ۳؍ مدرسوں کو  منہدم کئے جانے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس کے خلاف سپریم  کورٹ جانے کی دھمکی دی ہے۔  اے آئی یو ڈی ایف کے سربراہ اور لوک سبھا کے رکن،  بدرالدین اجمل نے   وزیراعلیٰ سے مطالبہ کیا ہےکہ وہ مدارس پر بلڈوزر چلانا  بند کریں۔بدھ کو جس مدرسے کی عمارت کو انتہائی بے دردی سے منہدم کیاگیا مرکز المعارف کریانہ مدرسہ ہے۔اس سے قبل بارپیٹ اور موریگاؤں    کے مدارس کو ۲۹؍ اگست اور ۴؍ اگست کو منہدم کیا جاچکاہے۔ 
 دکانوں پر بھی چھاپے مارے گئے
 بدھ کو مدرسے کومنہدم کرنے سے قبل منگل کو مفتی حفیظ الرحمٰن  کی اس دکان پر بھی چھاپہ مارا گیا ۔ مفتی حفیظ الرحمٰن کو ملک  مخالف سرگرمیوں اور دہشت گردی کے الزام میں گرفتار  کیا گیاہے۔ پولیس نے دکان سے بھی ’’قابل اعتراض دستاویز‘‘ ملنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان کے مطابق ان میں  ’انصار اللہ بنگلہ ٹیم‘    کے پمفلٹ  اور القاعدہ   برائے برصغیر ہندوستان   کے ممکنہ لوگو بھی  ملے ہیں۔تفتیش کاروں  کے مطابق  ’انصار اللہ ‘ بنگلہ دیش کی سرگرم  دہشت گرد تنظیم  ہے جو مذکورہ مدرسہ کے توسط سے آسام میں اپنی سرگرمیاں پھیلارہی تھی۔ 
 عمارت کے خلاف انہدامی کارروائی کا جواز
  وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا شرما  نے حالانکہ واضح طور پر کہا ہے کہ مدرسوں کی عمارتوں کا انہدام وہاں سے ہونے والی گرفتاریوں کی بنیاد پر کیا گیا ہے تاہم کاغذات میں اس کیلئے جواز کچھ اور پیش کیاگیاہے۔ ضلع ایڈمنسٹریشن نے  مدرسہ  مرکز المعارف کریانہ  کے انہدام کیلئے جو حکم نامہ جاری کیا ہےا س میںڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ مدرسہ کی عمارت ’’کمزور اور خطرناک تھی جو انسانوں  کی رہائش کیلئے مناسب نہیں تھی۔‘‘مذکورہ حکم نامہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عمارت میں آفات مثلاً زلزلہ اور آتشزدگی  سے نمٹنے  اور یہاں مقیم افراد کےہنگامی طورپر انخلاء کے مناسب انتظامات نہیں تھے  نیز کسی بھی طرح کی آفت کی صورت میں عمارت کے پاس کھلی جگہ ہونے کی شرط کو بھی پورا نہیں کیاگیا۔   بہرحال  مدارس اور علمائے کرام کو نشانہ بنانے کی وجہ سے آسام  کے مسلمانوں میں شدید بے چینی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK