مخالفتوں کے باوجود چینی پارلیمنٹ میں ہانگ کانگ کیلئے متنازع قانون منظور

Updated: July 01, 2020, 9:20 AM IST | Agency | Beijing

برطانیہ اور جاپان کی جانب سے تنقید ، امریکہ نے ہا نگ کانگ کی خصوصی حیثیت ختم کی۔ آج ہانگ کانگ میں عوامی احتجاج کا امکان

Hong Kong - Pic : PTI
ہانگ کانگ کے ایک شاپنگ مال میں ’لنچ بریک‘ احتجاج کو پولیس روکتے ہوئے( ایجنسی

چین نے امریکہ اور یورپی ممالک کی شدید مخالفت کے باوجود ہانگ کانگ سے متعلق متنازع سیکوریٹی قانون منظور کر لیا ہے۔ چینی پارلیمنٹ نے منگل کواس قانون کی متفقہ طور پر منظوری دی ہے۔ حالانکہ اس نئے  قانون کا مسودہ ابھی شائع ہونا باقی ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ چین کا سرکاری خبر رساں ادارہ منگل کو ہی نئے قانون کی بعض شقوں کو شائع کرے گا۔چین نے ہانگ ہانگ میں گزشتہ سال  شروع ہونے والےپرتشدد احتجاج کے بعد سیکوریٹی قانون نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ اس کا  دعویٰ ہے کہ اس قانون کا مقصد دہشت گردی، بغاوت، علاحدگی پسندی اور غیر ملکی قوتوں کے ساتھ ملی بھگت جیسے اقدامات سے نمٹنا ہے۔چین کی سرکاری نیوز ایجنسی نے رواں ماہ مسودہ قانون کی بعض شقیں جاری کی تھیں جس کے مطابق ہانگ کانگ کے موجودہ قوانین کو ختم کرنے اور اس کی تشریح کرنے کا اختیار چینی پارلیمنٹ کی ٹاپ کمیٹی کے پاس ہو گا۔نئے قانون کی منظوری کے بعد چین  ہانگ کانگ میں نیشنل سیکوریٹی آفس بھی  قائم کرگا جہاں سے ’’شہری حکومت کی نگرانی، رہنمائی اور اس کی مدد‘‘ جاری رکھی جائے گی۔
 یاد رہے کہ ہانگ کانگ برطانیہ کی کالونی تھی  جسے ۱۹۹۷ء میں ایک معاہدے کے تحت برطانیہ نے چین کے حوالے کیا تھا۔یکم جولائی کو ہانگ کانگ کی چین کو حوالگی کے۲۳؍ برس مکمل ہو رہے ہیں۔ اس موقع پر چین مخالف گروپوں کی جانب سے تقریبات کا اعلان کیا گیا ہے اور احتجاج بھی متوقع ہے۔تاہم پولیس نےان تقریبات پر پابندی عائد کر دی ہے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے چار ہزار اہلکاروں کو اسٹینڈ بائی پر رکھا ہے۔یہ واضح نہیں ہے کہ یکم جولائی کو مظاہرین پر نئے قانون کا اطلاق ہو گا یا نہیں۔
چین کے سیکوریٹی قانون کی مخالفت
امریکہ اور برطانیہ سمیت مختلف ملکوں نے چین کے نئے سیکیورٹی قانون کی مخالفت کی ہے۔ برطانیہ نے کہا ہے کہ مذکورہ  قانون عالمی قوانین اور دونوں ملکوں کے درمیان ہوئے معاہدے کی  خلاف ورزی ہے۔برطانیہ کا کہنا ہے کہ ہانگ کانگ سے متعلق معاہدہ `ون کنٹری ٹو سسٹم فارمولے کے تحت ہانگ کانگ کو خودمختاری دیتا ہے۔جاپان کی کابینہ کے سیکریٹری یوشی ہائیڈ سوگا نے کہا ہے کہ چین کو ہانگ کانگ سے متعلق سیکوریٹی قانون کی منظوری پر مایوسی ہو گی۔یورپین پارلیمنٹ نے رواں ماہ ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ اگر چین نے ہانگ ہانک پر سیکوریٹی قانون نافذ کیا تو اس اقدام کو عالمی عدالتِ انصاف میں چیلنج کیا جائے گا۔امریکہ نے اپنے قوانین کے تحت ہانگ کانگ کی خصوصی حیثیت ختم کرنا شروع کر دی ہے۔واشنگٹن نے ہانگ کانگ کیلئے دفاعی سامان کی برآمد روک دی ہے اور ٹیکنالوجی کی مصنوعات تک اس کی رسائی محدود کر دی ہے۔ لیکن چین ان اقدامات کو اس کے  اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK