ڈھاکہ : مسجد کے ایئرکنڈیشن میں دھماکہ ،۱۲؍ جاں بحق

Updated: September 06, 2020, 11:00 AM IST | Agency | Dhaka

ضلع نارائن گنج کی مسجد میں حادثہ ، لوڈشیڈنگ کے باعث ایئر کنڈیشنز سے لیک ہونے والی گیس مسجد میں پھیلنے لگی اور جب بجلی بحال ہوئی تو دھماکہ ہوگیا،۳۰؍ سے زائد شدید طورپر زخمیوں کو علاج کیلئے ڈھاکہ کے برن سینٹر میں منتقل کیاگیا، متاثرین ۷۰؍سے ۸۰؍ فیصد تک جھلس چکے ہیں

Dhaka Blast - Pic : Agency
ڈھاکہ بلاسٹ ۔ تصویر : ایجنسی

بنگلہ دیش میں مسجد کے اندر گیس بھر جانے سے ہونے والے دھماکے کےنتیجے میں ۱۲؍افراد جاں بحق جبکہ ۱۲؍ سے زائد زخمی ہوگئے۔ڈھاکہ ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق مطابق پولیس نے حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکے کے نتیجے میں کم از کم ۱۲؍ افراد جاں بحق ہوگئے۔ مقامی پولیس کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب عشا کی نماز ختم ہونے ہی والی تھی۔
 امدادی سرگرمیوں میں مصروف حکام نے بتایا کہ دھماکہ ضلع نارائن گنج کی مسجد میں ہوا اور آگ نے مسجد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔حادثے کے بارے میں تفتیش کاروں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مسجد کے اندرنصب ایئر کنڈیشنز کی وجہ سے دھماکہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے باعث مسجد میں نصب ایئر کنڈیشن سے لیک ہونے والی گیس مسجد میں پھیلنے لگی اور جب بجلی بحال ہوئی تو دھماکہ ہوگیا۔
 نارائن گنج کے فائر چیف عبداللہ العارفین نے خبر رساں ایجنسی `اے ایف پی کو بتایا کہ `لیک ہونے والی گیس مسجد میں پھیل گئی تھی ۔ان کا کہنا تھا کہ `جب مساجد انتظامیہ نے کھڑکیاں اور دروازے بند کردیے اور ائیرکنڈیشنز کو آن کیا تو وہاں بجلی کے اسپارک سے  دھماکہ ہوا `۔
 حکام نے بتایا کہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے۱۲؍ افراد کی لاشیں لواحقین کے حوالے کردی گئی ہیں۔دوسری جانب اسپتال کے ترجمان سامنت لال سین نے بتایا کہ۱۶؍ افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ۳۷؍ افراد کو تشویشناک حالت میں ڈھاکہ کے برن سینٹر منتقل کردیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ متاثرین۷۰؍ سے۸۰؍ فیصد تک جھلس چکے ہیں۔
 پولیس نے بتایا کہ دھماکے سے کم از کم۴۵؍ افراد زخمی ہوئے ہیں اور لوگوں نے گیس کے اخراج کی بدبو کا بھی ذکر کیا تھا۔یہ پہلا موقع نہیں کہ بنگلہ دیش میں خطرناک نوعیت کی آگ نے انسانی جانوں کو نگل لیا ہو، بلکہ وہاں اکثر گارمنٹس فیکٹریوں اور بلند صنعتی عمارتوں میں آگ لگنے کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔گزشتہ برس فروری میں ڈھاکہ کے ایک پرانے کوارٹر میں آگ بھڑکنے سے تقریباً۷۰؍ افراد ہلاک اور۵۰؍ زخمی ہو گئے تھے۔
 واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں مختلف حادثات میں آگ کی لپیٹ میں آکر ہر سال ایک کروڑ۶۸؍ لاکھ افراد زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔اس کے ایک مہینے بعد ہی ڈھاکہ آفس بلاک میں آتشزدگی سے۲۵؍ افراد ہلاک ہو گئےتھے۔۲۰۱۰ءمیں ڈھاکہ کے پرانے علاقے میں کیمیکل گودام کے طور پر استعمال ہونے والی عمارت میں لگنے والی آتشزدگی کے واقعے میں۱۲۰؍ سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔ڈھاکہ میں ہی نومبر۲۰۱۲ء میں ۹؍ منزلہ  عمارت پر مشتمل فیکٹری میں آگ لگنے سے تقریباً۱۱۱؍ ملازمین ہلاک ہو گئے تھے۔
 نیوز پورٹل سی جی ٹی این کے مطابق دھماکےمیں جان گنوانے والے ۱۲؍ نمازیوں میں ایک لڑکا بھی شامل ہے۔ بتایاگیا ہےکہ مسجد میں ۸؍ ایئرکنڈیشن لگے ہوئے تھےاور دھماکےمیں سبھی تباہ ہوگئے ۔نارائن گنج میں فتح اللہ پولیس اسٹیشن کے انچارج  شفیق الاسلام نے بتایا کہ ’ ’دھماکہ اتنا شدید تھا کہ مسجدکی کھڑکیوںکے شیشے ،پنکھے ،وائر اور الیکٹر ک سوئچ بورڈ تک اڑ کرسڑکوں پربکھرگئے۔بنگلہ دیش کی فائر سروس اور سول ڈیفنس  نے حادثہ کی تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK