پریشان حال مکینوں کے ہمراہ میٹنگ میں رکن پارلیمان انل دیسائی نے تسلی دی کہ مکان خالی کرنے کی ضرورت نہیں، میںسی ای او سے بات کروں گا۔دھاراوی بچاؤ آندولن نے بھی میٹنگ کی۔
دھاراوی میں میٹنگ۔ تصویر:آئی این این
دھاراوی : یہاں کی میگھ واڑی اورگنیش نگر کے ۸۰؍ فیصد مکینوں کو غیرقانونی قرار دیا گیا ہےاور اب انہیں نوٹس دیا جارہا ہے کہ وہ ایک ہفتے میں اپنا مکان خالی کردیں۔ حالانکہ مکینوں کا کہنا ہے کہ سروے کے وقت کہا گیا تھا کہ جب آپ لوگو ں کو دوسرے مکان کی چابی دی جائے گی تو اپنے پرانے گھر کی چابی لوٹادینا۔ دھاراوی ری ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے ذریعے دیئے گئے اس نوٹس کے خلاف جمعرات کی شب میں ۹؍ بجے علاقے کے رکن پارلیمنٹ انل دیسائی دھاراوی پہنچے اور مذکورہ علاقے میںایک خصوصی میٹنگ کا اہتمام کیا گیا جس میں انہوں نے مکینوں کو تسلی دی اور کہا کہ مکان خالی کرنے کی ضرورت نہیں، ہم سب لڑیں گے، یہ ناانصافی اور زیاتی ہے، میں سی ای او سے بات کروں گا۔اس طرح کی زیادتی قطعاً برداشت نہیںکی جائے گی۔ آخر تین ماہ کا کرایہ لے کربرسوں سےآباد مکین کہاں جائیں گے۔ نائب ضلع کلکٹر سنیہل راہٹے کی دستخط سے یہ نوٹس ۲۰؍ نومبر کو جاری کیا گیا ہے۔ خبر لکھے جانے تک کسی بھی مکین نے اپنی رہائش گاہ خالی نہیںکی تھی ۔
اسی مسئلے پرجمعہ کی شام ۴؍بجے دھاراوی بچاؤآندولن کی میٹنگ بلائی گئی اورتفصیل سے بات چیت کرتے ہوئے اسے دھاراوی ری ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کی ایس آر اے سےسازباز کا نتیجہ قرار دیا گیا ۔
دھاراوی بچاؤ آندولن نے اسے دھوکہ کہا
دھاراوی بچاؤ آندولن کی جانب سے میٹنگ کے دوران اس بات پرسخت ناراضگی اورحیرت کا اظہار کیا گیا کہ ایس آر اے کے ذریعے ۳۳؍ اور۳۸؍ دفعات کے تحت نوٹس جاری کرکے تین ماہ کا کرایہ اور۷؍دن کے اندر مکان خالی کرنے کی ہدایت دینے کا کیا جواز ہے؟آخر یہ مکین کہاں جائیں گے۔ یہ بھی انتباہ دیا جارہا ہے کہ اگر مکین جگہ خالی نہیںکریںگے توطاقت کا استعمال کیاجائے گا، کیا یہ اڈانی کے حق میںایس آراے کا یکطرفہ اور اسے فائدہ پہنچانے والا فیصلہ نہیں ہے ؟ کیا ممبئی میں کوئی ایسی اورمثال ہے جس میںٹرانزٹ کیمپ تعمیرکئے اورمکینوں سے معاہدہ کئے بغیر ان کا گھر خالی کرایا گیاہے، کیا اس طرح تمام قانون اورضابطے دھاراوی واسیو ںکیلئے ختم کردیئے گئے ، اڈانی کو من مانی کےلئے کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے اوراس کا ساتھ ایس آراے کےافسران بھی دے رہے ہیں ؟ اس لئے دھاراوی بچاؤ آندولن کے ذمہ داران مکینوں کےساتھ ہیں اوران کویہ یقین دلاتے ہیں کہ ان کے ساتھ زیادتی برداشت نہیں کی جائے گی، ہم سب مل کر اس من مانی ا ور ملی بھگت کے خلاف اپنے حق کےلئے پوری طاقت سے جدوجہد جاری رکھیںگے۔‘‘
نوٹس میںکیا کہا گیا ہے؟
ایس آر اے کے ذریعے جاری کردہ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ دھاراوی ری ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے ذریعےبتایا گیاہے کہ مکینوں سے کرایہ کی رقم کے بارے میںبھی بات چیت کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ اس لئے اگر جھوپڑے خالی نہیں کئے گئے توکام کرنے میں مشکلات پیدا ہو ں گی۔ نوبھارت میگا ڈیولپرز پرائیویٹ لمیٹڈ نےبھی ایس آراے سےجھوپڑوں کو خالی کرانے کی کارروائی شروع کرنے کے لئے نوٹس جاری کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی ) کے۱۸۰۰؍ ایم ایم سیوریج لائن کو بچھانے میں آسانی ہو۔اس لئے نوٹس ملنے کے ۷؍دنوں میں جگہ خالی نہ کرنے پر آپ مہاراشٹر سلم امپرومنٹ اینڈ ابالیشن بورڈ کی حکم عدولی کے مرتکب ہوں گے۔نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مکین یہ بھی ذہن نشین کرلیں کہ اگر آپ کو کوئی اعتراض ہے تو آپ ۷؍ دن کے اندر اعتراض داخل کرسکتے ہیں، بصورت دیگر اگر آپ جھوپڑا خالی نہیں کرتے ہیں تو یہ سمجھا جائے گا کہ آپ کو کوئی اعتراض نہیں ہے اور دفعہ ۳۳؍ اور۳۸؍ کے تحت کارروائی کرنے پرآپ کوکسی قسم کے اعتراض کا حق نہیںہوگا۔