لاک ڈائون کی افواہ سے دھاراوی کا مزدور طبقہ پریشان

Updated: January 13, 2022, 8:40 AM IST | saadat khan | Mumbai

آرڈر نہ ملنے سے کارخانوں کے مالکان معاشیپریشانی میں مبتلا جبکہ ملازمین کے سامنے روزی روٹی کا مسئلہ،متعدد کاریگر وطن لوٹنے پر مجبور

The number of employees in the factories also decreased due to emigration due to lack of work
کام نہ ہونے پر وطن چلے جانے کے سبب کارخانوں میں ملازمین کی تعداد بھی کم ہوگئی

: کوروناکی وباء سے زیادہ لاک ڈائون کی افواہ سے دھاراوی کا پسماندہ اور مزدور طبقہ مالی پریشانی میں مبتلاہے۔ کاروبار کے متاثر ہونےسے کاریگر اور مزدوروںکا ایک طبقہ اگر آبائی وطن لوٹ رہاہے تو دوسرا طبقہ دھاراوی چھوڑکر دیگر علاقوںمیںروزی روٹی کی تلاش میں مصروف ہے۔  دھاراوی میں کورونا کے زیادہ معاملات ہونے سےخوفزدہ مزدورخود کو دھاراوی کا نہ بتاکر کسی اور علاقےکا ہونےکا حوالہ دے کر ملازمت حاصل کرنےکی کوشش کررہےہیں۔ 
 ۹۰؍فٹ روڈ پر بیگ کا کارخانہ چلانے والے محمد خورشید عالم شیخ نےبتایاکہ ’’ پہلی اور دوسری لہر کی مار جھیل کر ابھی اُبھرے بھی نہیں تھے کہ تیسری لہر نے رہی سہی کسر نکال دی ہے ۔ گزشتہ ۱۰؍دنوںمیں ۵۰؍ فیصد کاروبار کم ہوگیاہے ۔ کورونا سےزیادہ لاک ڈائو ن سے کاریگر اور مزدور خوفزدہ ہیں۔ میرے ۲۵؍میں ۱۲؍کاریگر ایک ہفتہ میں گائوں لوٹ چکےہیں۔ کام نہ ہ ہونے سے آمدنی کا ذریعہ رک گیاہے ۔ جو کاریگر گائوں نہیں گئے ہیں ان کی ضرو رت کیسے پوری کی جائے ایک مسئلہ ہے ۔‘‘
 اسی علاقے میں جوتے بنانے کا ۱۹۷۵ء سے کاروبا ر کرنےوالے معصوم علی نے بتایاکہ ’’دھاراوی میں کورونا کے معاملات میں اضافہ ہونے  سے بیوپاریوںاورخریداروں نے کارخانے میں آنا چھوڑ دیاہے۔میرا کارخانہ سڑک سے کافی اندر ہے ۔ اس لئے خریدار بیماری کے خوف سے اندر نہیں آتےہیں۔ کاروبار ۷۵؍فیصد متاثر ہوا ہے۔‘‘ 
  اسی کارخانے میں جوتے بنانےکا کام کرنےوالے محمد آفاق نے کہاکہ ’’ ایک جوڑی کی بنوائی ۴۵؍روپے ملتی ہے ۔ لاک ڈائون کی افواہ سے قبل ہفتہ میں ۳؍ہزار رو پے کی مزدوری ہوجاتی تھی مگر جب سے کام کم ہواہے۱۵۰۰؍روپے کی بھی  مزدوری نہیں ہوپارہی ہے ۔ ایسےمیں گائوں جانےکے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔‘‘
  گز شتہ لاک ڈائون میں ۵؍دنوں کا مشکل ترین سفر طے کر اپنے گائو ں پہنچنے والے رمیش پال نے بتایاکہ ’’ کورونا کے بڑھنےکی صورت میں پابندیاں بڑھا دی جائیں تو مزدو ر برداشت کرلے گا مگر مکمل لاک ڈائون لگا دیاجائے تو مزدور کیلئے مشکل ہوجاتی ہے ۔ لاک ڈائون لگانے سےکام کاج بند ہو جاتاہے ۔ جس سے ہم یہاں پریشان ہوےہیں اور ہماری وجہ سے گھر والے گائوںمیں فکر مندہوتے ہیں۔ اس لئے گھر والے کہتے ہیں کہ جب لا ک ڈائون لگنےوالاہے تو وہاں رہ کر کیا کرو گے گھر ہی چلے آئو۔‘‘
 دھاراوی میں کام کرنےوالے محمد فاروق نےبتایاکہ ’’یہاں کورونا کے زیادہ معاملات اور لاک ڈائون کی افواہ سے بے رو زگاری اورکام نہ ہونے سے غریب لوگوںکیلئے مسئلہ پیدا ہو رہا ہے۔  ا س لئے میں نے سوچاکیوں نہ یہاں سے باہر نکل کر دیگر علاقوںمیں کام کرنےکی کوشش کی جائے ۔ میرے کچھ متعلقین  انٹاپ ہل میں ہیں ، میں ان کے پاس گیااور ان سے کام دلوانے کیلئے کہا لیکن انہیں میں نے یہ نہیں بتایاکہ میں دھاراوی  میں رہتاہوں بلکہ میں نے ان سے کہاکہ میں کرلا میں رہ رہا تھا۔ ایسا میں نے اس لئے کہاکیوں کہ دھاراوی میں کورونا کےبہت مریض مل رہے ہیں ، اس کی وجہ سے شاید لوگ مجھے کام دینے میں ہچکچائیں ۔ ‘‘
 دھورواڑہ ، دھاراوی میں زری اور سلائی کا کارخانہ چلانےوالے محمد سراج شیخ نےبتایاکہ ’’میرے پاس ۴۰؍ کاریگر کام کیا کرتے تھے مگر لاک ڈائون کی افواہ سے کام بری طرح متاثر ہوا ہے ۔ لوگوںمیں ڈروخوف بیٹھ گیاہے ۔ نیاکام نہیں مل رہاہے ۔ کچھ کاریگر کام نہ ہونے سےگائوں چلے گئے ہیں ۔ ‘‘ ۹۰؍ فٹ روڈ کے حیدر علی شیخ نےبتایاکہ ’’لاک ڈائون کی افواہ سے کام بری طرح متاثر ہوا ہے ۔باہر کے لوگ دھاراوی میں کام دینے کیلئے نہیں آرہےہیں جس سے کاروبار بندجیساہے جبکہ جگہ کا کرایہ اور دیگر ضروریات پوری کرنی ہے۔ گائوں جانا بھی مسئلہ کاحل نہیں ہے۔ ‘‘ 
 اسی علاقےمیں چائے کی دکان چلانے والے محمد اسلام شیخ نے بتایاکہ ’’ پورے علاقے میں لاک ڈائون کے افواہ سے کاروباری سرگرمیاں تھم گئی ہیں ۔کام نہ ہونے کی وجہ  سے کاریگر اور کارخانہ مالکان دونوں پریشان ہیں۔‘‘

lockdown Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK