دھولیہ :میونسپل اردو اسکول نمبر۲۵؍ کے میدان میں پانی بھرا،طلبہ،والدین کا احتجاج

Updated: August 06, 2022, 1:36 PM IST | I Shaikh | Dhule

کیچڑ اور بدبو سے پریشان چھوٹی عمر کے طلبہ نے میونسپل کارپوریشن کی راہداری میں دھرنا دیا ، مسئلہ حل کرنے کے لئے جم کر نعرے بازی کی

Students shouting slogans outside Additional Commissioner`s office.Picture:INN
 ایڈیشنل کمشنر کے دفتر کے باہر طلبہ نعرے بازی کرتے ہوئے۔۔ تصویر:آئی این این

دھولیہ میونسپل کارپوریشن کی عدم توجہی کا خمیازہ کارپوریشن کے اردو اسکولوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ جمعرات کی شب میں ایک گھنٹے کی تیز بارش نے ہرکو جل تھل کرڈالا۔ اس بارش کی وجہ سے ہمیشہ کی طرح سب سے زیادہ پریشانی لوہا بازار میں واقع میونسپل کارپوریشن کے اردو اسکول نمبر۲۰؍ کے طلبہ اور اساتذہ کو جھیلنا پڑی۔پورے میدان میں گھٹنے تک پانی بھرجانے سے   اساتذہ اور بچے اسکول کے کمروں تک پہنچ نہیں سکے جس کی وجہ سے طلبہ کا تعلیمی نقصان ہوا ہے۔  ہر بارش میں اسکول کے میدان کی ایسی ہی درگت ہوتی ہے۔شہری انتظامیہ کو بے حسی کی نیند سے جگانے کے لئے اسکول سمیتی کے چیئرمین جمیل شاہ کی قیادت میں اسکول سمیتی کے اراکین اور سرپرستوں، اساتذہ نے کمشنر کا گھیراؤ کرکے سوالات کی بوچھار کردی۔   سمیتی کے اراکین اور سرپرستوں کے تیور دیکھنے کے بعد  ایڈیشنل کمشنر نتن کا پڑنیس نے  ہر حال میں اسکول کے میدان کا مسئلہ حل کرنے کا یقین دلایا، جس  کے بعد طلبہ، سرپرست اور سمیتی کے اراکین نے مظاہرہ ختم کیا۔  اس ضمن میں مذکورہ اسکول سمیتی کے صدر جمیل شاہ نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا ہر بارش میں کارپوریشن کی اردو اسکول نمبر۲۰؍ کا میدان بارش کے پانی سے بھر جاتا ہے۔میدان میں بجری، مورم ڈالنے کا مطالبہ بارہا کیا گیا ہے لیکن انتظامیہ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔جمعرات کی رات میں موسلا دھار بارش ہوئی جس کی وجہ سے میدان میں گھٹنے تک پانی بھر گیا۔میدان میں پانی بھرا ہونے کی وجہ سے جمعہ کے دن صبح اساتذہ جیسے تیسے اسکول میں پہنچ گئے لیکن گھٹنے تک پانی بھرا ہونے کی وجہ سے طلبہ جماعت میں داخل نہیں ہوسکے۔صبح ۹؍بجے تک طلبہ اسکول کے باہر کھڑے رہے۔   شکایت موصول ہونے پر اسکول سمیتی کے صدر جمیل شاہ،عطاءالرحمن، عبدالحفیظ، سلیم زین العابدین، خالد انصاری کے علاوہ دیگر اراکین یہاں پہنچے کارپوریشن کمشنر دیوی داس ٹیکاڑے، ایڈیشنل کمشنر نتن کاپڑنیس کواسکول کا معاملہ گوش گزار کیا۔جمیل شاہ نے کہا دو گھنٹے تک افسران کا انتظار کیا گیا لیکن ایک بھی افسر اسکول کے میدان کی درگت دیکھنے نہیں پہنچا۔تاہم سمیتی کے اراکین، سرپرستوں، بچوں اور اساتذہ کے ساتھ میونسپل کارپوریشن پہنچے۔ مسئلہ حل نہ کئے جانے سے نوبت یہ آن پہنچی کہ اسکول کے طلبہ کو ایڈیشنل کمشنر کے دفتر کے سامنے مظاہرہ کرنا پڑا۔دھولیہ کی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ جمیل شاہ نے شکایت کی کہ اسکول کے سامنے۲؍ کروڑ ۳۴؍ لاکھ کا کانکریٹ کا روڈ کارپوریشن نے بنایا  اور راستے کی ڈھال اسکول کے میدان کی طرف اتار دی جس کہ وجہ سے اسکول کے میدان میں پانی بھر جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK