ڈونالڈ ٹرمپ کا صدارتی الیکشن ملتوی کرنے کا مطالبہ

Updated: August 01, 2020, 3:32 AM IST | Washington

امریکی صدر نے ڈاک کے ذریعے الیکشن کروانے پر ووٹنگ میں فریب دہی ہونےکا خدشہ ظاہر کیا۔ ٹرمپ کے مطابق ایسا کرنے پر یہ الیکشن تاریخ کے سب سے غلط اور دھاندلی پر مبنی الیکشن ہوں گے۔ محفوظ صورتحال پیدا ہونے تک الیکشن ملتوی کرنے کا مشورہ۔ اپوزیشن نے اسے جمہوریت پر حملہ قرار دیا ۔

Donald Trump Photo: INN
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو شکست کا خوف ستانے لگا ہے یا کوئی اور بات ہے لیکن انہوں نے صدراتی الیکشن ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات کو ملتوی کیا جائےکیونکہ ڈاک کے ذریعے زیادہ ووٹنگ کی وجہ سے الیکشن میں فریب دہی ہو سکتی ہے اور غلط نتائج آ سکتے ہیں ۔انھوں نے مشورہ دیا کہ اس وقت تک انتخابات ملتوی کئے جائیں جب تک کہ لوگوں کو ’مناسب اور محفوظ‘ طریقے ووٹ ڈالنے کا موقع نہ ملے۔ واضح رہے کہ کورونا وائرس کے پیش نظر امریکی ریاستیں چاہتی ہیں کہ اس بار الیکشن میں عوام پولنگ بوتھ پر قطار لگانے کے بجائے ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالیں لیکن ڈونالڈ ٹرمپ شروع سے اس تجویز کی مخالفت کر رہے ہیں ۔ حالانکہ ٹرمپ نے اب تک جو دعوے کئے ہیں ان کا کئی پختہ ثبوت نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے دھاندلی ہو سکتی ہے۔ جبکہ ریاستوں کا کہنا ہے کہ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ سے ووٹروں کا آسانی ہوگی۔
  اس تعلق سے ٹویٹ کرتے ہوئے ڈونالڈ ٹرمپ نے لکھا ہے ’’یونیورسل میل اِن و وٹنگ ۲۰۲۰ءنومبر کے ووٹ کو تاریخ کا سب سے زیادہ غلط اور دھوکے والا الیکشن بنا دے گی اور یہ امریکہ کے لیے ایک بڑی شرمندگی ہو گی۔‘‘انھوں نے کہا کہ’ ’ڈیموکریٹ ووٹنگ میں غیر ملکی اثر و رسوخ کی بات کرتے ہیں ، لیکن وہ جانتے ہیں کہ ’میل ان ووٹنگ‘ غیر ممالک کے لئے ریس میں داخلے کا آسان طریقہ ہے۔‘‘ ڈونالڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ ان علاقوں کے لئے پہلے ہی تباہ کن آفت ثابت ہو رہی ہے جہاں اس کا تجربہ کیا گیا ہے۔ اس ماہ کے آغاز میں ۶؍ امریکی ریاستیں نومبر میں ہونے والے انتخابات ڈاک کے ذریعے کروانے کا منصوبہ بنا رہی تھیں ۔یہ ریاستیں اپنے تمام ووٹروں کو ڈاک کے ذریعے بیلٹ پیپر بھیجیں گی، جو یا تو ڈاک کے ذریعے واپس آئے گا یا پھر الیکشن کے دن مجوزہ مقامات پر واپس کر دیا جائے گا۔ 
 اگرچہ کچھ ’ان پرسن‘ یا بذاتِ خود ووٹنگ کی سہولت بھی موجود ہے لیکن وہ محدود حالات میں ہی ہے۔ امریکہ کی تقریباً آدھی ریاستیں ووٹروں کو ڈاک کے ذریعے درخواست پر ووٹ ڈالنے کی اجازت دیتی ہیں ۔جون میں نیو یارک نے ڈیموکریٹک پارٹی کے صدر کے امیدوار کے پرائمری پول میں ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کی اجازت دی تھی لیکن بیلٹ پیپر کی گنتی میں بہت زیادہ تاخیر ہوئی تھی اور نتائج اب تک معلوم نہیں ہو سکےہیں ۔
 امریکی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق ایسی بھی تشویش پائی جاتی ہے کہ بہت سے بیلٹ کی گنتی بھی نہیں ہو گی کیونکہ وہ صحیح طریقے سے بھرے ہی نہیں گئے یا ان پر وہ نشان نہیں ہو گا جن سے پتہ چلے کہ یہ ووٹنگ کے سرکاری طور پر بند ہونے سے پہلے بھیجے گئے تھے۔ ڈونالڈ ٹرمپ کی اس تجویز یا مطالبے کو اپوزیشن غیر جمہوری قرار دے رہا ہے۔
  ٹرمپ کے بیان پر پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے نیو میکسیکو کے ڈیموکریٹک سینیٹر ٹام اڈل نے کہا کہ ٹرمپ کسی بھی طرح الیکشن میں تاخیر نہیں کروا سکتے۔انھوں نے کہا کہ یہ حقیقت ہی اصل جمہوری عمل پر ایک بہت سنگین اور سفاک حملہ ہے کہ وہ ایسا تجویز کر رہے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس کے سبھی اراکین، اور انتظامیہ کو اس کے متعلق کھل کے بات کرنی چاہئے۔
  واضح رہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کافی عرصے سے اس طرح کے ٹویٹ کر رہے ہیں جن میں وہ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کروانے کو دھوکہ دہی کا ایک طریقہ قرار دیتے آئے ہیں ۔ کچھ عرصہ پہلے اس معاملے میں کئے گئے ان کے ایک ٹویٹ پر ٹویٹر نے ’فیکٹ چیک‘ کا لیبل بھی لگایا تھا یعنی ٹویٹر میں جو بات کہی گئی ہے وہ درست نہیں ہے۔ فی الحال ٹرمپ کے اس مطالبے کو الیکشن میں ہونے والی شکست کا خوف کہا جا رہا ہے جس کا امکان زیادہ ہے کیونکہ مبصرین کی نظر میں انتظامیہ کا ایک بڑا حصہ ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK