ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے قریبی ساتھی مائیکل فلن کا جرم معاف کر دیا

Updated: November 28, 2020, 10:39 AM IST | Agency | Washington

قومی سلامتی کے سابق مشیر کے خلاف ۲۰۱۶ء میں روس کے ساتھ ساز باز کرکے امریکی صدارتی انتخابات میں مداخلت کا الزام تھا

Michael Flynn.Picture :INN
مائیکل فلن۔ تصویر:آئی این این

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے صدارتی اختیار کا استعمال کرتے ہوئے قومی سلامتی کے سابق مشیر مائیکل فلن کو صدارتی معافی دینے کا اعلان کیا ہے۔فلن پر ۲۰۱۶ءکے صدارتی انتخابات میں روس کے ساتھ ساز باز کر کے انتخابات میں مداخلت کرنے کے الزام میں فردِ جرم عائد کی جا چکی تھی۔ تاہم صدر ٹرمپ بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ روسی مداخلت کی تفتیش سیاسی تعصب پر مبنی ہے۔تجزیہ کار، فلن کی معافی کو  ٹرمپ کی جانب سے وہائٹ ہاؤس میں اُن کے قیام کے آخری دنوں میں اس تفتیش کو براہ راست نشانہ بنانے کی ایک کوشش قرار دے رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’یہ میرے لئے اعزاز کی بات ہے کہ میں اس بات کا اعلان کروں کہ جنرل مائیکل ٹی فلن کو مکمل معافی دی جاتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس کے بعد فلن اور اُن کی فیملی کے لئے تھینکس گیونگ کا تہوار اس بار شان دار ہو گا۔‘‘فلن صدارتی معافی حاصل کرنے والے صدر ٹرمپ کے دوسرے ساتھی ہیں جنہیں روسی مداخلت کی تفتیش کے دوران مجرم ٹھہرایا گیا تھا۔ اس سے پہلے ٹرمپ نے اپنے دیرینہ ساتھی راجر اسٹون کو جیل جانے سے چند دن پہلے ہی صدارتی معافی دی تھی۔ امریکی صدر کی جا نب سے معافی دیئے جانے کے بعد فلن پر چلنے والا کریمنل کیس ختم ہو جائے گا۔ ایک وفاقی جج امریکی محکمۂ انصاف کی اس درخواست کو بھی سن رہا تھا جس میں فلن کے خلاف قانونی چارہ جوئی روکنے کی درخواست کی گئی تھی۔ حالانکہ  فلن نے اعتراف کیا تھا کہ اُنہوں نے ۲۰۱۶ء کے صدارتی انتخابات سے قبل روسی سفیر سے ملاقات کے بارے میں ایف بی آئی سے جھوٹ بولا تھا۔ امریکی قانون صدر کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ مواخذے کے علاوہ امریکہ کے خلاف جرائم کے مرتکب افراد کو معاف کر سکتے ہیں۔ لیکن صدر ٹرمپ کے مخالفین یہ الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ ٹرمپ اپنے قریبی ساتھیوں کو بچانے کیلئے اس اختیار کا غلط استعمال کرتے ہیں۔خیال رہے کہ امریکی محکمۂ انصاف نے ۲۰۱۶ء کے صدارتی انتخابات میں روس کی مداخلت کے الزامات کی تحقیقات کی ذمہ داری مئی ۲۰۱۷ء میں رابرٹ ملر کو سونپی تھی۔ بعد ازاں ملر تحقیقات کا دائرہ صدر ٹرمپ اور اُن کے مشیروں کی جانب سے تحقیقات کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے مبینہ الزامات تک وسیع ہو گیا تھا۔ملر نے اپنی رپورٹ میں صدر کو انصاف اور تحقیقات کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے الزام سے مکمل بری الذمہ قرار نہیں دیا تھا۔  اس کے باوجود انہوں نے صدر اور اُن کے ساتھیوں کے خلاف مقدمہ چلانے کی سفارش نہیں کی تھی بلکہ یہ معاملہ محکمۂ انصاف پر چھوڑ دیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK