ڈونالڈ ٹرمپ کی سوشل میڈیا پر قدغن لگانے کی تیاری

Updated: May 29, 2020, 10:47 AM IST | Agency | Washington

ٹویٹر کی جانب سے امریکی صدر کے ٹویٹ پر ’فیکٹ چیک‘ کا لیبل لگائے جانےکے بعد انتقامی کارروائی۔ ایگزیکٹیو آرڈر جاری کرکے سوشل میڈیا پلیٹ فارموں  پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان۔ دنیا کے سب سے طاقتور ملک کے سربراہ کا سوشل میڈیا پر ’ قدامت پسندوں کی آواز دبانے‘ کا الزام

Donald Trump - Pic : INN
ڈونالڈ ٹرمپ ۔ تصویر : آئی این این

  امریکی صدر ڈونالڈ ترمپ نے  ٹویٹر کی جانب سے ان کے ٹویٹ پر لگائے گئے ’فیکٹ چیک‘ کے لیبل کے خلاف انتقامی کارروائی شروع  کردی ہے۔  کم از کم ان کے اس اعلان سے تو یہی لگتا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم  کے تعلق سے ایک ایگزیکٹیو آرڈر جاری کرنے جا رہے ہیں۔  خبر ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ نے اس آرڈر پر دستخط کر دئیے ہیں۔ سوشل میڈیا نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ آرڈر پر صدر ٹرمپ کے دستخط ہو چکے ہیں۔
  واضح رہے کہ ۲؍ روز قبل سوشل میڈیا کی ویب سائٹ ٹویٹر  نے ڈونالڈ ٹرمپ کے ایک ٹویٹ پر ’فیکٹ چیک ‘ کا لیبل لگایا تھا جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس ٹویٹ میں دی گئی معلومات درست نہیں ہے لہٰذا صارفین حقائق معلوم کر لیں۔  ٹویٹر نے اس کے ساتھ ایک لنک بھی دیا تھا جس پر کلک کرنے پر ٹرمپ کی کہی گئی بات اور اصل حقیقت کا فرق معلوم ہوتا ہے۔  اپنے ٹویٹ میں ڈونالڈ ٹرمپ نے کیلی فورنیا کے گورنر کی جانب سے پوسٹل ووٹنگ کے فیصلے پر تنقید کی تھی اور  اس طریقے کے تعلق سے کئی الزام تراشیاں کی تھیں۔  ٹویٹر  نے ان الزامات کے جواب میں اصل حقیقت بیان کر دی تھیں۔ 
  ڈونالڈ ٹرمپ ٹویٹر کے اس   اقدام سے سخت نالاں ہیں۔ انہوں نے اسی وقت اسے ’ آزادی اظہار  کا گلا گھونٹنے ‘سے تشبیہ دی تھی۔ ایک روز قبل ٹرمپ نے وارننگ دی تھی کہ وہ جلد ہی سوشل میڈیا پر پابندیاں عائد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔  بدھ کو  ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک  ٹویٹ میں کرکے کہا تھا کہ ’’ریپبلکن( والے) محسوس کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کنزرویٹیو( قدامت پسند) آوازوں کو مکمل طور پر خاموش کرنا چاہتے ہیں۔ ایسا ہونے سے قبل ہم ان کو سختی سے ریگولیٹ کریں گے یا پھر بند کر دیں گے۔‘‘ایک  بین الاقوامی نیوز ایجنسی  کے مطابق وہائٹ ہاؤس کے حکام نے سوشل میڈیا  اداروں سے متعلق ایگزیکٹیوآرڈر کے حوالے سے مزید کسی بھی قسم کی تفصیلات جاری نہیں کی ہے۔
  واضح رہے کہ ٹویٹر نے اپنے صارفین کو فیک نیوز(جھوٹی خبروں)  سے بچانے کی غرض سے یہ طریقہ اختیار کیا ہے کہ اگر کوئی صارف کوئی ایسا ٹویٹ کرے جس میں اسے حقیقت کے برخلاف کوئی بات نظر آئے تو ٹویٹر اس پر ’فیکٹ چیک‘ (حقیقت معلوم کریں)  کا لیبل لگا دیتا ہے۔ جب کوئی صارف اس لیبل پر کلک کرے تو  اسے متعلقہ معاملے کی حقائق  سے آگاہ کروایا جاتا ہے۔ اکثر سیاسی پارٹیاں  اپنے ایجنڈے کو مشتہر کرنے کی غرض سے سوشل میڈیا کا استعمال کرتی ہیں اور ان کے کارکن مختلف پلیٹ فارموں پر جھوٹے واقعات اور جھوٹی خبریں پھیلاتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے کئی بار فساد اور تشدد برپا ہونےکا خدشہ رہتا ہے۔  
  یہ دلچسپ بات ہے کہ دنیا کے سب سے طاقتور ملک کے صدر کو ٹویٹر نے غلط خبر پھیلانے پر متنبہ کیا۔  اس سے صدر اس قدر ناراض ہیں کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر ہی پابندی عائد کردینے کا فیصلہ کرلیا۔ اب دیکھنا یہ ہے  کہ امریکی صدر اپنے اس آرڈر میں سوشل میڈیا پر کس طرح کی پابندیاں عائد کرتے ہیں۔ فی الحا ڈونالڈ ٹرمپ کے اس اقدام پر فیس بک، گوگل اور ایپل جیسے سوشل میڈیا کے اہم پلیٹ فارموں کی جانب سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔  واضح رہے کہ اس آرڈر کو  جمعرات ہی کو جاری ہونا تھا لیکن خبر لکھے جانےتک یہ آرڈر جاری نہیں کیا گیا تھا اس لئے یہ نہیں معلوم ہو سکا کہ اس کی تفصیلات کیا ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK