کورونا کے سبب عالمی شرح نمو میں تقریباً ۵؍ فیصد گراوٹ آئے گی

Updated: June 27, 2020, 3:38 AM IST | Geneva

عالمی مالیاتی فنڈ کے مطابق کورونا وائرس اور لاک ڈائون نے پوری دنیا کی معیشت کیلئے بہت بڑا بحران پیدا کردیا ہے۔

IMF chief Geeta Gopinath. Photo: INN
آئی ایم ایف کی چیف گیتا گوپی ناتھ۔ تصویر: آئی این این

 عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے جو معاشی بحران پیدا ہوا اس کی مثال نہیں ملتی اور رواں سال مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیاء سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں مجموعی جی ڈی پی ۴ء۹؍فیصد گراوٹ کا شکار ہوگی۔دی گارجین کی رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے اپنے تازہ ترین عالمی معاشی آؤٹ لک میں کہا کہ اگلی مال سال میں عالمی معیشت کو۱۲؍ ہزار ارب ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے جبکہ دنیا بھر میں کاروبار بند ہونے سے کروڑوں ملازمتیں ختم ہوگئی ہیں ۔عالمی مالیاتی ادارے کے مطابق معیشت کی بحالی کے امکانات بھی خطرہ سے دوچار ہیں ۔عالمی ادارے نے پیش گوئی کی کہ اگلے سال کے لئے عالمی شرح نمو۴ء۵؍ فیصد ہوسکتی ہے جو گزشتہ تخمینے سے ۴؍ فیصد کم ہے۔ادارے کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیائی خطے میں شرح نمو ۳ء۳؍ فیصد رہ سکتی ہے۔ واضح رہے کہ عالمی سطح پر اعلان کردہ مالی اعانت ۱۱؍ ہزار ارب ڈالر کے قریب پہنچ گئی ہے جو اپریل میں ۸؍ ہزار ارب ڈالر تھی۔
 آئی ایم ایف کی چیف ماہر معاشیات گیتا گوپی ناتھ نے کہا کہ ان اندازوں پر یقین کیا جائے تو عالمی معیشت کو ۱۲؍ ہزار ارب ڈالرس کا مجموعی نقصان ہونے کا اندیشہ ہےجبکہ اس سے دو ماہ قبل یہی نقصان ۹؍ ہزار ارب ڈالر رہنے کا اندازہ تھا۔انہوں نے کہا کہ `جہاں لاک ڈاؤن کی ضرورت ہے وہاں معاشی پالیسیوں کے ذریعے گھریلو آمدنی کے نقصانات کو کم کرنے اور صنعتوں کو مالی مدد فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ `جہاں معیشتیں دو بارہ کھل رہی ہیں وہاں بحالی کا کام شروع ہونےکے ساتھ ہی ایک نشانہ مقرر ہوجانا چاہئے۔ 
 واضح رہے کہ آئی ایم ایف نے کہا تھا کہ وہ کورونا وائرس سے متاثرہ اور معاشی اثرات سے نبرد آزما ممالک کی مدد کے لیے ۱۰؍کھرب ڈالر قرض دینے کے لئے تیار ہے۔۱۵؍مارچ کو امریکی فیڈرل ریزرو نے معاشی نمو کی حوصلہ افزائی کے لئے سود کی شرح صفر کردی تھی۔اس سے قبل۷؍ مارچ کو آئی ایم ایف نے حکومتوں پر زور دیا تھا کہ عوام کو کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے عالمی طبی بحران کے معاشی اثرات سے تحفظ فراہم کیا جانا چا ہئے۔ اس کے لئے تمام طرح کے ضروری اقدامات کئے جانے چاہئیں ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK