افغانستان میں زلزلہ، سیکڑوں مکان زمیں بوس ۲۶؍ جاں بحق

Updated: January 19, 2022, 8:24 AM IST | kabul

پہلے ہی خشک سالی سے بدحال مغربی افغانستان کا بدغیس علاقہ زلزلے سے بری طرح متاثر، مہلوکین میں ۵؍ خواتین اور ۴؍ بچے شامل، اموات میں اضافے کا اندیشہ

Affected people can be seen searching for essential items in the rubble of their homes.
متاثرہ افرادکو اپنے گھروں کے ملبے میں اشیائے ضروریہ کو تلاش کرتے ہوئے دیکھا جاسکتاہے۔

 مشرقی افغانستان کے صوبے  بدغیس میں آنےو الے ایک زلزلے میں  ۲۶؍ افراد کے جاں بحق ہوجانے کی اطلاعات ہیں۔ ان میں ۵؍ خواتین اور ۴؍ بچے شامل ہیں۔ بدغیس صوبے کے ترجمان باز محمد سروری نے بتایا کہ زیادہ ترافراد کی موت گھروں کے ڈھے جانے اوراس کے ملبے میں دب جانے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ زلزلہ بہت زیادہ شدید نہیں تھا۔ ریختر پیمانے پر اس کی شدت ۵ء۳؍   درج کی گئی ہے مگر افغانستان  کے جس علاقے  کو اس نے متاثر کیا وہ انتہائی غریب اور خستہ حال علاقہ ہے جہاں اکثر مکانات کچے ہیں۔ 
ہلاکتوں میں اضافے کا اندیشہ
 محمد سروری  نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ۲۶؍ افراد جاں بحق ہوئے ہیں جن میں  ۵؍ خواتین اور ۴؍ بچے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بدغیس صوبے  کے ضلع موقر میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے اور املاک کو بھی نقصان پہنچا ہے تاہم  وہاں سے ہلاکتوں کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔  اندیشہ ظاہر کیا جارہاہے کہ بدغیس میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ یہاں بچاؤ اور ملبے میں  زخمیوں نیز  لاشوں  کی  تلاش کا کام جاری ہے۔ 
 افغانستان  پہلے ہی انسانی بحران کا شکار ہے۔ گزشتہ برس اگست  میں ملک کی باگ ڈور   طالبان نے اپنے ہاتھ میں لے لی ہے جس کے بعد سے  مغربی ممالک نے افغانستان کیلئے  نہ صرف  امداد بند کردی ہے بلکہ بیرون ِ ملک موجود اس کے  مالی اثاثوں کو بھی منجمد کردیاگیاہے۔ گزشتہ دنوں اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس نے بھی  اپیل کی ہے کہ افغانستان کے منجمد اثاثوں کو بحال کیا جائے تاکہ وہاں جاری انسانی بحران سے نمٹنے میں مدد ملے۔ 
صوبہ بدغیس پہلے ہی بدحالی کا شکار ہے
 افغان صوبے بدغیس کا علاقہ قادیس جو زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، خشک سالی سے متاثرہ ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔ اس علاقے کو گزشتہ ۲۰؍برسوں میں فراہم کی گئی بین الاقوامی امداد سے بھی بہت کم فائدہ پہنچا ہے۔
زلزلے کے یکے بعد دیگرے ۲؍ جھٹکے
  بدغیس صوبے کے حکام نے بتایا کہ زلزلے کے پہلے جھٹکے کی شدت ۵ء۳؍ تھی جبکہ اس کے  کم وبیش ۲؍ گھنٹے بعد دوسرا جھٹکا ہے آیا جس کی شدت ریختر پیمانہ پر ۴ء۹؍ درج کی گئی ہے۔  افغانستان میں  ہندوکش کے پہاڑی سلسلے  میں واقع علاقے اکثر زلزلے جیسی قدرتی آفات کا شکار رہتے ہیں۔۲۰۱۵ءمیں آنے والے۷ء۵؍ شدت کے طاقتور زلزلے نے پورے جنوبی ایشیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا، جس میں تقریباً۲۸۰؍افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔ زیادہ تر اموات  پاکستان  میں ہوئی تھیں۔
ایک ہزار کے قریب مکانات منہدم
 بدغیس صوبے کے ترجمان باز محمد سروری  نے بتایا کہ شدید بارش  کے دوران یہاں فوری طور پر بچاؤ کا کام شروع کردیاگیاتھا۔  انہوں  نے متنبہ کیا کہ بدغیس میں مہلوکین کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ واضح رہے کہ ترکمانستان کی سرحد سے جڑا ہوا افغانستان کا یہ پہاڑی علاقہ ملک کے غریب ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔ افغانستان میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے شعبے کے سربراہ ملاح جنان سئیق نے بھی ۲۶؍ ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا  کہ زلزلے کی وجہ سے ۷۰۰؍ مکانات منہدم ہوگئے ہیں۔ کچھ رپورٹوں میں منہدم شدہ مکانات کی تعداد ایک ہزار کے آس پاس بھی بتائی گئی ہے۔  
طالبان حکام بچاؤ کام میں پیش پیش
 طالبان کے ترجمان انعام اللہ سمن غنی نے بتایا کہ بچاؤ کام میں مصروف کارکن  زخمیوں کو تلاش کرکے مقامی اسپتالوں میں منتقل کررہے ہیں۔  انہوں نے بتایا کہ علاقے میں موجود طالبان کی ٹیم  عوام کی مدد میں پیش پیش ہے۔ اس سلسلے میں  سوشل میڈیا پر گشت کرنے والی تصاویر میں دیکھا جاسکتاہے کہ عام شہری جن میں بچے   اور خواتین  بھی شامل ہیں، اپنے گھروں کے ملبے ہٹا رہے ہیں۔ حکام کے مطابق زلزلے کا مرکز بدغیس دارالحکومت قلعہ نو کے قریب تھا جو ترکمانستان کی سرحد سے محض ۱۰۰؍ کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK