Inquilab Logo

ہم این سی ای آر ٹی پر مقدمہ کردیں گے: تعلیمی ماہرین کا ادارے کو کھلا خط

Updated: June 18, 2024, 10:35 PM IST | New Delhi

یوگیندر یادو اور سہاس پالشیکر کا خط اس وقت سامنے آیا ہے جب این سی ای آر ٹی نے اپنی نصابی کتابوں میں مزید تبدیلیاں کرتے ہوئے ۲۰۰۲ء گجرات فسادات اور ۱۹۹۲ء بابری مسجد کے انہدام کے متعلق اقتباسات کو حذف کردیا ہے۔ این سی ای آر ٹی نے ہندوستان میں مغل بادشاہت اور ۱۹۷۵ء کی قومی ایمرجنسی سے متعلق اقتباسات بھی ہٹا دیئے ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

تعلیمی ماہر سہاس پالشیکر اور سیاسی تجزیہ نگار یوگیندر یادو نے پیر کو بیان دیا کہ اگر نصابی کتب تیار کرنے والی کمیٹی سے ان کے نام خارج نہیں کئے گئے تو وہ نیشنل کاؤنسل فار ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) پر مقدمہ کردیں گے۔ دونوں تعلیمی ماہرین نے گزشتہ سال بھی ایسی ہی درخواست کی تھی لیکن این سی ای آر ٹی نے کہا تھا کہ نصاب کمیٹی سے کسی رکن کا نام خارج کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستانی بچوں کو بابری مسجد کے بارے میں معلوم ہونا چائے: اسد الدین اویسی

دونوں تعلیمی ماہرین چاہتے ہیں کہ این سی ای آر ٹی کے ذریعے تیارکردہ جماعت نہم تا دوازدہم کی علم سیاسیات کی نصابی کتابوں میں سربراہ مشیران کے طور پر درج ان کے نام حذف کردیا جائے۔ واضح رہے کہ حال ہی میں این سی ای آر ٹی نے مذکورہ نصابی کتابوں میں کئی تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں جن کے تحت ہندوستان تاریخ سے کچھ اہم تفصیلات کو بدل دیا گیا ہے یا حذف کردیا گیا ہے۔ 
یوگیندر یادو نے پیر کو ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ گزشتہ سال ہماری درخواست کے باوجود این سی ای آر ٹی نے اس سال بھی مسخ شدہ کتابوں میں ہمارے نام شائع کیا ہے جبکہ ہم ان کتابوں سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پالشیکر سہاس اور میں نے این سی ای آر ٹی کو لکھا ہے کہ اگر انہوں نے یہ نصابی کتابیں اور ان میں درج ہمارے نام واپس نہیں لئے تو ہم ان کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔
این سی ای آر ٹی کے ڈائریکٹر دنیش پرساد سکلانی کے نام، پیر کو لکھے گئے خط میں دونوں تعلیمی ماہرین نے حیرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے لکھا کہ نہایت حیرانی کی بات ہے کہ ایک سال قبل نصابی کتابوں سے خود کو الگ کر لینے اور کاؤنسل سے نام ہٹانے کی درخواست کرنے کے باوجود ان کے نام اس سال نئی پرنٹ شدہ کتابوں میں شائع کئے گئے ہیں۔ اور ان کتابوں میں مزید تبدیلیاں کی گئیں۔ یوگیندر یادو اور سہاس پالشیکر کا خط اس وقت سامنے آیا ہے جب این سی ای آر ٹی نے اپنی نصابی کتابوں میں مزید تبدیلیاں کرتے ہوئے ۲۰۰۲ء کے گجرات فسادات اور ۱۹۹۲ء بابری مسجد کے انہدام کے متعلق اقتباسات کو حذف کردیا ہے۔ این سی ای آر ٹی نے ہندوستان میں مغل بادشاہت اور ۱۹۷۵ء کی قومی ایمرجنسی سے متعلق اقتباسات بھی ہٹا دیئے ہیں۔ بارہویں جماعت کی سیاسیات کی نصابی کتاب میں بابری مسجد کا ذکر نام کے ساتھ نہیں کیا گیا ہے بلکہ اس کیلئے ’’تین گنبد والی عمارت جسے شری رام کی جائے پیدائش پر بنایا گیا تھا‘‘ کا حوالہ استعمال کہا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: این سی ای آر ٹی کی کتابوں میں ’’انڈیا‘‘ اور ’’بھارت‘‘ دونوں مستعمل

سکلانی کے نام اپنے خط میں یادو اور پالشیکر نے کہا کہ منتخب اقتباسات حذف کرنے کے ساتھ، این سی ای آر ٹی نے نصابی کتابوں میں کئی اہم اضافے کئے اور کچھ جگہوں پر اقتباسات کو نئے انداز میں لکھا گیا ہے، یہ تبدیلیاں، اصل کتابوں کی روح سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ این سی ای آر ٹی کو کوئی اخلاقی یا قانونی حق نہیں ہے کہ وہ ہم میں سے کسی سے مشورہ کئے بغیر ان نصابی کتب کو مسخ کرے اور ہمارے واضح انکار کے باوجود انہیں ہمارے نام کے ساتھ شائع کرے۔ یہ عجیب بات ہے کہ مصنفین اور ایڈیٹرز کو اپنے نام سے ایسی تصانیف کو جوڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے جنہیں وہ خود سے منسوب نہیں کرنا چاہتے۔
یادو اور پالشیکر نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ این سی ای آر ٹی، ہمارے ناموں کا استعمال کرکے طلبہ کیلئے سیاسی سائنس کی ایسی نصابی کتابیں شائع کرے جو ہمیں سیاسی طور پر متعصب، تعلیمی طور پر ناقابل دفاع اور تدریسی لحاظ سے ناکارہ لگتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK