Inquilab Logo

شیوسینا (ادھو) کے کارکنان کی زمینی سطح پر ووٹروں تک پہنچنے کی کوشش

Updated: July 10, 2024, 10:31 AM IST | Sameer Surve | Mumbai

اسمبلی انتخابات کیلئےادھو گروپ کی ’خاموش مہم‘، مقامی عہدیدارا ن کئی اہم مسائل پرلوگوں سے گفتگو کررہے ہیں۔

Shiv Sena (UBT) Chief Uddhav Thackeray. Photo: INN
شیوسینا (یو بی ٹی )چیف ادھو ٹھاکرے۔ تصویر : آئی این این

لوک سبھا انتخابات کے بعد شیو سینا (یو بی ٹی) کے زمینی سطح کے عہدیداروں نے اسمبلی انتخابات کیلئے ایک خاموش مہم شروع کی، جسے ’پرائیڈ آف مہاراشٹر‘ (فخر مہاراشٹر)نام دیا گیا ہے۔ سیوڑی کے سابق کارپوریٹر سچن پڑوال نے ’انقلاب‘ سے گفتگو میں بتایا کہ قانون ساز کونسل کے انتخابات میں جن حلقوں سے ہمارے امیدوار جیتے ہیں ہم وہاں جاکر گریجویٹس اور ٹیچر ووٹروں کا شکریہ ادا کرنے کیلئے ان سے ملاقاتیں کررہے ہیں۔ ان ملاقاتوں کے دوران ہم نے آئندہ اسمبلی الیکشن کیلئے خاموش مہم شروع کر دی ہے۔ بنیادی طور پر ہم روزگار پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں اور مہاراشٹرسے صنعتوں کی منتقلی کے مسئلے کو موضوع بحث بنا رہے ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ ’’صنعتیں مہاراشٹر کا فخر تھیں لیکن ہم نے دیکھا اوردوسروں نے بھی دیکھا کہ صنعتیں مہاراشٹر سے منتقل ہو رہی ہیں۔ ریاستی حکومت نئی صنعتیں مہاراشٹر میں لانے میں کامیاب نہیں ہورہی  ہے۔‘‘
شیوسینا (ادھو)کے لیڈراور گھاٹ کوپر  حلقے کے سربراہ تکارام پاٹل  اس بار ےمیں کہا ’’ہم نے ہمیشہ زمینی سطح پر کام کیا ہے اور اب زمینی سطح کے پارٹی کارکنوں کے ساتھ میٹنگیں بھی شروع کر دی ہیں۔ ہم کارکنوںسے کہہ رہے ہیں کہ کورونا بحران کے دوران ریاستی حکومت اور بی ایم سی نے جو کام کئے، انہیں اجاگر کریں۔ ہم پارٹی سربراہ ادھو ٹھاکرے کے اقدامات سے لوگوں کو روشناس کرارہے ہیں جو بطور وزیر اعلیٰ انہوں نے کووڈبحران کےد وران اٹھائے۔‘‘ پاٹل نے مزید کہا’’ہماری پارٹی کے کارکنان روزگار اور مراٹھا ریزرویشن کے مسائل بھی اٹھا رہے ہیں، کیونکہ حلقے میں مراٹھی برادری کی بڑی آبادی ہے۔‘‘ تکارام پاٹل نے مزید بتایا کہ ’’ہم نے  باضابطہ کوئی مہم شروع نہیں کی ہے لیکن ہمارے پارٹی کارکن ووٹروں سے مل رہے ہیں، ان کے مطالبات کو سمجھ رہے ہیں اور انہیں بتا رہے ہیں کہ پارٹی اور سابق کارپوریٹرس نے وارڈ کے لیے کیا کیا ہے۔‘‘
جوگیشوری ویسٹ کے سابق کارپوریٹر راجول پٹیل نے بھی کہا’’ہم نے باضابطہ کوئی مہم شروع نہیں کی ہے لیکن ہم باقاعدگی سے لوگوں سے مل رہے ہیں۔ گریجویٹ اور  ٹیچر ووٹروں سے مل کر ہم ان کا شکریہ ادا بھی کررہے ہیں۔ ان ملاقاتوں میں ہم یہ سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں کہ بطور شہری اور بطورووٹر ان کی کیا ضروریات ہیں اور سیاستدانوں سے وہ کیا توقعات رکھتے ہیں۔‘‘
 واضح رہےکہ ۲۰۱۹ء کے اسمبلی انتخابات کے دوران، غیر منقسم شیوسینا نے شہر کے ۱۴؍ حلقوں  پر جیت حاصل کی تھی۔  اس و قت پارٹی بی جے پی کے ساتھ اتحاد میں تھی۔ پارٹی میں تقسیم کے بعد،۶؍ ایم ایل اے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا میں شامل ہوگئے جبکہ ۸؍ ایم ایل اے اب بھی ادھو ٹھاکرے (یو بی ٹی) کے ساتھ ہیں۔ حالیہ پارلیمانی انتخابات میں، یو بی ٹی نے شہر کے ۴؍ لوک سبھا حلقوں میں مقابلہ کیا اور ان میں سے ۳؍  پرجیت حاصل کی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK