مصر، فرانس، جرمنی اور اردن کیجانب سے اسرائیل کو تنبیہ

Updated: July 09, 2020, 5:08 AM IST | Agency | Berlin

چاروں ممالک نے مشترکہ بیان میں صہیونی ریاست کو متنبہ کیا کہ اگر فلسطینی علاقوں کو غصب کرنے کے منصوبے سے باز نہ آیا تو باہمی تعلقات خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ ۱۹۶۷ء میں طے کی گئی اسرائیل اور فلسطین کی سرحدوں میں کسی بھی طرح کی تبدیلی دونوں ممالک کی رضامندی کے بغیر منظور نہیں۔

Solidarity with Palestine - Pic : INN
فلسطین میں روزانہ اسرائیلی منصوبے کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے ( تصویر: ایجنسی

مصر ، فرانس ، جرمنی اور اردن نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ وہ غربِ اردن میں فلسطینی علاقوں کو ہتھیاکر صہیونی ریاست میں ضم کرنے سے گریز کرے۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ اگر اس نے ایسا کیا تو اس کے دوطرفہ سفارتی تعلقات خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔جرمن کی وزارت خارجہ نے ان چاروں ممالک کی جانب سے منگل کے روز ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل اور فلسطینی اتھاریٹی کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا ہے۔ان چاروں کے علاوہ بیشتر یورپی ممالک اسرائیل کے غربِ اردن کے بعض علاقوں اور وادیِ اردن کو صہیونی ریاست میں ضم کرنے کے اقدام کی مخالفت کررہے ہیں۔
 و اضح رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو یہودی آباد کاروں کی بستیوں اور وادیِ اردن کو ریاست میں شامل کرنے کیلئے امریکی صدر ڈونالد ٹرمپ  نے اس سال کے اوائل میں مشرق وسطیٰ میں قیام امن کیلئے’سنچری ڈیل‘ کے نام سے ایک متنازع منصوبہ تیار کرکے دیا تھا۔ اسرائیل کو اسی ’ڈیل ‘ سے شہ ملی ہے۔  ٹرمپ  کے اس منصوبہ میں مذکورہ علاقوں پر اسرائیلی قبضے کی تائید کی گئی ہے۔
 صہیونی وزیراعظم بین الاقوامی برادری کی مخالفت کے باوجود فلسطینی علاقوں کو ہتھیانے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانا چاہتے ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ اس ضمن میں ان کی بھرپور حمایت اور حوصلہ افزائی کررہا ہے۔امریکی صدر قبل ازیں اسرائیل کے گولان کی چوٹیوں پر قبضے کو بھی جائز تسلیم کرچکے ہیں اور مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرچکے ہیں۔ تاہم امریکہ نے ابھی تک اسرائیل کے اس منصوبے کو منظوری نہیں دی ہے۔
 فلسطینی اتھارٹی اسرائیل کے اس منصوبے کی مخالفت کررہی ہے۔ فلسطینی پورے غرب اردن اور غزہ کی پٹی پر مشتمل علاقوں کو اپنی مستقبل میں قائم ہونے والی ریاست میں شامل کرنا چاہتے ہیں جس کا دارالحکومت مقبوضہ بیت المقدس ہو۔ مذکورہ چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان   ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے میٹنگ ہوئی تھی جس کے بعد انہوں نے کہا ہے کہ’’ ہم نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ۱۹۶۷ءءمیں قبضے میں لئے گئے فلسطینی علاقوں کا صہیونی ریاست میں انضمام بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوگا  اور اس سے دونوں ممالک کے درمیان امن عمل کی بنیادیں متاثر ہوں گی۔‘‘
 انھوں نے بیان میں واضح کیا ہے کہ ’’ہم ۱۹۶۷ء کی سرحدوں میں ایسی کسی تبدیلی کو تسلیم نہیں کریں گے جس پر تنازع کے دونوں فریقوں کا اتفاق نہ ہو۔‘‘انھوں نے مزید کہا ہے کہ ’’اس اقدام( سنچری ڈیل پر عمل) کی وجہ سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات متاثر ہوں گے۔‘‘اسرائیل نے فوری طور پر اس کے ردعمل میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے لیکن صہیونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے الگ سے ایک بیان میں کہا ہے کہ انھوں نے پیرکو برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کو بتایا تھا کہ وہ صدر ٹرمپ کے ’’حقیقت پسندانہ‘‘ امن عمل کے تئیں پُرعزم ہیں۔نیز اسرائیل صدر ٹرمپ کے امن منصوبہ کی بنیاد پر مذاکرات کیلئے تیار ہے۔یہ منصوبہ تخلیقی اور حقیقت پسندانہ ہے اور یہ ماضی کے ناکام فارمولوں کا حصہ نہیں بنے گا۔‘‘ واضح رہے کہ یورپی ممالک کے علاوہ امریکی صدارتی انتخاب کے امیدوار جو بائیڈن بھی اس منصوبے کے خلاف ہیں ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK