سعودی عرب میں عید الاضحی کی نمازاد اکی گئی

Updated: July 10, 2022, 1:49 AM IST | Riyadh

سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے عالم اسلام کو عید کی مبارکباد پیش کی۔ ان کے مطابق اب بھی حجاج کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے احتیاطی تدابیر کو اپنایا جا رہا ہے۔حجاج کرام کیلئے دعا کی۔ کہا : اللہ تمام عازمین کاحج قبول فرمائے ۔ منتظمین کی تعریف کی

Shah Salman bin Abdul Aziz addressing
شاہ سلمان بن عبد العزیز خطاب کرتےہوئے۔

:سعودی عرب میں سنیچر کو عید الاضحی انتہائی عقیدت اور احترام کے ساتھ منائی گئی۔ واضح رہے کہ کووڈ کی عالمی وبا کی وجہ سے گزشتہ ۲؍ سال سے عید الاضحی کا تہوار  پابندیوں کے درمیان منا یا جارہا تھا۔
  مسجد الحرام اور مسجد نبویؐ سمیت مملکت کی تمام مساجد میں عید الاضحی کی نماز ادا کی گئی ۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق عید کا سب بڑا اجتماع مسجد الحرام میں ہوا جہاں  شیخ عواد الجہنی نے عید کا خطبہ دیا اور نماز کی امامت کی۔انہوں نے خطبے میں مسلمانوں کو عید کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے قربانی کے جذبے کو یقینی بنانے کی یاد دہانی کروائی۔  سعودی پریس ایجنسی کے مطابق عید کا سب بڑا اجتماع مسجد الحرام میں ہوا جہاں  شیخ عواد الجہنی نے عید کا خطبہ دیا اور نماز کی امامت کی۔منیٰ میں حجاج کرام نے بڑے شیطان کو رمی کا عمل سنیچر کو  فجر کے بعد شروع کیاگیا۔ہر زون میں واقع خیموں کے حاجیوں کو رمی کیلئے مقررہ وقت دیا گیا۔ایسا اس لئے کیا گیا تاکہ جمرات پل پر بھیڑ نہ ہو اور رمی کے عمل میں آسانی ہو ۔
 حج منصوبے کے مطابق مزدلفہ سے واپسی پر حجاج کو خیموں میں جانے کا پابند بنایا گیا ہے جہاں وہ رمی کیلئے اپنے وقت کا انتظار کریں گے۔جمرات لے جانے والے تمام راستوں پر حج  سیکوریٹی فورس  مامور رہے جہاں حاجیوں کو سامان لے جانے کی اجازت نہیں۔
 حاجیوں کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ رمی کیلئے جمرات پر اپنا سامان نہ لے جائیں۔رمی کے بعد جمرات پل کے قریب اور حاجیوں کے خیموں میں بھی حجاموں کا انتظام کیا گیا ہے جہاں بال منڈوانےکی سہولت  ہےحاجی چاہیں تو رمی کے فوراً بعد بال منڈوائیں یا پھر یہاں سے سیدھا مکہ مکرمہ جا کر طواف کرلیں اور واپسی پر بال منڈوائیں۔ حجاج رمی کرنے کے بعد حلق یا تقصیر(بال منڈوانے) کے بعد احرام کھول دیں گے۔ اس کے بعد حجاج قربانی کا فریضہ ادا کریں گے۔ اس طرح حج۲۰۲۲ء اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہوگیا۔۱۰؍ ذوالحجہ کے دن لاکھوں حجاج کرام رمی کے لئے منیٰ  پہنچے جہاں  انہوں نے ’بڑے شیطان‘ کو کنکریاں مارنے کے بعد بال اتروا کر احرام کھول دیئے۔ قبل ازیں حجاج نے ۹؍ ذوالحجہ کا دن میدان عرفات میں گزارا جہاں انہوں نے حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ ادا کیا اور غروب آفتاب کے ساتھ ہی میدان عرفات سے مزدلفہ کی جانب کوچ کیا۔ قبل ازیں حجاج نے ۹؍ ذوالحجہ کا دن میدان عرفات میں گزارا جہاں انہوں نے حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ ادا کیا اور غروب آفتاب کے ساتھ ہی میدان عرفات سے مزدلفہ کی جانب کوچ کیا۔ حجاج کرام نے رات مزدلفہ میں قیام کیا جہاں انہوں نے مغرب اور عشا کی نمازیں قصر و جمع کی صورت میں ادا کیں اور فجر کی نماز کے ساتھ ہی منیٰ کیلئے روانہ ہوگئے۔ کچھ حجاج مغرب وعشا کی نمازیں مزدلفہ میں ادا کرنے کے تھوڑی دیر بعد ہی منیٰ کی جانب چل پڑے جبکہ بیشتر نے رات کا کافی حصہ مزدلفہ میں گزارا۔ مزدلفہ کا مقام تین بڑے حج مقامات میں سے ایک ہے جو منیٰ اور عرفات کے درمیان واقع ہے۔  
  ادھرسعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان نے عیدالاضحی کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا  کہ کورونا وائرس کی وبا کے خلاف مثبت اقدامات کی وجہ سے رواں برس عازمین حج کی تعداد میں۱۰؍ لاکھ تک پہنچی ہے۔
  میڈیا رپورٹس کے مطابق سرکاری ٹی وی پر اپنے خطاب میں شاہ سلمان نے  عالم اسلام کو عید کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اب بھی حجاج کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے احتیاطی تدابیر کو  اپنایا جا رہا ہے۔
 شاہ سلمان نےدعا کی کہ اللہ تمام عازمین کا حج قبول فرمائے۔ انہوں نے حج کے امور اور انتظام دیکھنے والوں کی کوششوں کی بھی تعریف کی۔ کورونا وائرس کی وبا کے بعد رواں برس عازمین حج کی تعداد۱۰؍ لاکھ تک پہنچی ہے۔۲۰۲۰ء میں کورونا وائرس کی وباء کے دوران صرف ایک ہزار افراد کو حج کی اجازت دی گئی تھی۔۲۰۲۱ء میں حجاج کی تعداد۶۰؍ ہزار تھی۔ ۲۰۱۹ء میں  دنیا بھر سے تقریباً ۲۵؍ لاکھ افراد نے حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی تھی جو    عازمین حج کی تعداد کے اعتبار سے ایک ریکارڈ تھا۔

hajj Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK