حکومت کے رویےکیخلاف شدید برہمی

Updated: August 01, 2020, 3:42 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

قربانی کے دن تک سنت ابراہیمی کی ادائیگی کے تعلق سے مختلف،مسائل برقرار اور لوگ پریشان رہے۔

Deonar Slaughter House. Photo: INN
دیونار سلاٹر ہاؤس۔ تصویر: آئی این این

قربانی کے تعلق سے پیدا ہونے والے مسائل، راستے میں بکروں سے بھری گاڑیاں روکنے کا اثر یہ ہوا کہ جانوروں کی شدید قلت پیدا ہو گئی اور کوشش کرنے کے باوجود بہت سے لوگوں کو پسند کے جانور نہ مل سکے یا پھر جو موجود جانور تھے اسی پر اکتفا کرنا پڑا اور بہت سے لوگ ایسے تھے جن کو بکرے نہ ملے تو انہوں نے ملک کے دیگر حصوں میں سنت ابراہیمی کی ادائیگی کے لئے کوشش کی اور بڑے جانور میں ،حصہ لیا۔ ان مسائل کے سبب جہاں لوگوں کو بہت زیادہ دشواری ہوئی وہیں ان میں حکومت کے رویے کے خلاف شدید برہمی پائی جا رہی ہے کہ آخر اس مسئلے کو کیوں ‌حل نہیں کیا گیا جب‌ مسلمان لاک ڈاؤن سے اب تک تمام ہدایات پر مکمل طریقے سے عمل کررہے ہیں ۔ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ حکومت کی گائیڈ لائن جاری کئے جانے کے بعد سے آج تک قربانی کے تعلق سے کئی میٹنگیں ہونے کے باوجود یہ صاف نہیں ہوسکا کہ قربانی کا کیا طریقہ ہوگا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ ایک طرح سے اس انداز میں باتیں کی گئیں جس سے مسلمانوں میں قربانی کے تعلق سے آس پیدا ہوئی کہ وہ بغیر رکاوٹ کے سوشل ڈ سٹینسنگ اور دیگر ہدایات کا خیال رکھتے ہوئے قربانی کر سکیں گے لیکن عملاً کچھ نہیں کیا گیا اور عین وقت پر مسئلے کو الجھا دیا گیا۔قربانی کے تعلق سے ان تمام مسائل کا اثر جانوروں کی قیمتوں پر بھی پڑا اور ایک طرح سے لوگوں کو ایک کے بجائے ۱۰؍دے کر جانور خریدنے پر مجبور ہونا پڑا۔اسی کے ساتھ بھوک پیاس اور طویل سفر کے سبب کئی جانور مر گئے تو کچھ بیمار پڑ گئے۔
لوگوں کو دشواریوں کا سامنا
  غلام وارث نے کہا کہ کورونا‌کی وبا ءکے تعلق سے ہرطرح سے احتیاط برتی جارہی ہے لیکن‌ قربانی کے تعلق سے حکومت کا رویہ انتہائی پریشان کن تھا۔ان کے مطابق اگر پہلی ہی میٹنگ میں صاف کردیا گیا ہوتا تو لوگ اس قدر پریشان نہ ہوتے۔غلام وارث نے پریشانی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ بکرے نہ ملنے کے سبب انہوں نے اپنے آبائی وطن بارہ بنکی میں بڑے جانور کانظم کروایا تاکہ یہ فریضہ ادا ہوجائے۔مرغوب احمد سلمانی نے بھی اسی طرح کی پریشانی کا ذکرکیا اور یہ بتایا کہ جانور اتنے مہنگے تھے کہ خریدنا دشوار تھا اور ایک ایک بکرے پر ۱۰۔۱۰؍ گاہک ٹوٹ پڑ رہے تھے جس کا فائدہ تاجروں نے اٹھایا۔
 محمود خان‌ نام کے نوجوان نے بتایا کہ ان کے گھر میں ‌ یہ پہلا موقع ہوگا جب قربانی کے تعلق سے حکومت کے پیدا شدہ مسائل کے سبب بکرا خریدنا ممکن نہ ہوسکا اور بڑے جانور میں ‌حصہ لے کر یہ مقدس فریضہ ادا کیا گیا۔یاد رہے کہ دیگر لوگوں ‌نے بھی اسی طرح مختلف پریشانیاں بتائیں اور حکومت سے ناراضگی کا اظہار کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK