برکینا فاسو میں انتہا پسندوں کا حملہ، ۱۶۰ ؍ افراد ہلاک، سیکڑوں زخمی

Updated: June 09, 2021, 8:17 AM IST | washington

اب تک کسی انتہا پسند گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی ، وسائل کی کمی کے سبب زخمیوں کے علاج میںپریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

urkina Faso Army Lacks Resources (File Photo)
برکینا فاسو کی فوج کے پاس وسائل کی کمی ہے (فائل فوٹو)

تاخیر سے ملنے والی اطلاع کے مطابق افریقی  ملک برکینا فاسو میں نائیجریا کی سرحد  پر ایک گائوں میں انتہا پسندوں نے حملہ کر دیا جس میں ۱۶۰؍ لوگوں کی موت ہو گئی ہے۔  یہ واقعہ ۲؍ روز قبل پیش آیا تھا  لیکن اس میں ہلاکتوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔  پولیس کی تفتیش میں اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ  یہ حملہ کس نے اور کیوں کیا تھا۔ نہ ہی اب تک کسی انتہا پسند گروپ نے اس  حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔  البتہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس میں داعش کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ 
  اطلاع کے مطابق برکینا فاسو کے  شمالی حصے میں واقع قصبے سولحان میں یہ واقعہ پیش آیا ہے جس میں اب تک ۱۶۰؍ لوگ مارے جا چکے ہیں۔ حکومت نے  تین دن تک سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔ریڈکراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے بتایا ہے کہ مقامی اسپتالوں پر زخمیوں کے علاج معالجے کیلئے بہت دباؤ ہے جس کے پیش نظر ریڈکراس نے حکام کی درخواست پر شمالی قصبے ڈوری میں طبی ساز و سامان بھیج دیا ہے۔انٹرنیشنل کمیٹی فار دی ریڈ کراس کے برکینا فاسو کیلئے سربراہ لوریٹ سوگی نے بتایا کہ ہم نے فوری طور پر ڈوری میں نصف ٹن طبی ساز و سامان بھیج دیا ہے جو زیادہ تر پٹیوں، ٹیکوں اور دردکش دواؤں پر مشتمل ہے۔ ان چیزوں کی انہیں اشد ضرورت تھی۔
  واضح رہے کہ برکینا فاسو میں ہلاکت خیز حملوں کی ابتدا ۲۰۱۵ء  میں القاعدہ اور داعش سے منسلک مسلح گروہوں کے ساتھ مقامی آبادیوں کے درمیان کشیدگی کے نتیجے میں ہوئی تھی۔تاہم  مارچ ۲۰۲۰؍ اور اپریل ۲۰۲۱ءکے درمیانی عرصے میں ان حملوں میں ڈرامائی طور پر کمی  آئی، لیکن اس سال اپریل کے آغاز سے ہی دوبارہ حملوں نے زور پکڑ لیا ہے۔ اور اب تک سات بڑے حملے ہو چکے ہیں۔برکینا فاسو کے ایک سیکوریٹی تجزیہ کار اور فوج کے سابق عہدے دار محمدو سوادوگو نےکہا کہ یہ حملہ مسلح دہشت گرد گروپوں کی طرف سے اپنی طاقت کا مظاہرہ ہے۔ وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ان کا صوبے یاگا اور خاص طور پر سولحان پر کنٹرول ہے۔ وہ گزشتہ ایک برس سے اس علاقے کو فتح کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔سولحان کے علاقے میں سونے کی کانیں ہیں اور دہشت گرد گروپ اکثر اوقات رقم بٹورنے کیلئے یہاں کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔برکینا فاسو کی فوج کے پاس وسائل بہت محدود ہیں ۔ اس لئے ان کی مدد کی خاطر فرانس اور امریکہ کی فوجیں یا تعینات ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK