کسانوں کا دہلی کو جذباتی الوداع ، جگہ جگہ خیر مقدم

Updated: December 12, 2021, 9:45 AM IST | new Delhi

فتح کے جذبے سے سرشار کسان ڈھولک کی تھاپ پر ناچتے گاتے واپس ہوئے ، متعدد جگہوں پران پر پھولوں کی برسات کی گئی ، کئی کسان آبدیدہ ہو گئے

Farmers are returning with the same dignity with which they came to Delhi. (Photo: PTI)
کسان جس شان سے دہلی آئے تھے اسی شان سے واپس بھی ہو رہے ہیں ۔ (تصویر : پی ٹی آئی )

 مرکزی حکومت کے زرعی قوانین کو واپس لینے کے بعد  گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے احتجاج کررہے کسان  سنیچر کو بالآخر اپنے گھروں کو لوٹنا شرو ع ہو گئے ہیں لیکن یہ واپسی  بہت سے کسانوں کے لئے اتنی آسان نہیں ہے کیوں کہ ایک سال سے زیادہ عرصے تک دہلی کی سرحدوں پر ٹکے رہنے کی وجہ سے یہ جگہیں ان کے لئے دوسرا گھر بن گئی تھیں۔  اسی وجہ سے جب وہ واپس ہوئے تو اقتدار کا خمار اتاردینے کی خوشی کے ساتھ ساتھ اپنے مطالبات منوانے کی خوشی تو ان کے چہروں سے عیاں تھی لیکن  دہلی کو چھوڑ کر جانے کا غم بھی ان کے ہنستے ہوئے چہروں سے صاف ظاہر ہو رہا تھا ۔ 
کسانوں پر پھولوں کی بارش  
 اس سے قبل ٹکری بارڈر سے روانہ ہونے سے قبل متحدہ کسان مورچہ کے نمائندوں جگجیت سنگھ دلیوال، کامریڈ اندرجیت سنگھ اور حنان ملا نے مختلف کسان گروپوں کے عہدیداروں کو جدوجہد میں ان کی حمایت کے لئے اعزاز سے نوازا۔ زرعی قانون واپس لینے کی خوشی میں کسان  ڈھول کی تھاپ پر گاتے اور ناچتے واپس ہو رہے ہیں۔ دہلی کی حدود سے باہر نکل جانے کے بعد ان پر  طیاروں سے پھولوں کی بارش بھی کی گئی  اور جگہ دیگر کسانوں کی جانب سے ان کا خیر مقدم کیا جارہا ہے۔ کسانوں کی واپسی کی وجہ سے  دہلی سے ہریانہ ہوتے ہوئے پنجاب کی طرف جانے والا  ہائی وے کسانو ں کے جتھوں اور ان سے لگنے والے نعروں سے گونج رہا ہے۔   ہر چند کہ سنیکت کسان مورچہ کی  ہدایت  پر ٹول پلازہ پر بیٹھے کسان ۱۵؍ دسمبر تک اپنی جگہ پر ہی  رہیں گے۔
جگہ جگہ کسانوں کی خدمت کے جذبہ کے نظارے
 ٹکری بارڈر کے کسان چوک سے لے کر ہریانہ کے آخر میں ڈبوالی تک قومی شاہراہ نمبر ۹؍ پر روہڑ، مدینہ، مییڑ ، ننداری، بہاؤالدین اور کھوئیاں ملکانہ ٹول پلازہ پر دھرنا دینے والے کسانوں کے ساتھ  اس سڑک کے گائوں میں کسان دہلی سے واپس ہونے والے کسانوں پر پھول برسانے  کےعلاوہ  دودھ پلانے ، کھانا کھلاکر استقبال کر رہے ہیں۔  دہلی سے واپس آنے والے کسانوں کے لیے مٹھائی اور دودھ کے لنگر  لگے ہوئے ہیں، اس دوران خواتین بھی گیت گا کر کسانوں کا استقبال کر رہی ہیں۔گھر وں کو لوٹنے والے کسانوں کے ٹریکٹروں میں بڑے بڑے  اسپیکر لگائے گئے ہیں جن پر نوجوان کسان پنجاب، ہریانہ اور راجستھان کے میوزک فنکاروں کے گیت گاتے ہوئے، زرعی قوانین کے حوالے سے کسانوں کے مفاد میں بنائے گئے گیت گاتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ان کی وجہ سے پورے راستے جشن کا سماں محسوس ہو رہا ہے۔کچھ کسانوں نے بتایا کہ انہیں دہلی  چھوڑتے ہوئے واقع دلی  تکلیف پہنچی ہے لیکن وہ  اب واپس آکر اپنے گھر بار سنبھالنا چاہتے ہیں۔
کسان لیڈروں کا بھی خیر مقدم 
 پنجاب اور ہریانہ کے سینئر کسان لیڈر جوگیندر سنگھ اوگرا، رولو سنگھ مانسا، کام سوارن سنگھ ورک، پرہلاد سنگھ بھروکھیڑا، وریندر سنگھ ہوڈا، لکھویندر اولکھ، روشن سچن، گرنام جھبر اور جسبیر سنگھ بھاٹی سمیت کئی رہنما موجود ہیں۔ راستے میں کسان ان نمائندوں کو پھول اور شربت پیش کر کے ان کی جدوجہد پر اظہار تشکر کر رہے ہیں۔ نیشنل ہائی وے نمبر۹؍ پر ہزاروں ٹریکٹروں کے قافلوں کے چلنے سے کئی مقامات پر ٹریفک جام ہو گیا۔ قافلے میں ہریانہ کے روہتک، بھیوانی، حصار، فتح آباد اور سرسا اضلاع کے ۲۶؍کسان تنظیموں  سے وابستہ افراد شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پنجاب کے مانسا، بھٹنڈہ اور فاضلکا، راجستھان کے شری گنگا نگر اور ہنومان گڑھ اضلاع کے کسان بھی شامل ہیں۔
راکیش ٹکیت نےپہلے جتھے کو ہری جھنڈی دکھائی 
  کسانوں نے اپنے گھروں کو لوٹنے سے پہلے سنگھو، ٹکری اور غازی پور سرحدوں پر فتح مارچ کیا۔ کسانوں کولوٹنے سے پہلے اپنے خیمے توڑتے، علاقے کی صفائی کرتے اور واپسی سے قبل جذباتی الوداع کرتے ہوئے دیکھا گیا۔کسانوں کے جانے کے بعد بیڑیکیڈ ہٹادئے جائیں گے اور سڑکوں کو ٹریفک کے لیے صاف کر دیا جائے گا۔دریں اثناء کسان  لیڈرراکیش ٹکیت نے غازی پور سرحد پر کہا کہ اس عمل میں مزید کچھ دن لگیں گے اور وہ خود ۱۵؍ دسمبر کو واپس آئیں گے۔ اس دوران انہوں نے سنگھو بارڈر سے واپس جانے والے کسانوں کے پہلے جتھے کوہری جھنڈی دکھائی ۔ اس دوران ٹکیت کومٹھائی کھلاکر اور پھول پیش کرکے دیگر کسانوں نے خیر مقدم کیا۔ 
 عام کسا ن جذباتی ہوگئے 
  سنگھو باڈر پر اپنا خیمہ خالی کررہے پنجاب کے کسان گرویندر سنگھ نے کہا کہ ہم نے فتح حاصل کرلی ہے اور اب ہم واپس تو جارہے ہیں لیکن ہمیں نہیں معلوم تھا کہ یہ واپسی ہمارے لئے اتنی مشکل ہو گی کیوں کہ اس جگہ سے ہمیں ایک لگائو ہو گیا تھا جو اب واپس جاتے ہوئے دل کو کچوکے لگارہا ہے۔بھٹنڈہ کی  ۶۰؍ سال کی کسان ہرجیت کور نے کہا کہ ہم نے واپسی سے قبل ہون کیا اور اب بہت بھاری دل کے ساتھ یہاں سے واپس ہو رہے ہیں۔ باقی اور متعلقہ خبر صفحہ ۴؍ پر ملاخطہ کریں

kisan Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK