Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستانی شیئر بازار میں ایف آئی آئی کی واپسی ممکن: ماہرین

Updated: May 24, 2026, 4:15 PM IST | Mumbai

ماہرین کے مطابق روپے میں استحکام اور آمدنی میں اضافے کی وجہ سے غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (ایف آئی آئی) کی ہندوستانی شیئر بازار میں واپسی ہو سکتی ہے۔

Share Market.Photo:INN
شیئر بازٓار۔ تصویر:آئی این این

ماہرین کے مطابق روپے میں استحکام اور آمدنی میں اضافے کی وجہ سے غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (ایف آئی آئی) کی ہندوستانی شیئر بازار میں واپسی ہو سکتی ہے۔اس وقت ایف آئی آئی ہندوستانی شیئر بازار میں خالص فروخت کنندہ بنے ہوئے ہیں اور مئی کے آغاز سے اب تک انہوں نے۳۰۳۷۴؍ کروڑ روپے کی فروخت کی ہے۔  ۲۰۲۶ء کے آغاز سے اب تک غیر ملکی سرمایہ کار۲۲۲۳۴۳؍ کروڑ روپے ایکویٹی بازاروں سے نکال چکے ہیں۔ اس سے پہلے ۲۰۲۵ء میں بھی ایف آئی آئی خالص فروخت کنندہ تھے اور اس دوران انہوں نے۱۶۶۲۸۳؍ کروڑ روپے کی فروخت کی تھی۔
جیوجیت انویسٹمنٹس لمیٹڈ کے چیف انویسٹمنٹ اسٹریٹجسٹ ڈاکٹر وی کے وجئے کمار نے کہا’’اہم سوال یہ ہے کہ ہندوستان میں غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کار (ایف آئی آئی) کب خریداری شروع کریں گے۔ اس مسلسل فروخت کے پیچھے بنیادی وجوہات کو سمجھنا ضروری ہے۔ ان میں ہندوستان میں آمدنی میں سست رفتار اضافہ، دیگر بازاروں میں آمدنی میں بہتر رفتار اور امکانات، بانڈ ییلڈ کی بلند سطح (خاص طور پر امریکہ میں) اور روپے کی قدر میں کمی شامل ہیں۔‘‘
تجزیہ کار نے کہا،’’ان میں سے کم از کم کچھ عوامل میں ہندوستان کے حق میں تبدیلی آنا ضروری ہے، تبھی ایف آئی آئی ہندوستانمیں خریداری شروع کریں گے۔‘‘ بڑے شیئرز میں فروخت کے باوجود غیر ملکی سرمایہ کار چھوٹے اور درمیانے درجے کے شیئرز میں خریداری کر رہے ہیں، جہاں ترقی اور آمدنی کے امکانات بہتر ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آمدنی ہی بنیادی عنصر ہے۔

یہ بھی پڑھئے:جاپان: نصف سے زائد معمر خواتین کا تعلقات کیلئے انسانوں کی بجائےاے آئی سے مشورہ


تجزیہ کار نے کہاکہ ’’چوتھی سہ ماہی کے نتائج سے ایک اہم بات سامنے آئی ہے کہ آمدنی میں بہتری کے آثار نظر آ رہے ہیں۔‘‘گھریلو ادارہ جاتی سرمایہ کار (ڈی آئی آئی) گزشتہ ہفتے کے تمام پانچ تجارتی سیشنز میں خالص خریدار رہے، جن کا خالص سرمایہ بہاؤ۱۶۹۵۰؍ کروڑ روپے رہا۔

یہ بھی پڑھئے:تھلاپتی وجے: ایک فلمی فنکار جو خوابوں کو تعبیر عطا کرنے کا ہنر جانتا ہے


ادھر، جیفریز کے مطابق روپے کی حالیہ کمزوری کا تعلق تیل کی قیمتوں یا کرنٹ اکاؤنٹ خسارے سے کم اور گھریلو سرمایہ کاروں کی جانب سے ایس آئی پی کے ذریعے مسلسل شیئر خریداری سے زیادہ ہو سکتا ہے۔ ایک نوٹ میں عالمی بروکریج نے کہا کہ ہندوستانی شیئرز میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی بھاری فروخت، مضبوط گھریلو سرمایہ بہاؤ کے ساتھ مل کر، روپے پر دباؤ کی ایک بڑی وجہ بن کر سامنے آئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK