افغانستان پرطالبان کے قبضے کےبعدوہاں سے نقل مکانی کرنے والی فیملی کا امریکہ میں پہلا رمضان

Updated: April 15, 2022, 11:00 AM IST | Agency | Washington

خوست،افغانستان سے تعلق رکھنے والے سابق افغان فوجی، ولایت خان، اپنے عزیزو رشتے داروں کو پیچھے چھوڑ آئے ہیں،وہ افغانستان میںدرپیش خطرات سے تو محفوظ ہیں مگر ماہ مبارک میں اپنوں سے دوری کا احساس انہیں اداس کیے دیتا ہے

An Afghan family living in the United States during Iftar.Picture:Agency
امریکہ میں مقیم ایک افغان فیملی افطار کے وقت تصویر: ایجنسی

:نیو میکسیکو کے شہر لیس کروسیز کے ایک اپارٹمنٹ میں ولایت خان صمد زئی، ان کی اہلیہ اور چھ بچے، فرشی دسترخوان پر روزہ افطار کرنے کے انتظار میں بیٹھے ہیں جبکہ سورج دور ریگستان میں پہاڑوں کے پیچھے غروب ہو رہا ہے۔افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد اپنا وطن چھوڑنے کے بعد سے یہ ان کا پہلا ماہِ رمضان ہے جو وہ اپنوں سے دورگزار رہے ہیں۔کھجور اور پانی سے افطاری اور نمازِ مغرب کے بعد بھنڈیوں اور پھلیوں کے ساتھ نان۔ولایت خان اور ان کے اہلِ خانہ اس سادہ کھانے پر شکر کے ساتھ مطمئن ہیں۔ خوست،افغانستان سے تعلق رکھنے والے سابق افغان فوجی، ولایت خان،  اپنے عزیزو رشتے داروں کو پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔وہ افغانستان میںدرپیش خطرات سے تو محفوظ ہیں مگردینی اہمیت کے اس مہینے میں اپنوں سے دوری کا احساس انہیں اداس کیے دیتا ہے۔ان کے الفاظ میں’’وہ میرے بغیر اداس ہیں اور میں ان کے بغیر‘‘۔ مگر ولایت خان جیسے اور بہت سے افغان خاندانوں نے طالبان حکمرانوں کے تسلط سے دور امریکہ پہنچ جانے کے بعد شکر کے اس احساس کے ساتھ رمضان کا آغاز کیا ہے کہ وہ محفوظ ہیں۔ تاہم یہ خیال انہیں بے چین رکھتا ہے کہ ان کے اپنے عزیز افغانستان میں طالبان کے جبری احکامات کے تحت زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ایسوسی ایٹیڈ پریس کے مطابق میکسیکو کی سرحد  سے ۶۴؍ کلو میٹر کے فاصلے پرمیٹروپولیٹن علاقے اور پھر ریگستان میں قائم یونیورسٹی کے علاقے میں آکرآباد ہونے والے ہزاروں افغان شہریوں میں ایک احساس مشترک ہے کہ عارضی امیگریشن اور کم اجرت والی ملازمتوں کے ساتھ جب ان کا اپنا گزارا ہی مشکل ہے تو وطن میں اپنے عزیزوں کی مدد وہ کیسے کر سکتے ہیںاور اگر وہ خود یہاں امریکہ پہنچ گئے اور ان کے بیوی بچے افغانستان میں رہ گئے تو دوری اور اداسی کا احساس اور بھی گہرا ہو جاتا ہے۔
 عبدالامیر قاری زادہ سابق افغان فلائٹ انجینئر ہیں اور وہ لمحہ بار بار یاد کرتے ہیں جب شام ساڑھے چار بجے انہیں کہا گیا کہ وہ کابل ائیرپورٹ سے روانہ ہو جائیں۔ افراتفری کا عالم تھا اور ان کے پاس بالکل وقت نہیں تھا کہ وہ اپنی بیوی اور۵؍بچوں کو اپنے ساتھ لا پاتے۔سات ماہ سے زیادہ ہو گئے۔وہ اب بھی افغانستان میں ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’جہاز تو محفوظ ہو گیا مگر میرے بیوی بچے محفوظ نہیں ہیں۔‘‘یہیں قیس شریفی بھی ہیں جو پیچھے رہ گئے اپنے بچوں کی یاد میں راتوں کو سو نہیں پاتے۔ان کی ایک بیٹی تو ان کے افغانستان چھوڑنے کے ۲؍ ماہ بعد پیدا ہوئی ہے۔کہتے ہیں وطن سے دوری اور اپنوں سے جدائی کے درد میں مذہب، آسودگی کا بڑا ذریعہ بن جاتا ہے۔رمضان کا یہ مہینہ عبدالامیر اور قیس شریفی کے لیے اس وقت کچھ مسکراہٹیں لے آتا ہے جب قریبی مسجد میں درس و تدریس کے ڈائریکٹرعراقی نژاد پروفیسر راجہ شِندی انہیں دعوت دیتے ہیں کہ وہ قریب ہی واقع نیو میکسیکو سٹیٹ یونیورسٹی میں مفت افطارکے لیے اپنا اندراج کروا دیں جہاں ہر رات ایک بڑے ہال میں سنہرے غبارے، ’رمضان کریم ‘کے الفاظ کے ساتھ ان کا استقبال کرتے ہیں۔ ایسوسی ایٹیڈ پریس کے مطابق مسجد کی طرح لیس کروسیز میں ایل کیلویریوچرچ اوریہودیوں اور مسیحیوں کی تنظیمیں جو ملک بھر میں اپنے نیٹ ورک کے ذریعے پناہ گزینوں کی آبادکاری میں مدد دیتی ہیں، افغان شہریوں کو رہائش اور ملازمت کی تلاش، انگریزی زبان کی کلاسوں اور ان کے بچوں کیلئے اسکولوں کے انتظام میں مدد دیتی رہی ہیں۔وہ اس حقیقت سے نالاں ہیں کہ پناہ لینے والے افغان خاندانوں کی اکثریت کو امریکہ میں مستقل قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے حالانکہ وہ نائن الیون کے بعد افغانستان میں امریکی فوج یا ان کے افغان اتحادیوں کیلئے خدمات انجام دے چکے ہیں۔اگر انہیں قانونی حیثیت حاصل ہو جائے تو انہیں بہت سی حکومتی سہولتوں تک رسائی مل جائے اور ان کیلئے ملازمت کا حصول اور اپنے عزیزوں سےدوبارہ ملاپ بھی آسان ہو جائے۔
 عبدالامیر قاری زادہ اب بھی اپنی والدہ کے ہاتھ کی بولانی کو یاد کرتے ہیں۔ میوؤں سے بھری تلی ہوئی روٹی جو بڑے سے سموسے کی طرح لگتی ہے۔شیرخان نجات کی والدہ ہر بار روتی ہیں جب وہ اوکلا ہوما میں اپنے نئے گھر سے جہاں ان کا بچہ بھی پیدا ہوا، ان سے فون پر بات کرتے ہیں۔مذہب سے زیادہ یہ ایک ثقافتی روایت ہے کہ افغانستان ہی نہیں تقریباً تمام مسلم گھرانوں میں رمضان میں افطار اور سحر کا خاص اہتمام ہوتا ہے اور گھر کے تمام لوگ ضرور ساتھ مل بیٹھتے ہیں۔ یہ رونق ان گھرانوں میں زیادہ ہوتی ہے جہاں مشترکہ خاندانی نظام ہے اور سب مل کر رہتے ہیں۔ٹیکساس میں آکر آباد ہونے والے داؤد فارمولی بھی اپنے گھر کی اس رونق کو یاد کرتے ہیں جہاں ان کے والد، والدہ، بہن بھائی اور خود ان کے بیوی بچے ایک تین منزلہ مکان میں مل کر رہتے تھے۔
 روزے کی حالت میں ان کے والد کا افطار کا انتظار، ان کی والدہ کی سرزنش اور ان کے بچوں کی گھر بھر میں کھیل کود ان کیلئے یاد بن کر رہ گئی ہے۔ کابل میں امریکی سفارتخانے میں مترجم کے فرائض ادا کر نے والے داؤد فارمولی کہتے ہیں اگرچہ ان کی بیوی کیلئے اب بھی زندگی کافی مشکل ہے کیونکہ وہ زبان نہیں جانتیں مگر انگریزی سیکھ رہی ہیں۔ لیکن آس پاس مسلم گھرانوں کی موجودگی اور مارکیٹ میں حلال گوشت کی دستیابی غنیمت ہے۔ ۳۷؍سالہ سابق فوجی خیال محمد سلطانی اپنی بیوی نور بی بی اور ۶؍ بچوں کے ساتھ ایک نئےاپارٹمنٹ میں رہتے ہیں مگر پھر بھی یہ انہیں گردیز میں اپنے گھر جیسا نہیں لگتا جو سیب اور انار کے درختوں سے گھرا ہوا تھا جہاں ایک اپنائیت کا احساس رہتا تھا۔مگر وہ خوش ہیں کہ ان کے بچے ۱۱؍ سالہ بیٹا اور ۹؍ اور ۸؍ بر س کی دو بیٹیاں اسکول جا رہی ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ وہ ہر حال میں خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ یہ ان کا فرض بھی ہے اور عقیدہ بھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK