فلسطینیوں کو جبراً گھروں سےبے دخل کرنا عالمی قوانین کے خلاف ہے

Updated: June 03, 2021, 6:53 AM IST | gaza

یونائٹیڈ نیشنز ریلیف اینڈ ورک ایجنسی کے سرابرہ کی شیخ جراح میں بے گھر کئے گئے فلسطینیوں کو ان کے حقوق دلانے کی یقین دہائی

General Philip Lazarini talking to the media in Sheikh Jarrah (Agency)
جنرل فلپ لزارینی شیخ جراح میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے (ایجنسی)

بیت المقدس کے علاقے شیخ جراح کے دورے پر آئے اقوام متحدہ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا جبری طور پر فلسطینیوں کو اُن کے گھروں سے بے دخل کرنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ ایک عالمی نیوز ایجنسی کے مطابق اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کے نمائندوں نے بیت المقدس کے قریبی علاقے شیخ جرح کا دورہ کیا اور عارضی طور پر قائم کئے گئے ان  کیمپوں میں گئے جہاں فلسطینیوں نے انہیں اسرائیلی مظالم سے آگاہ کیا۔
 اس موقع پر یو این آر ڈبلیو اے کے کمشنر جنرل فلپ لزارینی نے کہا کہ شیخ جرح کے علاقے سے فلسطینیوں کی بے دخلی عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اسرائیل کی غاصبانہ ذہنیت کی عکاس ہے۔ میں اس بیدخلی کو عالمی سطح پر اُٹھاؤں گا۔فلپ لزارینی نے مزید کہا کہ فلسطینی پناہ گزینوں کیلئے اقوام متحدہ کی ایجنسی کے سربراہ کی حیثیت سے ان کا کام فلسطینی پناہ گزینوں کی حفاظت اور مدد کرنا ہے اور میری اولین ترجیح بھی فلسطینیوں کو صدمے اور نقصان کے ایک دور سے بچانا ہے۔
 اقوام متحدہ کے نمائندوں نے فلسطینی پناہ گزینوں کو ہر ممکن تعاون اور مدد کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ ان کیلئے ان کے گھروں  پر  واپس جانے کیلئے اقدامات کئے  جائیں گے اور اس حوالے سے عالمی قوتوں سے بھی بات کی جائے گی۔
  واضح رہے کہ یو این آر اے ڈبلیو یہ وہ ادارہ ہے جسے اقوام متحدہ نے ۱۹۴۹ء میں جنگ زدہ علاقوں میں متاثرہ افراد کی امداد اور ان کے حقوق کی بحالی کو یقین بنانے کے تعلق سے کام کرنے کیلئے  قائم کیا تھا۔ یہ ادارہ فلسطین میں مسلسل کام کرتا رہا لیکن  گزشتہ ۷۲؍ سال میں ایک با ر بے گھر ہوجانے والے کسی بھی فلسطینی کو اس کی زمین یا گھر دوبارہ نہیں مل سکی۔  اس بار بھی اپریل کے مہینے میں صہیونی فوج نے بیت المقدس کے قریب واقع  شیخ جراح علاقے میں موجود فلسطینی بستی کو جبراً خالی کرواکر  وہاں یہودیوںکو لاکر بسانا شروع کیا۔ جب فلسطینیوں نے اس کے خلاف احتجاج کیا تو انہیں کچلنے کیلئے بیت المقدس  میں نمازیوں پر فائرنگ کی گئی۔ اسی کے بعد حماس نےاسرائیل کو   وارننگ دی تھی کہ وہ ان زیادتیوںکو روک دے ورنہ اس  پر راکٹ داغے جائیں گے۔ اور بالآخر اس نے ۱۰؍ مئی سے راکٹ داغنے کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ یہ بھی عجیب بات ہے کہ جب اسرائیل  شیخ جراح میں فلسطینیوں پر ظلم کر رہا تھا اس وقت کوئی وفد ان کی مدد کرنے یا خیریت دریافت کرنے نہیں پہنچا تھا لیکن جنگ کے بعد جب اسرائیل کو ہزیمت اٹھانی پڑی تو اقوام متحدہ کے کارندے یہاں پہنچے۔ 

palestine Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK