سابق مرکزی وزیر اورسینئر لیڈر جسونت سنگھ کا انتقال

Updated: September 28, 2020, 7:10 AM IST | Agency | New Delhi

گزشتہ ۶؍سال سے کوما میں تھے ،وزیر اعظم مودی نے اظہار تعزیت کیا ، واجپئی حکومت کے دوران مالیات ، دفاع اور محکمہ خارجہ کی اہم وزارت سنبھالیں،آرمی میں میجرسےمرکزی وزیر تک کا سفر طے کیا

Jaswant Singh - Pic : PTI
سابق مرکزی وزیر جسونت سنگھ ۔(تصویر: پی ٹی آئی

سابق مرکزی وزیراور بی جےپی کے اہم چہروں میں شمار ہونے والے جسونت سنگھ کا اتوار کی صبح انتقال ہو گیا۔ ۸۲؍ سال کے جسونت سنگھ گزشتہ ۶؍ سال سے صاحب فراش تھے اور کوما میں تھے۔ہندوستانی فوج سے سبکدوش جسونت سنگھ بی جے پی کے شریک بانی تھے۔ وزیر اعظم نریندر مودی سمیت  متعدد اہم شخصیات نے جسونت سنگھ کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔وزیر اعظم مودی نے ٹویٹ کیاکہ ’’جسونت سنگھ کو ان کی فکری صلاحیتوں اور ملک کی خدمت کے لئے یاد کیا جائے گا۔ انہوں نے راجستھان میں بی جے پی کو مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ غم کی اس گھڑی میں ان کے اہل خانہ اور حامیوں سے تعزیت۔‘‘وزیر اعظم نےاگلے ٹویٹ میں لکھا کہ ’’جسونت سنگھ نے پہلے ایک سپاہی کی حیثیت سے اور بعد میں سیاست سے طویل وابستگی کے دوران ملک کی خدمت کی ۔ اٹل جی کی حکومت کے دوران انہوں نے اہم محکموں کو سنبھالا اورفائنانس ، دفاع اور خارجی امور کی دنیا میں بہترین نقوش چھوڑے۔‘‘وزیر اعظم نے  جسونت سنگھ کے فرزند مانویندر سنگھ سے فون کرکے بھی گفتگو کی اور انتقال پر تعزیت کا اظہارکیا۔  
  جسونت سنگھ نے۱۹۶۰ء میں آرمی میں میجر کے عہدے سے استعفیٰ دے کر سیاسی سفر کا آغاز کیا تھا۔ وہ اٹل بہاری باجپئی کی زیرقیادت این ڈی اے حکومت میں اپنی سیاسی زندگی کے عروج پر تھے۔۱۹۹۸ء سے ۲۰۰۴ء  تک این ڈی اے کی حکمرانی کے دوران، جسونت سنگھ نے خزانہ، دفاع اور خارجہ امور کی اہم  وزارتیں سنبھالیں۔
 جسونت کی سیاسی زندگی کافی نشیب فراز کا شکار رہی اور اس دوران کو کئی تنازعات کا بھی سامنا رہا۔ ایئر انڈیا کے اغوا  کئے گئے طیارے کے مسافروں کو بچانے کے لئے کئی دہشت گردوں کے ساتھ۱۹۹۹ء میں قندھار جانے پر ان پر سخت تنقید کی گئی تھی۔ این ڈی اے کی حکمرانی کے دوران جسونت سنگھ ہمیشہ اٹل بہاری واجپئی کے قریبی رہے۔ وہ برجیش مشرا اور پرمود مہاجن کے ساتھ واجپئی کی ٹیم کے ایک اہم رکن تھے۔ بعد میں وہ۲۰۰۹ء تک راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کےلیڈر رہے جسونت سنگھ کو اگست۲۰۰۹ء  میں اپنی کتاب `جناح: تقسیم ہند اور آزادی ‘ میں پاکستان کے بانی محمد علی جناح کی تعریف کرنے پر بی جے پی سے نکال دیا گیا تھالیکن وہ پھر پارٹی میںواپس آگئے تھے۔۲۰۱۴ء  میں بی جے پی نے انہیں باڑمیر سے ٹکٹ نہیں دیا تھا۔ اس سے ناراض ہوکر انہوں نے پارٹی چھوڑ کر آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑا مگر ہار گئے۔ اسی برس انہیں سرمیں شدید چوٹ آئی، تب سے وہ کوما میں تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK