فرانس کے ماہی گیروں کاسخت احتجاج ، انگلینڈ کی کشتیوں کو روکے رکھا

Updated: November 28, 2021, 7:20 AM IST | Washington

بریگزٹ کے بعد ماہی گیری کے لائسنس جاری نہ کرنے کے خلاف احتجاج کیا گیا

france fishermen intercept English ships
فرانس کے ماہی گیروں نے انگلینڈ کے جہاز روک لئے تھے

:فرانس کے ماہی گیروں نے جمعہ کو انگلینڈ کی سمندری گزرگاہ پر واقع فرانسیسی بندرگاہوں پر کشتیوں کی آمد و رفت اور یورپی ٹنل کی جانب مال برداری کو کچھ دیر تک روکے رکھا، جس کا مقصد انگلینڈ کے لئے اشیا کی رسد میں خلل ڈالنا تھا۔
یہ احتجاج بریگزٹ کے بعد ماہی گیری کے لائسنس جاری نہ کیے جانے کے معاملے پر احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے تھا۔دونوں ہمسایوں کے مابین یہ ایک نیا تنازع ہے، جو پہلے ہی بدھ کے روز کیلے کے مقام پر کشتی ڈوبنے کے واقعہ پر ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں، جس میں کم از کم 27 پناہ گزیں ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ سمندری گزرگاہ جہازرانی کا مصروف ترین راستہ ہے۔
فرانسیسی ماہی گیر برطانوی حکومت سے اس بات پر برہم ہیں کہ انھیں انگلینڈ کی آبی حدود میں ماہی گیری کے خاطر خواہ لائسنس نہیں دیے جاتے۔ ساتھ ہی وہ اپنی حکومت سے اس لیے بھی خفا ہیں کہ وہ ان کے حقوق کے دفاع سے قاصر ہے۔ماہی گیری کی صنعت معاشی اعتبار سے خاص حیثیت نہیں رکھتی لیکن علامتی طور پر برطانیہ اور فرانس دونوں کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے۔گزشتہ ہفتے بریٹینی کے علاقے میں فرانس کے وزیر برائے آبی وسائل، انیک  نے اعلان کیا تھا کہ ان ماہی گیروں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا اور انھیں معاوضہ فراہم کیا جائے گا جنھیں لائسنس نہیں ملتے اور جو ماہی گیری کا روزمرہ کا کاروبار نہیں کر پاتے۔ لیکن، اس سے فرانس کی فشریز کی کمیٹیوں کی تسلی نہیں ہوئی اور انھوں نے ان معاملات کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔

france Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK