سائیبیریا کی کان میں گیس کااخراج،۵۲؍افراد ہلاک،درجنوںزخمی

Updated: November 27, 2021, 11:18 AM IST | Agency | Washington

سائبیریا کی ایک کوئلے کی کان میں جمعرات کے روز گیس لیک کے سبب دھماکے کے نتیجے میں کم از کم ۵۲؍ افراد ہلاک ہو گئے ہیں

Ambulances lined up near the mine can be seen.Picture:INN
کان کے قریب قطار میں کھڑی امبولنس گاڑ یا دیکھی جاسکتی ہیں۔ تصویر: آئی این این

سائبیریا کی ایک کوئلے کی کان میں جمعرات کے روز گیس لیک کے سبب دھماکے کے نتیجے میں کم از کم ۵۲؍ افراد ہلاک ہو گئے ہیںجب کہ درجنوں زخمی ہیں۔ درجنوں کان کُن کان کے اندر پھنس کر رہ گئے ہیں۔روسی خبررساں اداروں نےبتایا ہےکہ ہلاک ہونے والوں میں۶؍امدادی کارکن بھی شامل ہیں، جنھیں مدد کیلئے کان کے اندر بھیجا گیا تھا، تاکہ پھنسے ہوئے درجنوں کان کنوں کی امداد کی جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ سابقہ سویت یونین دور کے بعد سے روس میں یہ کان کےحادثے کا بدترین واقعہ ہے۔ علاقائی تفتیشی کمیٹی نے بتایا ہےکہ۳؍ منتظمین کو ، جن میں `لستیانایا نامی کان کے سربراہ اور ان کے نائب شامل ہیں،صنعتی تحفظات کی تدابیر نہ اختیارکرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔اس سے قبل موصول ہونےوالی اطلاعات کےمطابق، کان کے منتظمین نے انٹرفیکس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ جمعرات کی شام امدادی کام کو اس لئے روکنا پڑا چونکہ مزید دھماکوں کا خدشہ تھا اور امدادی کارکنان کو کان سے واپس بلا لیا گیا۔روس کی سرکاری تحویل میں کام کرنے والی `تاس نیوز ایجنسی نے ہنگامی کام سے وابستہ ایک اہلکار کے حوالے سے، جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، اطلاع دی ہے کہ کوئلے کے ذرات میں بھڑک اٹھنے والی آگ نے روشن دان کےحصے کو بُری طرح متاثر کیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے دھویں نے `لستیانایا کی پوری کان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔پیغام رسانی کی ایپلی کیشن، `ٹیلی گرام کے صفحے پر شائع ایک اطلاع میں کیمیروف کے گورنر، سرگئی تسیلیوف نے بتایا ہے کہ حادثے کے وقت کان میںکل ۲۸۵؍ کان کن موجود تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ۳۵؍ کان کن زیر زمین پھنس کر رہ گئے ہیں، جب کہ اس بات کا بھی سراغ نہیں مل پا رہا کہ وہ کس مقام پر پھنسے ہوئے ہیں۔ٹیلی گرام ایپ پر ایک اور پیغام میں تسیلیوف نے بتایا کہ ۴۹؍ افراد کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ اس سے قبل انھوں نے بتایا تھا کہ کل ۶۰؍ افراد زخمی ہیں، جس بات کی نئے پیغام میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK