گوونڈی :ڈیتھ سرٹیفکیٹ کیلئے اہل خانہ ۳؍ تا ۵؍ ہزار روپے دینے پر مجبور

Updated: May 22, 2020, 9:37 AM IST | Kazim Shaikh | Govandi

علاج کے دوران گھروں میں انتقال کرجانے والے افرادکے موت کے سرٹیفکیٹ کیلئے مقامی ڈاکٹر وں پرموٹی رقم لینے کا الزام ۔ ڈاکٹروں کی تنظیم نے پیسے لینے کا اعتراف کیا لیکن زیادہ چارج لینے کی تردید کی

Shivaji Nagar Govandi - Pic : Inquilab
شیواجی نگر گوونڈی ۔ تصویر : انقلاب

 عام بیماریوں میں مبتلا افراد کوروناوائرس کے ڈرو خوف سے پرائیویٹ اور میونسپل اسپتالوں کا رخ نہیں کررہےہیں۔ ایسے کئی مریض   اپنے گھروں میں علاج کے دوران انتقال کرجاتے ہیں جس کے بعد ان کے اہل خانہ کو ڈیتھ سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ انہیں اس کیلئے چارج دینا پڑتا ہے۔ انہوں نے علاقے کے نجی ڈاکٹر وں پرالزام  لگایا ہے کہ وہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ کیلئے ۳ ؍ سے ۵؍ ہزارروپے تک  وصول کررہے ہیں ۔ 
 گوونڈی کے ایک مقامی شخص نے کہا کہ علاقے کے عام مریض اپنے  ہی علاقے میں چھوٹے موٹے  ڈاکٹروں اور  دواخانوں  سے  علاج کرانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ  ان دنوں یہاں گھروں میں ہونے والی اموات کی شرح بڑھ گئی ہے ۔ ایسی صورت میں علاقےکے  ڈاکٹروں سے  ڈیتھ سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ یہاں پر زیادہ تر دواخانے کوروناوائرس کی دہشت سے بند ہیں اور جو ڈاکٹر مطب  چلارہے ہیں، وہ  ڈیتھ سرٹیفکیٹ  دینے کیلئے موٹی رقم کا مطالبہ کرتے ہیں    ۔ بیگن واڑی میں رہنے والے طارق خان نےبتایا کہ تقریباً ۱۵؍ دن سے علاقے میں اموات کی شرح میں اضافہ ہوا ہے ۔مرنے والوں میں زیادہ تر ایسے لوگ ہیں جن کا علاج گھروں میں چل رہا تھا  ۔اہل خانہ کیلئے ان کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ حاصل کر نا مشکل ہورہا ہے جس کیلئے ڈاکٹر کم از کم ۳؍ ہزار روپے لیتے ہیں اور بعض اوقات حالات کو دیکھتے ہوئے اہل خانہ کو  ۵؍ہزارروپے دینے پڑتے ہیں ۔ 
   عبدالباری خان  نامی مقامی شخص کا کہنا ہے کہ کورونا کے ڈر سے معمر افراد عام بیماری کے علاج کیلئے بی ایم سی اسپتالوں میں جانے سے گریز کرتے ہیں۔ لوگوں  میں  یہ  ڈر  پیدا ہوگیا ہے کہ مریض  علاج کیلئے  اسپتال جاتا ہے اور وہاں پر کوروناوائرس سے متاثر ہوتا ہے یا نہیں لیکن  اگر اس کا انتقال ہوگیا تو ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر کورونا مشتبہ لکھ کر دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے  تدفین میں کافی دشواری پیش آتی ہے   اور اس کے گھروالوں کوبھی کوارینٹائن کردیا جاتا ہے ۔
 شیواجی نگر میں مقیم محی الدین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے خوف اوراسپتالوں میں ہونے والی دشواریوں کے پیش نظر زیادہ تر افرادعام بیماریوں کے علاج کیلئے مقامی ڈاکٹروں اور چھوٹے موٹے اسپتالوں سے رابطہ قائم کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان دنوں  علاج نہ ہونے کی وجہ سے   شرح اموات  میں اضافہ ہوا ہے ۔اس کے علاوہ کوروناوائرس کے خوف سے ڈاکٹروں نے دواخانے بھی بندکردیئے ہیں ۔ جوڈاکٹر ڈسپنسریاں کھولتے ہیں ، وہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ دینے میں آنا کانی کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کیلئے لوگوں کو کئی کئی ڈاکٹروں کے چکر لگانے پڑتے ہیں ۔ 
  بیگن واڑی میں مقیم حاجی وکیل انصاری کاالزام ہے کہ گوونڈی میں ڈیتھ سرٹیفکیٹ دینے کیلئے ڈاکٹر کم سے کم ۳؍ ہزار روپے لیتے ہیں ۔ اگر کسی قریبی شخص سے پیسے نہیں لے سکتے توڈاکٹر یہ کہہ کران سے پیسے لینے کی کوشش کرتا ہے کہ اس کے پاس سرٹیفکیٹ کی بک ختم ہوگئی ہے اور دوسرے سے منگوانے کیلئے کچھ پیسے دینے پڑیں گے ۔
 اس ضمن میں گوونڈی میں ڈاکٹروں کی تنظیم ’یونائٹیڈ میڈیکل اسوسی ایشن‘ کے صدر ڈاکٹر شفیع انور خان نے کہا  کہ ’’کچھ ڈاکٹر ڈیتھ سرٹیفکیٹ کیلئے آنے جانے کے سروس چارج کے نام پر ہزار، ڈیڑھ ہزار روپے لیتے ہیں ۔‘‘  انھوں نے یہ بھی کہا کہ’’ چند ڈاکٹروںکی وجہ سے تمام ڈاکٹروں کوبدنام کرنا غلط ہے ۔‘‘ انھوں نے مزیدکہا کہ ’’عوام کی بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں ۔ اگرلوگ اپنا کوئی فیملی ڈاکٹر بناکر اس کے پاس علاج کرائیں تو ایسے حالات میں وہ ان کے کام آئیں گے ۔ علاج کیلئے مریض ڈاکٹر کے پاس کبھی گیا ہی نہیں اور سرٹیفکیٹ لینے کیلئے جب اس کے پاس  جائے گا تو ڈاکٹر اس کا فائدہ اٹھا تے ہیں  حالانکہ یہ  غلط ہے ۔‘‘ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ’’  فی الحال علاقے کے زیادہ تر دواخانے کھل رہے ہیں۔‘‘
     اس سلسلے میں بی ایم سی کےہیلتھ ڈپارٹمنٹ سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہیں ملی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK